Jaam e Noor ya Jaam e Kor By ibrahim Aasi / از قلم ابراہیم آسی

صحافت ایک آزاد میدان ہے ہر ایک کو اصلاح کیلئے دل کی بات کہنے کی آزادی ہے۔ ایم اے اردو کی نصابی کتاب میں صحافت کی تعریف یہ ہے ’’صحافت کے ذریعہ اطلاع اور جانکاری ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہونچائی جاتی ہے، صحافت صرف اطلاع ہی نہیں بلکہ کسی مسئلہ پر رائے عامہ بھی پیش کرتی ہے۔ صحافت سماج کی اصلاح بھی کرتی ہے اور حقائق کو اجاگر بھی، صحافی کا یہ فرض بھی ہوتا ہے کہ کسی حقائق کو نہ چھپائے۔ عبدالسلام خورشید لکھتے ہیں حق سے چشم پوشی کرنے والا صحافی متعصب کہلائے گا۔
سر زمین دہلی سے کئی رسالے شائع ہوتے ہیں اس میں سے ایک رسالہ ’’جام نور‘‘ ہے جس کے ایڈیٹر خوشتر نورانی ہیں۔ اس رسالہ میں اشاعت کیلئے میں نے ایک مضمون ارسال کیا جو ڈاکٹر غلام جابر کی تالیف، خطوط مشاہیر، بنام امام احمد رضا، پر دلائل سے پُر حقیقت پر مبنی مضمون تھا اس میں ڈاکٹر غلام جابر کے لئے اصلاح بھی تھی اور ملّت کے لئے حقائق سے آگاہی بھی تاکہ قوم وملت کسی قسم کے شک و شبہ میں نہ رہیں۔ مضمون ارسال کرنے کے بعد میں نے خوشتر نورانی سے رابطہ کر کے اشاعت کے تعلق سے استفسار کیا تو انہوں نے مہلت مانگی میں نے انہیں مہلت دی پھر رابطہ کیا تو انہوں نے بڑی مایوسی کے انداز میں کہا میں اس مضمون کو چھاپ نہیں سکتا۔ ان کے الفاظ ’’میں چھاپ نہیں سکتا‘‘ سے ان کی مجبوری صاف صاف جھلک رہی تھ۔ ان کی مجبوری کے پیچھے وجوہات کیا ہیں وہ بھی بتانے سے انہوں نے گریز کیا۔
خوشتر نورانی اپنے رسالہ کے صفحہ اوّل پر ایک سلوگن لکھتے ہیں ’’ملت کا ترجمان‘‘ حقیقت یہ ہے کہ یہ رسالہ ملت کا ترجمان نہیں ہے بلکہ چند مخصوص افراد کا ترجمان ہے۔ رسالہ کے بانی نے تو حقیقت میں رسالہ کو ’’جامِ نور‘‘یعنی نور کا پیالہ بنایا تھا۔ لیکن خوشتر نورانی نے اپنی رفتار بے ڈھنگی سے رسالہ کو جام کور، یعنی اندھوں کا پیالہ بنا دیا ہے۔ خوشتر نورانی نے میرے اس مضمون کو شائع نہ کیا جو ملت کا ترجمان اور حقیقت پر مبنی تھا۔ بھلے ہی انہوں نے شائع نہ کرنے کی وجوہات نہ بتائی ہو لیکن قیاس اور قرینہ سے چند وجوہات مجھ پر واضح ہیں۔ ذرائع سے خبر ملی ہے کہ ڈاکٹر غلام جابر اور خوشتر نورانی میں ماضی بعید سے یارانہ ہے۔ شاید اپنی یاری پر صحافتی حقیقت کو قربان کرنا پڑ ہو۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ کتاب ’’خطوط مشاہیر بنام امام احمد رضا‘‘ کے تقسیم کار مکتبہ جام نور ہے۔ بحیثیت تقسیم کار روٹیاں سینکتے ہوئے اچھا خاصا مال اندر کئے ہوں گے۔ ہو سکتا ہے کہ مضمون کو شائع نہ کر کے نمک خوری کا حق ادا کئے ہوں۔ ممکن ہے کہ ڈاکٹر غلام جابر کے ہاتھ میں خوشتر نورانی کی کوئی دکھتی نس ہو یا خفیہ راز ہو جس کے افشا ہونے کی دھمکی ڈاکٹر غلام جابر نے دیئے ہوں۔ ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اس کتاب کے تعلق سے جام نور کے ماہ جنوری ۲۰۰۸ء؁ میں ایک فورکلر کا اشتہار دیا گیا ہے اس اشتہار میں کتاب کی تعریف کے ایسے پل باندھے گئے ہیں جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے وہ اشتہار صرف اپنی دوکانداری چمکانے کیلئے تھا اس لئے خوشتر نورانی یہ سمجھ گئے ہوں گے کہ اس مضمون کو شائع کرنا میرے لئے سانپ اور مینڈک دونوں کے منہ کو بوسہ دینے کا مترادف ہوگا۔ لیکن ایک حقیقت پسند صحافی ان سب وجوہات کو بالائے طاق رکھ کر ملت کے ترجمان کی حیثیت سے ضرور شائع کر دیتا لیکن خوشتر نورانی نے شائع نہ کر کے اپنی عصبیت کی تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی۔ اگر یہ سب وجوہات نہیں ہیں تو خوشتر نورانی خود واضح کریں کہ شائع نہ کرنے کی وجوہات کیا ہیں۔
خوشتر نورانی صحافتی قوانین و ضوابط سے آگاہ نہیں اگر ہیں بھی تو اس پر عمل پیرا نہیں ۔ اپنے آباء و اجدد کے لگاے ہوئے صحافتی پودا پر شبنم کے چند قطرے ٹپکانے کے بعد اپنے آپ کو میدانِ صحافت کا عظیم شہسوار سمجھنے لگے حالانکہ ان کی تحریری رویہ سے یہ واضح ہوچکا ہے کہ میدان صحافت کا بے لگام گھوڑا ہے جس کی کوئی سمت اور منزل نہیں چند نفوس کی خایہ برداری کرنے میں بھی ان کو مہارت تامہ حاصل ہے۔ انہوں نے اپنے قلم سے کبھی مسلک پر تو کبھی شخصیت پر شب خون مارا ہے۔ جس میں ان کو شکست فاش ملی ہے۔ جہاں تک میرا گمان ہے ایڈیٹر خوشتر نورانی کے صحافتی مبلغ علم کا رقبہ کف دست سے زیادہ نہ ہوگا۔
ڈاکٹر غلام جابر کی تالیف ’’خطوط مشاہیر بنام امام احمد رضا‘‘ پر لکھا ہوا میرا مضمون اگر غلط تھا تو اس کی نشاندہی کرتے میں ضرور قبول کرتا اگر صحیح تھا تو حق کی ترجمانی کرتے ہوئے اس کو شائع کرنا تھا۔ خوشتر نورانی کوبخوبی اندازہ ہوگیا ہوگا کہ مضمون کو شائع کرنا اپنے پیر میں کلہاڑی مارنا ہے۔
موصوف کی معلومات میں اضافہ کر دوں کہ میرا مضمون کئی اخبار و رسائل میں چھپ چکا ہے اور تقریباً سوسے زائد علما، دانشور اور پروفیسر ان کو وہ مضمون ارسال کر چکا ہوں اور ان حضرات کی گرانقدر رائے بھی مانگا ہوں عنقریب ان تمام آراء کو ایک کتابی شکل دوں گا جس میں ’’خطوط مشاہیر بنام امام احمد رضا پر مزید تبصرہ ہوگا اور ان اخبار و رسائل کا بھی ذکر کروں گا جنہوں نے مضمون کو شائع کیا اور جنہوں نے اشاعت سے انکار کیا اور اس کتاب میں خوشتر نورانی کی صحافت اور رسالہ جامِ نور کی جنم کنڈلی پر شرح و بسط کے ساتھ تبصرہ لکھوں گا۔
بلا شبہ دادا نے رسالہ کو جام نور بنایا تھا لیکن پوتا نے غیر ذمہ داری سے اس کو جام کور بنا دیا۔ یہ میرا چیلنج ہے کہ خوشتر نورانی اینڈ کمپنی اور ڈاکٹر غلام جابر اینڈ کمپنی اپنی ذریت اور حوارین کے ساتھ مل کر میرے مضمون کا جواب لکھنا چاہیں تو انشاء اللہ نہیںلکھ سکتے جو مضمون میں نے ڈاکٹر غلام جابر کی تالیف ’’خطوط مشاہیر بنام احمد رضا‘‘ پر لکھا ہے اگر جواب لکھنے کی کوشش کریں گے تو خوشتر نورانی کا قلم خون تھوکے گا اور ڈاکٹر غلام جابر کا قلم منہ کے بل گر پڑے گا۔ میرے مضمون کے دلائل اتنے مضبوط ہیںکہ جواب لکھنے میں دونوں یاروں کے دانت کھٹے ہو جائیں گے اور اپنی قلم کاری کو بھول جائیں گے جس کا بھوت دونوں کے سر پر برسوں سے سوار ہے میں یہ مضمون اور اس کو مضمون کو جو ڈاکٹر غلام جابر کی تالیف پر لکھا ہوں۔ دونوں کو جام نور کے تمام قلم کاروں کو ارسال کر رہا ہوں تاکہ ان لوگوں کو بھی حقیقت سے آگاہی ہو جائے اور یہ معلوم ہوکہ اپنے آپ کو بے باک صحافی کہلانے والے ایڈیٹر خوشتر نورانی کا ذہن و فکر کتنا تنگ اور تاریک ہے۔