مرد عورتوںکا حاکم

مرد عورتوںکا حاکم

اَلرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلیَ النِساَئِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰہُ بَعْضَہُمْ عَلیٰ بَعْضٍ(پارہ۵،رکوع۳)
ترجمہ: مرد افسر ہیں عورتوںپر اس لئے کے اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ۔ برادران اسلام اللہ تبا رک وتعالی کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں چاہے وہ ہماری سمجھ میں آئے یا نہ آئے بلا شبہ عورت نازک اور پردے میں حفاظت کے ساتھ رہنے کی چیزہے اسی لئے اللہ تبارک و تعالی نے مردوں پر یہ لازم قرار دیا کہ اسکی حفاظت کرے نان نفقہ کا بندوبست کرے ایّام حیض میں اسکا ذہنی توا زن بر قرار رہنے رہتا سیلان خون کی وجہ سے کمزور ہو جاتی ہیں اس لئے اللہ تبارک و تعالی کی طرف سے ان پر یہ فضل و کرم ہے گھر میں بیٹھی رہو جہاد مرد پر فرض ہے عورت پر نہیں اللہ تبارک و تعالی نے نبوّت ، خلافت وامامت مردوںکو عطا فرمائی عورتوں کو نہیں جماعت، جمعہ ، اذان وخطبہ، مرد پر واجب ہے عورتوں پر نہیں طلاق دینا مرد کو اختیار ہے عورت کو نہیں اور نسب کا سلسلہ بھی مرد کی طرف سے ہوتا ہے عورت کی طرف سے نہیں مرد نمازروزہ مکمّل ادا کر سکتے ہیں لیکن عورت حیض و نفاس کی وجہ سے مکمّل ادا نہیں کرسکتی لیکن آج کے ماڈرن دور میں عورتیںمردوں سے آگے نکلنا چاہتی ہیں قرآنی احکامات کو پس پشت ڈال دیتی ہیں کسی کو حکمرانی کا خبط سوار ہے تو کسی کے سر پر امامت کا بھوت، کوئی لیڈر بننے کی تمنّا رکھتی ہیں تو کوئی رہبر قوم لیکن اسکا نتیجہ الٹا ہی نظر آتا ہے آئے دن کسی نہ کسی عورت کی عصمت دری ہوتی ہے یہ یہ صرف قران مقدّس پر عمل نہ کرنے وجہ سے ہے مخلوط تعلیم نے بھی عورتوںکو مردوں کے مقابلے میں لا کھڑا کیا ہے اور یہ یہودو نصارا کی گہری سازش ہے بہر حال ہماری ماں اور بہنوں کو قرآن پر عمل کرتے ہوئے اپنی زندگی گزار نی چاہئے اور خیال رکھنا چاہئے کہ ایک عورت کے لئے مرد کا سایہ بہت ضروری ہے اور یہ ہمیشہ دھیان رکھیں کہ مرد حاکم ہے اور عورت محکوم۔