تاش کھیلنا مطلقاً ناجائز و گناہ ہے چاہے جوئے کی شرط ہو یا نہ ہو، کہ اس میں لہو و لعب کے علاوہ تصاویر کی تعظیم بھی پائی جاتی ہے۔
سیدی اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”تاش اور اسی طرح گنجفہ بوجہ اشتمال و اعزازِ تصاویر مطلقاً بلاشرط ممنوع و ناجائز ہے اور مصروف رہنا فسق۔ در مختار میں ہے:
کرہ کل لھولقولہ صلی ﷲتعالٰی علیہ و سلم کل لھوالمسلم حرام الا ثلثۃ ملاعبتہ اھلہ و تادیبہ لفرسہ و مناضلتہ بقوسہ۔
ہر کھیل مکروہ ہے حضور انور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ و سلم کے اس ارشاد کی بنا پر کہ مسلمان کا ہر کھیل حرام ہے سوائے تین کھیلوں کے: اپنی بیوی سے ملاعبت کرنا اور اپنے گھوڑے کی تعلیم وتادیب کرنا اور سبقت کےلئے اپنی کمان سے تیر اندازی کرنا (ت)۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 16، صفحہ 560 ۔ 561، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
Post Views: 3