درگاہوں کا حال
معزز سامعین کرام ! ہمارے معا شرہ کی اصلاح ضروری ہے ۔ ہمارے سماج کی اصلاح ضروری ہے ۔ ہمارے سوسائٹی کی اصلاح ضروری ہے ۔ آج اگر ہم درگاہوں کاجائزہ لیتے ہیں تو ہمیں افسوس کرنا پڑتا ہے اگر ہم درگاہوں کے حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو کف دست ملنا پڑتا ہے ۔ اگر ہم درگاہوں میں حاضری دیتے ہیں اور وہاں کے حالات کو دیکھتے ہیں تو دل رونے پر مجبور ہوجاتا ہے ۔ اکثر و بیشتر درگاہوں پر میں نے حاضری دی اور آپ حضرات بھی شرف زیارت سے مشرف ہوتے ہوں گے ۔ زائرین کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے وہ سب پر عیاں ہے ۔ مجاور ین اور خدام زائرین کو گھیر لیتے ہیں کوئی مجاور یہ کہتا ہے اس ڈبہ میں پیسہ ڈالئے کوئی مجاور مجاور کہتا ہے اس رجسٹر میں نام لکھواکر چندہ دیجئے ۔ کوئی خادم کہتا ہے یہاں باب کے نام کی سلامی دیجئے کوئی خادم کہتا ہے یہاں بابا کے نام کی چراغی دیجئے طرح طرح سے زائرین سے پیسہ وصول کیا جاتا ہے ۔ بعض دفعہ ایسابھی ہوتا ہے کہ بچارہ زائرین کے پاس واپس ہونے کا کرایہ تک نہیں رہتا ۔ ہمارے سماج اور معاشرے کی اصلاح کرتے ہوئے ایسے خرافات کو روکنا ہوگا ۔ زائرین پر ایسا سلوک کرنے پر پابندی لگاناہوگا ۔ زائرین کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کرنے پر پابندی عائد کرنا ہوگا ۔ زائرین کے ساتھ اس طرح پیش آنے پر باز رکھنا ہوگا ۔ ورنہ صاحب مزار کا وقار مجروح ہوگا ۔ ورنہ صاحب مزار کے تقدس پر حرف آئے گا ۔ ورنہ لوگ کہیں گے کہ صاحب مزار کے مہمانوں کے ساتھ یہ سلوک کیا جاتا ہے ۔ برادران اسلام مجاوروں اور خادموں کا تو یہ حال ہے کہ صاحب مزار کی زندگی پر ان کا عمل نہیں ہوتا ہے صاحب مزار کی زندگی کو مشعل راہ نہیں بنانے صاحب مزار کی زندگی پر یہ عمل پرا نہیں ہوتے ۔ اپنی زندگی کو صاحب مزار کی زندگی پر ڈھالنے کی کوشش نہیں کرتے اپنے آپ کو ان کے نقش قدم سے دور رکھتے ہیں بعض مجاورین اور خدام کے حال نہ پوچھئے سنت رسول پر عمل نہیں فرائض و سنن کی پرواہ نہیں لیکن سر پہ ٹوپی فلک بوس ہوتی ہے کرتا زمین بوس ہوتا ہے۔ لیکن حضرت کا چہرہ داڑھی اور نونچھ دونوں صاف ہوتا ہے ۔
بجلیاں جس میں ہوں اسودہ وہ خرمن تم ہو
بیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہو
ہونکو نام جو قبروں کی تجارت کرتے
کیا نہ بیچو گے جو مل جائیں صنم پتھر کے
Post Views: 16