با با گیری Ba Ba Giri

بابا گیری
برادران ملت ! آج ہمارے معاشرے میں بابا گیری کی بیمار۴ی بھی بہت پھیلی ہوئی ہے ۔ اگر کسی کے پاس کوئی دھندہ نہیں اگر کوئی برسر روزگار نہیں ، اگر کسی کے پاس بزنس نہیں تو پھر بابا گیری شروع کردیتے ہیں ۔ اس دھندہ میں لاگت لگانے کی ضروت نہیں ،پونجی لگانے کی ضروت نہیں ، روپئے لگانے کی ضرورت نہیں سرمایہ کاری کی ضرورت نہیں ۔ اب تو اس دھندہ میں ڈارھی رکھنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ صرف مونچھ رکھنے سے کام چل جاتا ہے ۔ اگر مونچھ بھی نہ رکھئے تو کام چل سکتا ہے صرف سر کے بال کو لمبا کر لینے کی ضرورت ہے اور آنکھوں میں سرمہ لگالیں اور دونوں ہاتھوں میں آٹھ عدد انگوٹھیاں پہن لیں اور گہرے رنگ کالباس زیب تن کرلیں اس دھندہ کیلئے کافی ہے ۔ قرآن کی آیات صیحح مخرج کے ساتھ ادا نہیں کرسکتے ، استنجا کرنے کا دھنگ نہیں ، طہارت و پاگیزگی سے وافقیت نہیں تعویذ لکھنے اور جھاڑ پھونک کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔ میں نہیں کہتا کہ تعویذ میں فائدہ نہیں ہے میں نہیں کہتا کہ قرآن کی آیات میں شفاء نہیں ، میں نہیں کہتا کے سماء الہی میں شفاء نہیں ہے اور بلاشبہ ہے پہلے زبان میں تاثیر پیدا کرؤ ۔ پہلے عمل و کردار سے قلم میں راشیر پیدا کرؤ ، فرائض کی ادئیگی کرکے اپنے قلوب کو منور کرؤ ، آیت قرآن کی ہو زبان امیر خسرو کہ ہو شفا ہی شفا ہے ، آیت قرآن مقدس کی ہو زبان نظام الدین اولیاء کی ہو فیض ہی فیض ہے آیت قرآن کی ہو زبان مخدوم سمنانی کی ہو برکت ہی برکت ہے ۔ آیت قرآن کی ہو اور قلم مفتی اعظم ھند کا ہو اس تعویذ میں کرامت ہی کرامت ہے۔