شب برات کے فضائل

   اللہ تبارک و تعالی نے انبیا و رسل، جن و انس،رات و دن اور دیگر مخلوقات کو پیدا فرمایا ہے اور ان میں بعض کو بعض پر فضیلت سے نوازا ہے،جیسے رسول انبیا سے افضل،حضور تمام انبیا و رسل سے افضل،صحابہ اولیا سے افضل،اولیا تمام انسانوں سے افضل، انسان تمام مخلوقات میں افضل،عالم جاہل سے افضل،مدینہ منورہ تمام شہروں میں افضل،بیر زمزم تمام کنوں سے افضل،رمضان تمام مہینوں میں افضل،جمعہ تمام ایام میں افضل، اسی طرح شب برأت اور شب قدر تمام راتوں میں افضل ہے۔

    اللہ تعالی قرآن مقدس میں ارشاد فرماتا ہے:قسم اس روشن کتاب کی، بے شک ہم نے اسے برکت والی رات میں اتارا،اور بے شک ہم ڈر سنانے والے ہیں،اس میں بانٹ دیا جاتا ہے ہر حکمت والا کام۔  (سورہ دخان، آیت،١،٢،٣،٤ ترجمہ کنزل الایمان)

اس آیت میں لیلۃ مبارکہ سے مراد شب قدر ہے یا شب برأت، تو جمہور اول کے قائل ہیں، کیوں کہ اللہ تعالی نے فرمایا: ہم نے اس کو لیلۃ القدر میں نازل کیا۔

  حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں:آیت ”انا انزلناہ فی لیلۃ مبارکہ“میں ”لیلۃ مبارکہ“ سے مراد شعبان کی پندرہویں رات ہے،نجات اور خلاصی کی رات ہے اور یہی قول حضرت عکرمہ کے سوا اکثر مفسرین کا ہے۔(غنیۃ الطالبین،ج اول،ص ١٨٩)

          شب برأت کی وجہ تسمیہ:

  شب برات کو شب برأت اس لیے کہتے ہیں کہ شب کے معنی رات اور برأت کے معنی بری ہونے اور قطع تعلق کرنے کے ہیں،اور اللہ کی رحمت سے بے شمار مسلمان اس شب کو جہنم سے نجات پاتے ہیں،اس لیے اس رات کو شب برأت کہتے ہیں۔

فضائل شب برأت :

 شب برأت بڑی برکتوں اور رحمتوں والی رات ہے،اس لیے اس کے متعلق  چند احادیث پیش ہیں۔

          بخشش کی رات:

 حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں: کہ ایک رات میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گم پایا، تلاش بسیار  کے بعد آپ جنت البقیع میں پائے گئے، میں نے عرض کیا: کہ حضور میں نے خیال کیا کہ شاید آپ دوسرے ازدواج کے پاس چلے گئے ہیں، آپ نے فرمایا: بے شک اللہ تعالی شعبان کی پندرھویں شب آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے زیادہ گنہ گاروں کو بخش دیتا ہے۔    (مشکوۃ شریف،ج اول،ص ١٠٥)

        حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلا شبہ اللہ تعالی شعبان کی پندرھویں رات ظہور فرماتا ہے اور مشرک و کینہ پرور شخص کے سوا  تمام مخلوق کو بخش دیتا ہے۔ (مشکوۃ شریف ج اول، ص ١٠٦)

     حضرت  مولاعلی رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ اللہ تعالی شعبان کی پندرھویں رات آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور مشرک، کینہ جو،رشتہ توڑنے والے اور زانی عورت کے علاوہ تمام مسلمانوں کو بخش دیتا ہے۔  (غنیۃ الطالبین،ج اول، ص ١٩٠)

     نزول الٰہی  اور نجات کی رات:

یہ حدیث بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب شعبان کی پندرھویں رات ہو تو اس میں عبادت کرو اور دن میں روزہ رکھو، اس لیے کہ اس رات کی خصوصیت یہ ہے کہ غروب آفتاب کے وقت اللہ تعالی  آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور شام سے صبح تک یہ ندا دی جاتی ہے کہ ہے کوئی مغفرت مانگنے والا؟ جسے میں بخش دوں،ہے کوئی رزق مانگنے والا؟ جسے میں رزق دوں، ہے کوئی بیمار صحت مانگنے والا؟ جسے میں صحت دوں،کوئی ایسا ہے؟کوئی ایسا ہے؟فجر تک اسی طرح پکارا جاتا ہے۔   (ابن ماجہ،ج اول،ص ٤٤٤)

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالی شعبان کی پندرھویں رات حضرت جبرئیل علیہ السلام کو جنت کی طرف بھیجتا ہے تاکہ وہ اسے یہ حکم پہنچا دیں کہ وہ آراستہ ہوجائے اور کہ دیں کہ اللہ تعالی نے اس رات میں آسمان کے ستاروں کی گنتی،دنیا کے دن اور رات کی تعداد، درختوں کے پتوں کی گنتی، پہاڑوں کے وزن کے برابر اور ریت کے ذروں کی گنتی کے برابر بندے دوزخ سے آزاد کر دیے ہیں۔     (ماثبت بالسنتہ اردو،ص٢٩١)

انتظام عالم کی رات :

حضرت عطا یسار نے فرمایا: شعبان کی پندرھویں رات سال بھر کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں،کوئی شخص سفر میں نکلتا ہے اس حال میں کہ اسے زندوں سے نکال کر مردوں میں درج کیا جا چکا ہوتا ہے،اور کوئی شادی کرتا ہے اس حال میں کہ وہ زندوں سے نکال کر مردوں میں درج کیا گیا ہوتا ہے۔(غنیۃ الطالبین،ج اول،ص ١٩١)

    حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو جانتی ہے کہ یہ کون سی رات ہے؟میں نے عرض کیا!اس رات میں کیا خاص بات ہے،آپ نے فرمایا:اس رات میں ہر وہ شخص لکھا جاتا ہے جو اس سال میں پیدا ہونے والا ہے اور اس رات میں ہر مرنے والا لکھا جاتا ہے،اس رات میں لوگوں کا رزق اتارا جاتا ہے،اور اس رات میں ان کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں۔      (غنیۃ الطالبین، ج اول ص ١٩١)

   علامہ ابو الفضل شہاب الدین سید محمود آلوسی حنفی بغدادی تحریر فرماتے ہیں: حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ تمام امور کے فیصلے تو ”شب برأت“ میں  ہوتے ہیں، لیکن جن فرشتوں کو ان کاموں کو انجام دینا ہوتا ہے ان کے سپرد ”لیلۃ القدر“ میں کیے جاتے ہیں۔  (روح المعانی،ص ٤٧١)

خیر و برکت والی رات :

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی چار راتوں میں فجر کی اذان تک بے شمار برکتیں اور رحمتیں اتارتا ہے۔

  عید الاضحیٰ کی رات، عید الفطر کی رات،نصف شعبان کی شب اور عرفہ کی رات۔  (غنیۃ الطالبین،ج اول،ص ١٨٩)

   فرشتوں کی عیدیں:

  جس طرح زمین میں مسلمانوں کی دو عیدیں ہوتی ہیں اسی طرح آسمان پر فرشتوں کی بھی دو عیدیں ہوتی ہیں،مسلمانوں کی عیدیں عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے روز ہوتی ہیں اور فرشتوں کی عیدیں شب برأت اور شب قدر میں ہوتی ہیں،ملائکہ کی عیدیں رات میں اس لیے ہوتی ہیں کہ وہ سوتے نہیں اور مسلمان چوں کہ سوتے ہیں اس لیے ان کی عیدیں دن میں ہوتی ہیں۔(غنیۃ الطالبین،ص ٤٤٩)

   روزہ رکھنا:

   نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پندرھویں شعبان کا روزہ رکھنے کی تلقین فرمائی جس سے اس شب کے روزے کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے۔  حدیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں۔

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یا کسی اور سے فرمایا: کہ تم نے شعبان کے وسط میں رکھا ہے؟انھوں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا عید کے بعد رکھ لینا۔(صحیح مسلم،ج ١،ص ٣٨٦)

   زیارت قبور:

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے زیارت قبور کی بڑی حکمت یہ بیان فرمائی ہے کہ اس سے موت کی یاد تازہ ہوتی ہے اور آخرت کی فکر پیدا ہوتی ہے،شب برأت میں زیارت قبور کا واضح مقصد یہ ہے کہ اس مبارک شب میں ہم اپنی موت کو یاد کریں تاکہ گناہوں سے سچی توبہ کرنے میں آسانی ہو۔

   سال بھر کے جادو سے حفاظت:

 اگر شب برأت میں کوئی شخص  سات پتے بیری(بیر کے پتے)کے پانی میں جوش دے کر اس پانی سے غسل کرے تو انشاء اللہ تمام سال  وہ شخص جادو کے اثر سے محفوظ رہے گا۔(اسلامی زندگی، ص ١٣٤)

شب برأت میں عبادت کی فضیلت :

 اس رات جو شخص اپنا وقت عبادت و ریاضت اور ذکر و اذکار میں صرف کرتا ہے تو اس کا اجر و ثواب تمام راتوں کی بہ نسبت بڑھا دیا جاتا ہے،اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے امت مسلمہ کو اس رات میں قیام کرنے اور ذکر و اذکار میں مشغول و مصروف رہنے کا حکم فرمایا ہے، ارشاد نبی کریم  ہے: قوموا لیلھا و صوموا نھارھا.

ترجمہ۔شب برأت میں جاگ کر عبادت کرو اور دن میں روزہ رکھو۔(ابن ماجہ شریف،ص ١٠٠)

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کہ جو پانچ راتوں میں شب بیداری کرے اس کے لیے جنت واجب ہے، انھیں میں ایک رات نصف شعبان کی پندرھویں رات ہے۔

  (بہار شریعت،ج ٤،ص ١٠٥)

پیارے اسلامی بھائیوں! فضائل شب برأت کا ذکر ہو چکا ہے،اس لیے ہم سب کو چاہیے اس رات کو خواب غفلت،آتش بازی،عیب جوئی،موبائل بینی اور لہو و لعب میں نہ گزاریں، بل کہ اس رات کی فضیلت کو ملحوظ رکھتے ہوئے عبادت و ریاضت اور  ذکر و اذکار کریں، اپنے مرحومين، کاروبار،اپنے گناہوں اور  عالم اسلام کے مسلمانوں بالخصوص ہندوستانی مسلم بھائیوں کی عزت و آبرو کی حفاظت کے لیے دعاے خیر کریں،اور اگر کسی مومن بھائی کا اپنے ہمسایہ،رشتہ دار اور دوست و احباب سے نوک جھوک ہوا ہو  اور بات چیت بند ہو گئی ہو تو براے مہربانی شب برأت سے پہلے پہلے صلح کر لیں اور پات چیت شروع کر دیں ، اعمالِ صالحہ اسی وقت زیادہ مقبول پہوتے ہیں جب اس پر حقوق العباد باقی نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اچھے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔****