ازقلم مفتی محمد ابراہیم آسی
۔اردو ادب میں نعتیہ شاعری کا عروج وارتقا
رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مدح و ثنا کرنا نعت ہے
نعت گوئی کی تاریخ کافی قدیم ہے عہد نبوی ہی میں نعت گوئی کا آغاز ہو چکا تھااردو ادب میں نعتیہ شاعری کا عروج وارتقاء
نعت کے مضامین میں تفکروتدبر کی مثالیں دور نبوت ہی سے ملتی ہیں عربی نعت گوشعراء میں حضرت حسان بن ثابت ، حضرت ابوطالب ،حضرت ابو بکر، حضرت عبد اللہ بن رواحہ، کعب بن مالک ، مالک بن عوف، زین العابدین، امام اعظم ابو حنیفہ ، شیخ ابن عربی ،
محمد بن سعید بو صیری ، فارسی نعت گوشعراء میں حضرت عبدالرحمن جامی ، جلال الدین رومی، سعدی شیرازی حضرت امیر خسرو، خواجہ باقی با للہ کے نام تاریخ کے صفحات میں موجود ہیں مرور زمانہ کے ساتھ صنف نعت اردو زبان میں بھی در آئی اردو کے کلا سیکی شعراء کے کلام کے دوانین کا بغور جائزہ لیا جائے تو نجوبی اندازہ ہو جائے گا کہ اس کا آغاز حمد و نعت سے ہوتا ہے۔
اردو شاعری کے آغا ز میں نعت کی وہ روایت میسر نہیں آتی جو بیسویں صدی کے نصف آخر سے عصر حاضر تک تاریخ کا درخشاں باب ہے نعت اردو ادب کی ایک مقدس صنف سخن ہے اس کا منبع و مصدر قرآن واحادیث ہے جو نعت گوشعراء علوم شرعیہ پر کامل عبور رکھتے تھے انہوں نے اپنے کمال علم اور تقویٰ کی برکت سے نعت کی شمشیر آبدار پر مکمل احتیاط کے ساتھ قدم رکھا اور وادی عشق کو عافیت اور سلامتی کے ساتھ پار کر نے میں کامیاب رہے۔
یہ ایک واحد صنف سخن ہے جو شاعر کے کلام کو دوام عطا کرتی ہے سیدنا حسان بن ثابت نے نعت نگاری کو نیا اسلوب اور با نکپن عطا کیا عشق و عقیدت کی یہی میراث صنف نعت میں ڈھل کر عہد حاضر کا عظیم اعزاز بن کر ہم تک پہونچی ہے۔
نعتیہ شاعری کا سلسلہ دربار رسالت میں قائم رہی اور یہ سلسلہ کیسا خوشگوار، سدا بہار، لازوال اور دوام پذیر سلسلہ ہے جو ہر قسم کے انقلابات سے بے نیاز ہو کر گز شتہ چودہ صدیوں میں اپنے مؤثر اور بھر پور وجود کا اس شان سے احساس دلاتا ہے کہ اس سلسلہ عالیہ کی ایک بھی کڑی کہیں سے گم ہوتی یا ٹوٹتی دکھائی نہیں دیتی۔
تاریخ ادب کے مختلف ادوار کے شہ پاروں اور شہ کاروں کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ایک طرف سیرت نگار اپنی نثری تخلیقات میں دبستان حسن و جمال کی ضیا پاشی سے قلب و نظر کو مسحور کر رہے تھے تو دوسری طرف نعت گو حضرات اپنی سخن طِرازی کے جو ہر دکھاتے ہوئے تلمیحات، استعارات، اور محاکاتی شان و شوکت کے درنایاب لٹاتے تھے نعت نبوی میں ، تعلیمات قرآنی اور علم و آ گہی کی تابانی ہے۔ اردو ادب میں صنف نعت کی جلوہ نمائی اور اس کے مضامین کی رعنائی تر اکیب الفاظ کی چاشنی اور فصاحت و بلا غت سے اپنی چاندنی بکھیرتی ہے جس سے تاریکیاں چھٹ جاتی ہیں، کدورتیں دھل جاتی ہیں بلکہ نعت تو سوتے ہوئے جذبوں کو جگا دیتی ہیں اور انسانیت کیلئے فضا کو اس طرح ہموار کرتی ہیں کہ انسان اتباع رسول کو اپنی زندگی کا اثاثہ سمجھنے لگے۔ نعت گوشعراء کی کیفیت تسلیم شدہ ہے کہ ان کے جذبات احساسات اور اظہار خیالات کا رخ عظمت رسول کی طرف ہوتاہے دور حاضر میں بڑھتی تاریکیوں کدورتوں اور بری خصلتوں کے سامنے اخلاق نبوی کی نورانی کرنوں کو نعت گو شعراء نفیس انداز میں قوم کے سامنے پیش کرتے ہیں اس تعصب پر ست دور میںعفو در گزرکی دولت سے لوگ محروم ہیں ایسے میں نعت گوشعراء عفوو درگذر کا بے مثال جذبہ حسین پیرا ئے میں نعت رسول کے ذریعہ پیش کرتے ہیں۔
راہ میں کانٹے جس نے بچھائے گالی دی پتھربرسائے
چھڑ کی اس پر پیار کی شبنم صلی اللہ علیہ و سلم
ستم کے عوض داروئے شفادی طعن سنے اور نیک دعا دی
زخم سہے اوربخشا مرہم صلی اللہ علیہ و سلم
اس پرفتن دور میں لوگ اخوت و مساوات کو فراموش کر دیئے ہیں کہیں امیری اور غریبی کی دیوار ہے کہیں کالے اور گورے کا امتیاز ہے کہیں آقا اور غلام کا خط حصار ہے اردو کے نعت نگار یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ رسول عربی نے کس طرح اس فرق کو مٹایا ۔
یہ دیکھتا ہوں غلام و آقا کا فرق تو نے مٹایا
یہ دیکھتا ہوںکہ تو نے شاہ وگدا کو ہم سربنایا
اس میں دورائے نہیں کہ اردو شاعری کی اصناف میں نعت نگاری سب سے مقدم معتبر اور محترم صنف خیال کی جاتی ہے گزشتہ ساٹھ سالوں میں نعت گوئی کا رجحان اتنا ترقی پذیر ہوا کہ جو شاعر پہلے غزل گو کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے وہ بھی نعت کہنا اپنے لئے باعث فخر سمجھنے لگے اور انہوں نے بڑی ایمان افروز اور کیف آگیں نعتیں کہی ہیں تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ غیر مسلم اردو شعراء نے بھی نعت نگاری کے میدان میں قدم رکھا اور بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
نعت مذاق سخن کے اظہار کا ایک منفرد اسلوب ہے مرثیے کی طرح نعت ایک موضوعی صنف سخن ہے جس میں قصائد، منظوم ،واقعات ، سیرت ، غزلیں ، رباعیاں، قطعات ، اور مثنویا ںسبھی ہیتیں شامل ہیں غالب کی غزل کا ایک مشہور مقطع ہے۔
اسکی امت میں ہوں میرے رہے کام کیوںبند
واسطے جس شہ کے غالب گنبد بے درکھلا
انیس اور دبیر کے مرثیے بھی نعتیہ اشعار سے خالی نہیں ہیں محسن کا کوروی کا قصیدہ لامیہ تو محبان رسول کیلئے تسکین قلب کا سبب ہے ۔مثنوی سحرا البیان میں میر حسن کہتے ہیں۔
ہوا گوکہ ظاہر میں امی لقب
یہ علم لدنی کھلادل پہ سب
ڈاکٹر اقبال، امام احمد رضا، محسن کا کوروی الطاف حسین حالی داغ دہلوی وغیرہ کی راہ نمایا نہ قیاد ت عصر حاضر کے شعراء کیلئے نعت کے میدان میں آگے بڑھنے کے لئے شمع راہ کاکردار ادا کر رہی ہے۔
جدید نعتیہ شاعری الحمد اللہ روایت باطلہ اورعقائد ضعیفہ سے بڑی حد تک پاک نظر آتی ہے حفیظ جالندھری کی ’’شاہنامہ اسلام ‘‘ کے بعد صوفی محمد شریف غیرت کی ’’ شہنشاہ نامہ ‘‘ قیصر الجعفری کی ‘‘ چراغ حرا‘‘ منصور ملتانی کی ‘‘سید البشر ‘‘ عبد القادر دانش فیروزی کی ’’ محسن اعظم ‘‘ امام احمد رضا کی ’’ حدائق نجشش ’’ اور اس کے علاوہ نعتیہ شاعری کے عام مجموعوں کی تعداد سیکڑوں تک ہے۔
جدیدتعلیم نے جو ہمیں نئی بصیرت عطا کی ہے اس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ آدمی عقائد باطلہ سے منحرف ہوتا جا رہا ہے اور جس کا دل خوف خدا سے معمور اور عشق نبی سے سرشار ہے اس کے ایمان میں جلا کا سبب بھی یہی جدید تعلیم ہے جدید تعلیم کی روشنی میں نعت نگاری کو اپنا نا ایمان وعقائد میں پختگی لانا ہے۔ ڈاکٹر سید یحیٰ نشیط رقمطراز ہیںصفوت علی صفوت کی ’’ مثنوی رسول اور سفر آیات نغمہ ‘‘ میں آپ نے واقعہ معراج کو جدید فلکیاتی انکشافات کے تنا ظر میں پیش کیا ہے۔ روایتوں میں جہاں کہکشاں کے ستاروں کو براق کے قدموں کے نشانات اور اسکی سفیدی کو گرد راہ تصور کیا جاتا تھا صفوت نے اس تصور کو جدید خلائی تحقیق کے تناظر میں پیش کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ آج خلائی سفر جس طرح ممکن ہو گیا ہے رسول اللہ نے وہی سفر بلکہ فلک الا فلاک سے بھی آگے شب واحد میں چودہ سو سال پہلے طے کر چکے ہیں ۔
اردو ادب میں نعتیہ شاعری کی تاریخ کے مطالعہ سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ابتدا میں دیگر اصناف کی طرح نعت نگاری کو فروغ نہ مل سکا زبان و ادب کے عروج وارتقا کے ساتھ ساتھ نعت نگاروں نے اس جانب خصوصی توجہ دی اور فن نعت نگاری کے گیسو کو خوب خوب سنوارا یہاں تک کہ تمام اصناف پر نعت نگاری سبقت لے گئی۔
٭٭٭
Post Views: 210