حضور مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی علیہ الرحمۃ والرضوان کے سنہرے اقوال

  1. حضور مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی علیہ الرحمۃ والرضوان کے سنہرے اقوال

    از قلم : مفتی محمد ابراہیم آسی

    (۱) تو مٹی بن جا کہ مٹی شکر سے زیادہ اچھی ہوتی ہے ۔

    (۲) سفر میں بزرگوں کی زیارت کرنا خوش نصیبی ہے ۔
    (۳) جو اللہ والے کا دیدار کرے اس پر کم یا زیادہ روحانی اثر ضرور ہوتا ہے ۔
    (۴) مرید وہ ہے جو اول و آخر مرید ہو اگر ایسا نہیں ہے تو اس کی کوئی قربانی قبول نہیں ہوتی ۔
    (۵) اگر جسم چاندی کو ہو ،دل پتھر کا ہے تو حق کی طرف مائل نہ ہوگا ۔
    (۶) اگر میرے بدن کا ہر بال زبان بن جائے تب بھی رب کے احسان کا ہزارواں حصہ ادا نہیں کر سکتا ۔
    (۷) مجھے ایک سو چودہ جگہ سے نعمت ملی یہ سب کچھ میں نے فرزند نورالعین پر نثار کردیا ۔
    (۹)شوربہ آلودہ ہاتھ نمک دان میں نہ ڈال ،کھانے کے درمیان پانی نہ پیو۔
    (۱۰) جہاں تک ہو سکے جماعت کے ساتھ دستر خوان پر کھاؤ۔
    (۱۱) بے پروائی اور بے دلی سے کھانا نہ کھاؤ ،جو حضور دل سے کھانا کھاتا ہے ،وہ پیٹ میں پہونچ کر ذکر کرتا ہے اور نور بن جاتا ہے ۔
    (۱۲) دوستوں کا دوستوں کے مکان پر جمع ہونا اخلاق نبوی کی پیروی کرنا ہے ۔
    (۱۳)بیگن جس نیت سے بھی کھائی جائے مفید ہے ۔
    (۱۴) مہمان کے قدموں سے میزبان کے گھر میں بے حد برکت ہوتی ۔
    (۱۵)کوئی فائدہ نہیں کہ دل پر گناہ کا اثر قائم ہے ،اور زبان پر توبہ کی رٹ لگی ہے ۔
    (۱۶) اللہ کی رحمت سے مایو سی یہ ہے کہ اس قدر نا امید ہو جائے کہ اب میری بخشش نہیں ہوگی ۔
    (۱۷)وہ گنہ گار جو اللہ کا خوف کرتا ہے ریا کار عبادت گزار سے ہزار درجے بہتر ہے ۔
    (۱۸) جب تک کسی اللہ والے کا دل نہ دُکھا یا گیا خدا نے اس قوم کو رسوا نہیں کیا ۔
    (۱۹) جو اللہ والے کا دوست نہ بن سکا وہ نقصان میں ہے ۔
    (۲۰) جو دن موت کا نہیں ہے اس دن موت نہیں آئے گی ۔
    (۲۱) علم ، شریعت ہے ۔ علم کے مطابق عمل کرنا طریقت ہے۔ دونوں کو حاصل ہونا حقیقت ہے ۔
    (۲۲)جو شخص طریقت میں شریعت کی پابندی نہیں کرتا وہ طریقت کی نعمت سے محروم ہے ۔

    (۲۳)جو شخص انصاف کو اپنا تا ہے وہ دنیا میں محبوب ہو جا تا ہے ۔ (۲۴) اگر دنیا ذریعےآخرت خرید سکتا ہے تو خرید لے ورنہ پچھتائے گا ۔ (۲۵) اگر اللہ کی رضا کے لئے کام کرتا ہے تو دنیا بری نہیں ہے اگر مال جمع کر نے کیلئے کرتا ہے تو بُری ہے ۔