یہودیوں کی سازش

یہودیوں کی سازش

ہُوَ الَّذِیْ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ مِنْ اَہْلِ الْکِتَابِ مِن دِیَارِہِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ(پارہ۲۸، رکوع۱)
ترجمہ: وہی ہے جس نے ان کافر کتابیوں (یہودیوں) کو ان کے گھروں سے نکالا ان کے حشر کے لیے۔
برادران اسلام! اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنو نضیر کے یہودیوں کی جلا وطنی کا ذکر قرآن مقدس میں ذکر فرمایا ہے یہودی قوم ہمیشہ سے ہی بغض حسد عہد شکنی میں مشہور ہے اور بدترین شرارتوں کے گھناؤنے رذائل زمانہ قدیم سے آج تک جاری ہیں جب حضور سید عالم ﷺ ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے تو اطراف کے یہودیوں سے صلح و عہد کا معاہدہ فرما لیا مگر یہودی غداری کرنے لگے اسی درمیان یہودیوں میں سے قبیلہ بنو نضیر کے ذمہ دار افراد نے یہ سازش کی کہ آپ ہمارے یہاں تشریف لائیں کچھ ضروری مشورہ کرنا ہے ان کا ارادہ یہ تھا کہ دیوار کے قریب بٹھائیں اور اوپر سے معاذ اللہ پتھر گرادیں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام بیٹھے ہی تھے کہ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ آپ کو آگاہ کر دیا آپ خاموشی سے وہاں سے شریف لے گئے اور یہودی سازش ناکام ہو گئی آپ نے مدنہ منورہ پہنچ کر یہودیوں کو یہ پیغام دیا کہ تم لوگوں نے غداری کرکے عہد توڑ دیا ہے لہذا تم لوگ حجاس مقدس کی سرزمین سے جلا وطن ہو کر باہر نکل جاؤ منافقین کی پشت پناہی کی وجہ سے یہودیوں نے حکم ماننے سے انکار کر دیا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جہاد کی تیاری شروع کر دی اور یہودیوں کے قلعہ پر حملہ آور ہو گئے وہ لوگ بند قلعہ میں پُر یقین تھے کہ مسلمان ہمارا کچھ نہیں بگاڑ پائیںگے لیکن مسلمانوں نے قلعہ کا محاصرہ کر لیا آخر کار مجبور ہو کر یہودیوں نے حضور اقدس ﷺ سے درخواست کی کہ ہم لوگوں کو جلا وطن ہونے کا موقع دیا جائے ان لوگوں کو اجازت مل گئی اور یہ کہ سامان جنگ کے علاوہ جس قدر سامان اونٹ پر لاد کر لے جانا چاہیں لے جا سکتے ہیں یہودیوں نے جاتے وقت اپنے مکانوں کو گرا کر برباد کر دیا تاکہ مسلمان ان مکانوں سے فائدہ نہ اٹھا سکیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان یہودیوں کی جلاوطنی کا تذکرہ قرآن مقدس میں فرمایا ہے۔