یورپ میں ہیلتھ انشورنس کرانا کیسا ہے ؟

 عام حالات میں ہیلتھ انشورنس مطلقاً ناجائز ہے کیونکہ اس میں اپنی رقم کو نقصان کے خطرے پر پیش کیا جاتا ہے ، یعنی اگر بیمار ہوئے ، تو ہیلتھ انشورنس کی صورت میں اپنی جمع کروائی گئی رقم سے زیادہ ملے گا ، ورنہ جمع کروائی گئی رقم بھی واپس نہیں ملے گی اور اس طرح بیمار ہونے کی صورت میں آپ انشورنس میں اپنی جمع کروائی گئی مثلا دس ہزار رقم کے بدلے میں لاکھوں کے مستحق بن جائیں گے ، جبکہ بیمار نہ ہونے کی صورت میں آپ اپنی تمام رقم سے محروم رہیں گے اور یہی جُوا ہے اور قرآن و حدیث کے مطابق جُوا ناجائز و حرام ہے ۔ نیز مسلمان کا مسلمان کے ساتھ فاسد یعنی ناجائز عقد و سَودا کرنا مطلقا ناجائز و گناہ ہے ، جبکہ مسلمان ، غیر مسلموں کے ساتھ ایسا فاسد عقد کر سکتا ہے ، جس میں مسلمان کا مالی نقصان ہونے کا اندیشہ و خطرہ نہ ہو بلکہ اس کا فائدہ ہونا ہی متعین یعنی طے ہو يا غالب گمان ہو ، لیکن جس معاملے میں مسلمان کے نقصان کا خطرہ ہو، تو ایسا عقدِ فاسد غیر مسلموں کے ساتھ کرنا بھی جائز نہیں ہے  اور یہاں عمومی حالات میں یہی صورت وقوع پذیر ہے ۔ البتہ اگر کسی کی خاص جداگانہ واضح صورت ہو ، جس میں مسلمان کا نفع ہی بہرصورت زیادہ رہے گا ، تو وہ اپنی خاص صورت کسی  معتمدسنی مفتی صاحب کو بتا کر مسئلہ کی مزید تفصیل پوچھ لے ۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم