یتیموں پر شفقت
ازقلم :مفتی محمد ابراہیم آسی
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایامیں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے، پھر اپنی شہادت والی اور در میان والی انگلی سے اشارہ فرمایا اور انہیں کشادہ کیا۔ (صحیح بخاری)
امامُ الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے مسلمانوں کے کسی یتیم بچے کے کھانے پینے کی ذمے داری لی، اللہ تعالیٰ اُسے جنت میں داخل فرمائے گا ۔(جامع ترمذی)
حضرت سہل بن سعد بیان کرتے ہيں کہ رسول اکرمصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگشت شہادت اوردرمیانی انگلی کے درمیان تھوڑا سافاصلہ کرکے اشارہ کیا ۔( صحیح بخاری )
حضور نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،مسلمانوں میں سب سے اچھا گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور اس کے ساتھ نیک سلوک ہو اور بدترین گھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس کے ساتھ برا سلوک ہو۔‘‘(سنن ابن ماجہ)
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’قسم ہے اُس ذات کی جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! ﷲ تعالیٰ روزِ قیامت اُس شخص کو عذاب نہیں دے گا جس نے یتیم پر شفقت کی،اس سے نرمی سے گفتگو کی۔(طبرانی)
ایک شخص نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا دل بہت سخت ہے۔ اس کا علاج تجویز فرمائیں۔ آپ نے فرمایا: یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا کرو اور مسکین کو کھانا کھلایا کرو۔‘‘ (ترمذی)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص اللہ کی خوشنودی اور رضا حاصل کرنے کے لئے کسی یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرتا ہے اس کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آتے ہیں ،اللہ کریم ہر بال کے بدلے اس کے نامۂ اعمال میں نیکی درج فرما دیتے ہیں۔‘‘(مسند احمد)
موجودہ دور میں مادہ پرستی کے غلبے نے یتیموں کی پرورش کو نہ صرف مشکل بنا دیا ہے بلکہ اب اس کے بارے میں لوگ سوچنا بھی نہیں چاہتے۔ اس طرح یتیم اور نادار بچوں کی زندگیاں بے سرپرست تباہ ہوجاتی ہیں، پھر وہی بچے معاشرے کے لئے ناسور بن جاتے ہیں۔جب کہ مذکورہ بالا ارشادات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو ملحوظ رکھتے ہوئے اگر کوئی شخص یتیم کی کفالت کرے اور اس کی بہترین پرورش کرے تو وہ یقیناً جنت کا مستحق ہوگا جہاں اسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت نصیب ہوگی اور یہ بچے اچھی پرورش کے نتیجے میںمعاشرہ میں نمایاں مقام حاصل کریں گے، جس سے معاشرہ پرامن اور خوشحال ہوگا۔
Post Views: 110