ہندو دھرم میں جنگ و جہاد
ڈاکٹر محمد احمد نعیمی اپنی کتاب ’’اسلام اور ہندو دھرم کا تقابلی مطالعہ جلد اول کے صفحہ ۸۰۳، پر ’’ہندودھرم میں جنگ وجہاد‘‘ کے عنوان کے تحت تحریر فرماتے ہیں۔
(۱) اے اگنی مثل ایشور! ہمارا بارعب دانشمند راجا اپنے ملک کے لئے دشمنی کو پوری طرح خاک کرتا ہوا ہمارے دشمنوں پر چڑھائی کرے۔ وہ عوام کو جاننے والا یا بہت دولت والا راجا دشمنوں کی فوج کو پریشان کردے، پھر دشمنوں کو خالی ہاتھ کر ڈالے۔
(اتھروید) بحوالہ اسلام اور ہندو دھرم کا تقابلی مطالعہ،جلد اول، صفحہ نمبر ۸۰۳
(۲) اے راجا! ملک میں دھاردار کانٹوں کی طرح جو دشمن لوگ ہیں ہزار پانچ سو جو بھی دشمن ہیں ان سب کا خاتمہ کر ڈالو۔
(رگوید) بحوالہ اسلام اور ہندو دھرم کا تقابلی مطالعہ،جلد اول، صفحہ نمبر ۸۰۴
(۳) ہمارے جسم کو تندرست اور مضبوط کرنے والا خالص پانی پئے ہمارے اندر جو تباہ کرنے کا سلوک ہے اس برتائو کو اپنے نا پسند ملک کے دشمن و باغی پر ہی استعمال کریں۔
(اتھروید) بحوالہ اسلام اور ہندو دھرم کا تقابلی مطالعہ،جلد اول، صفحہ نمبر ۸۰۴
(۴) محنت کش قابل تعریف مردوں کو چاہئے کہ آبا و اجداد کے اختیار کئے ہوئے سیدھے راستے پر چلتے ہوئے ملک کے باغی دشمنوں کو اس طرح جلا کر راکھ کر دیں جس طرح آگ گوشت کو راکھ کر دیتی ہے۔ تاکہ وہ باغی دشمن لوگ خدا کے راستے یا عقلمندوں کے راستے یا نیک آبا و اجداد کے راستے پر چلنے میں کوئی رکاوٹ نہ پہنچا سکیں۔
(اتھروید) بحوالہ اسلام اور ہندو دھرم کا تقابلی مطالعہ،جلد اول، صفحہ نمبر ۸۰۴
(۵) جب دھرم کا خاتمہ ہونے کا امکان ہو جب مصیبت کے سبب ملک میں بدنظمی پھیلی ہو تو اپنی حفاظت کے لئے یا مال، گائے وغیرہ کی حفاظت کے لئے یدھ کرنے کا موقع ہو۔ اسی طرح جب عورتوں اور برہمنوں کی حفاظت کے لئے ضروری ہو تو برہمنی، چھتری اور ویش کو ہتھیار اُٹھا لینا چاہئے۔ ایسے وقت میں دھرم کے لئے قتل یا جنگ کرنے میں گناہ نہیں۔
(منواسمرتی)بحوالہ اسلام اور ہندو دھرم کا تقابلی مطالعہ،جلد اول، صفحہ نمبر ۸۰۵
(۶) استاد، بچہ، بزرگ یا بہت سے مذہبی گرنتھوں کا عالم برہمن بھی اگر ظالم ہو کر مارنے کے لئے آئے تو اس کو بے جھجھک مار ڈالیں۔
(منواسمرتی ادھیائے ۸، سلوک ۳۵۰)
(۷) سب کے سامنے یا تنہائی میں جو کسی کو مارنے کے لئے اُتاولا ہو اس کا قتل کرنے میں کوئی پاپ نہیں ۔
(منواسمرتی ادھیائے۸، سلوک ۳۵۱)
(۸) جنگ میں جو ہتھیاروں کے ذریعہ مارا جاتا ہے اس کو اسی وقت یگ کا پھل اور کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ (منواسمرتی، ادھیائے ۸)
(۹) جنگ میں آپس میں ایک دوسرے کو مارنے کی خواہش رکھنے والے پوری طاقت لگا کر لڑنے والے راجہ جنگ میں پیٹھ نہ دکھا کر سیدھا سورگ کو جاتے ہیں۔
(۱۰) فوج تیار کرکے فوج کی جیت کے عمل کا فائدہ جنگ میں سامنے مرنے سے سورگ کا حصول اور بھاگنے سے نرک میں ذلیل ہونا وغیرہ باتوں سے بیدار کرے اس کی جانچ پڑتال کرے اور دشمن کی فوج سے لڑتے وقت اپنے فوجیوں کی محنت کو دیکھے ۔
(منواسمرتی) بحوالہ اسلام اور ہندو دھرم کا تقابلی مطالعہ،جلد اول، صفحہ نمبر ۸۰۶
(۱۱) اے آگے بڑھنے والے مردو! تم دوڑ کر دشمن سے آگے نکل جائو اِندر کے حکم سے دشمنوں کو مارو بھیڑ کو جس طرح بھیڑیا مارتا ہے اسی طرح دشمن کو پیس دو۔ تمہارا وہ دشمن چھوٹنے نہ پائے اس کی جان کو بھی باندھ دو۔
(اتھروید) بحوالہ اسلام اور ہندو دھرم کا تقابلی مطالعہ،جلد اول، صفحہ نمبر ۸۰۷
(۱۲) اے موت والے تم خطرناک استعمال کرنے والے منتر سے نقصان پہنچانے والے اور رعایا کو تکلیف دینے والے کو ہلاک کردو، کسی کو نہ چھوڑو، ان خطرناک حملہ کرنے والوں کو ماردو۔
(اتھروید) بحوالہ اسلام اور ہندو دھرم کا تقابلی مطالعہ،جلد اول، صفحہ نمبر ۸۰۷
(۱۳) اے منتر سے تیز کئے ہوئے ہتھیار، یہاں سے پھینکا ہوا دور جا۔ توجا اور دشمنوں کے پاس پہنچ۔ ان دشمنوں میں سے کسی کو نہ چھوڑنا۔
(رگوید) بحوالہ اسلام اور ہندو دھرم کا تقابلی مطالعہ،جلد اول، صفحہ نمبر ۸۰۷
(۱۴) دشمن قابو میں آجائے تو اس کو نہیں چھوڑنا چاہئے۔ اگر دشمن طاقتور ہے تو نرمی سے اس کی خدمت کرے اگر کمزور ہےتو اس کو مار ڈالے۔ بچا ہوا دشمن جلدی ہی خطرہ پیدا کر دیتا ہے۔
(ویدرنتی) بحوالہ اسلام اور ہندو دھرم کا تقابلی مطالعہ،جلد اول، صفحہ نمبر ۸۰۸
(۱۵) دشمن کے شہر کو چاروں طرف سے گھیرلے اس کے صوبوں کو ہر طرح سے نقصان پہنچائے۔ مسلسل وہاں کا سبزہ، اناج، پانی اور ایندھن تباہ و برباد کرتا رہے ۔ (منواسمرتی، ادھیائے ۷، سلوک ۱۹۵)
(۱۶) ہم لوگ جس سے دشمنی کریں یا جو ہم سے دشمنی کرے اس کو ہم شیر کے منہ میں ڈال دیں اور راجا بھی اس کو شیر کے منہ میں ڈال دے۔
(یجروید) بحوالہ اسلام اور ہندو دھرم کا تقابلی مطالعہ،جلد اول، صفحہ نمبر ۸۰۹
(۱۷) ہم لوگ جس سے دشمنی کریں یا جو ہم سے رنج کرے اس کو ہم لوگ خونخوار جانوروں کے منہ میں ڈال دیں ۔
(یجروید) بحوالہ اسلام اور ہندو دھرم کا تقابلی مطالعہ،جلد اول، صفحہ نمبر ۸۰۹
(۱۸) جن سے ہم نفرت کرتے ہیں یا جو ہم کو تکلیف دیتے ہیں ان کو ہم ان ہوائوں میں ڈال کر اس طرح تکلیف دیں جس طرح بلی کے منہ میں چوہا۔
(یجروید) بحوالہ اسلام اور ہندو دھرم کا تقابلی مطالعہ،جلد اول، صفحہ نمبر ۸۰۹
(۱۹) اے انسان! جس طرح بھی دشمنوں کو ہلاک کیا جا سکے اس طرح کرکے ہمیشہ کی راحت و زندگی بسر کر۔
(یجروید) بحوالہ اسلام اور ہندو دھرم کا تقابلی مطالعہ،جلد اول، صفحہ نمبر ۸۰۹
(۲۰) اے راج پرش! آپ دھرم کے مخالف دشمنوں کو آگ میں جلا ڈالیں۔ اے جاہ و جلال والے پرش وہ جو ہمارے دشمنوں کو حوصلہ دیتا ہے آپ اس کو الٹا لٹکا کر سوکھی لکڑی کی طرح جلائیں۔ (یجروید) بحوالہ اسلام اور ہندو دھرم کا تقابلی مطالعہ،جلد اول، صفحہ نمبر ۸۰۹
(۲۱) اے تیج دھاری ودوان پرش! آپ تیز رفتار دشمن کے کھانے پینے یا دیگر کام کاج کے مقامات کو اچھی طرح اجاڑیں اور ان کو اپنی تمام طاقت سے ماریں۔
(یجروید) بحوالہ اسلام اور ہندو دھرم کا تقابلی مطالعہ،جلد اول، صفحہ نمبر ۸۰۹
(۲۲) اے راجا! جس طرح حفاظت کرنے والے عالم کا پاک شاگرد سکھ دینے والے آگ وغیرہ پدارتھوں کو حاصل کرکے ویدوں کے علم کا جاننے والا ہو کر دشمنوں کو مارنے والا اور دشمنوں کے گائوں کو تباہ کرکے آپ کے جاہ و حشمت کو دوبالا کرتا ہے اسی طرح دیگر عالم لوگ بھی کریں۔
(یجروید) بحوالہ اسلام اور ہندو دھرم کا تقابلی مطالعہ،جلد اول، صفحہ نمبر ۸۱۰
(۲۳) دھرم کے مخالفوں کو زندہ آگ میں جلا دو ۔
(رگوید) بحوالہ اسلام اور ہندو دھرم کا تقابلی مطالعہ،جلد اول، صفحہ نمبر ۸۱۰
(۲۴) مخالفوں کا جوڑ جوڑ اور بند بند کاٹ دیا جائے۔
(یجروید) بحوالہ اسلام اور ہندو دھرم کا تقابلی مطالعہ،جلد اول، صفحہ نمبر ۸۱۰
(۲۵) اے پراکرمی۔ بہادر، سپہ سالار! آپ ہمیں دلی راحت دینے والے ہو آپ ہماری حفاظت کی خاطر تلوار، توپ بندوق کو پکڑیئے۔ آپ ہرن کی کھال کو لپٹے ہوئے تیرو کمان سے مسلح ہو کر ہماری حفاظت کے لئے آئیں۔ اور دشمنوں کی زبردست فوج کو درخت کے مانند کاٹ کر فتح حاصل کیجئے۔
(یجروید) بحوالہ اسلام اور ہندو دھرم کا تقابلی مطالعہ،جلد اول، صفحہ نمبر ۸۱۰
(۲۶) رتھ، گھوڑے، ہاتھی، چھتری، مال، غلہ، جانور، نوکر، گڑ، نمک، وغیرہ سامان اور تانبا، پیتل وغیرہ کے برتن ان میں جس چیز کو جو جیت کر لاتا ہے وہ اس کی ہوتی ہے، یدھ میں جیتے ہوئے ہاتھی گھوڑے، رتھ وغیرہ سب کچھ راجا کو پیش کردے۔ یہ وید کا قول ہے سبھی فوجیوں کے ذریعہ ایک ساتھ جیتا ہوا دھن ہو اس کو راجا فوجیوں میں بانٹ دے۔
(منواسمرتی ادھیائے۷، سلوک ۹۶، منودھرم شاشتر باب ۷، شلوک ۹۷)
(۲۷) جو چیز حاصل نہیں ہوتی ہے طاقت کے ذریعہ اس کو پانے کی خواہش کرے جو مال و دولت جیت کر لایا ہو اچھی طرح اس کی حفاظت کرے ۔
(منو اسمرتی، ادھائے۷، شلوک ۱۰۱، منودھرم شاشتر باب ۷، شلوک ۹۹)
(۲۸) حملے کے لئے ہر وقت تیار رہے، بہادری کی مستقل نمائش کرتا رہے۔ دشمن کی کمزوری کا ہمیشہ کھوج لگاتا رہے۔
(منودھرم شاشتر باب ۷ ، شلوک ۱۰۲)
(۲۹) حملہ کرنے کے لئے ہمیشہ تیار رہنے والے سے پوری دنیا خوفزدہ رہتی ہے اسے چاہئے کہ ساری مخلوق کو قابو کرے چاہے یہ کام طاقت کے بل بوتے پر ہی کیوں نہ ہو ۔
(منودھرم شاشتر باب ۷ ، شلوک ۱۰۳)
(۳۰) دشمنوں کو اس کی کمزوریوں کا علم ہرگز نہ ہونے پائے لیکن اسے دشمن کی کمزوری کا علم ہو۔ (منودھرم شاشتر باب ۷ ، شلوک ۱۰۵)
(۳۱) دشمن کے چیلنج کا سامنا ہو تو منہ نہ موڑے، خواہ طاقت میں دشمن برابر ہو، کمزور ہو یا طاقتور اسے کھشتری کا فرض یاد رکھنا چاہئے۔ (منودھرم شاشتر باب ۷ ، شلوک ۸۷)
(۳۲) مفاہمت میں دو متضاد مقاصد کا حصول پیش نظر ہے اپنی بیٹیاں شادی میں دے اوربیٹوں کو بچالے۔
(منودھرم شاشتر باب ۷ ، شلوک ۱۵۲)
(۳۳) شاہی حکمت عملی کے لیے چھ چیزیں قابل غور ہیں، اتحاد، جنگ، پیش قدمی، پڑائو، فوج کی دستوں میں تقسیم اور پناہ گاہ کی تلاش۔
(منودھرم شاشتر باب ۷ ، شلوک ۱۶۰)
(۳۴) جب رتھوں، لادو جانوروں اور عددکے اعتبار سے کمزور ہوں تو نہایت محتاط ہوکر خاموش بیٹھے اور رفتہ رفتہ دشمنوں سے مفاہمت کرتا جائے۔ (منودھرم شاشتر باب ۷ ، شلوک ۱۷۲)
(۳۵) جب دیکھے کہ دشمن کا پلہ ہر اعتبار سے بھاری ہے تو اپنا مقصد حاصل کرنے کے لئے اس کی فوج کو تقسیم کر دے۔
(منودھرم شاشتر باب ۷ ، شلوک ۱۷۳)
(۳۶) اگر دیکھے کہ حفاظت میں شر پھیلتا ہے تو بلا جھجک جنگ کا راستہ اختیار کرے۔ (منودھرم شاشتر باب ۷ ، شلوک ۱۷۶)
(۳۷) دشمن کو محصور کر چکے تو باہر خیمہ زن ہو۔ دھاووں سے اس کے علاقے اجاڑے گھاس خوراک، ایندھن، پانی کی تباہی جاری رکھے اس طرح تالاب فصلیں اور خندقین بھی تباہ کردے۔ دشمن پر شب خون مارے اور رات کو ہراساں کرے۔
(منودھرم شاشتر باب ۷ ، شلوک ۱۹۶)
(۳۸) دشمن کی کاروائی سے باخبر رہے اور جب مقدر ساتھ دے بلا خوف لڑتے ہوئے فتح کے لئے کوشش کرے۔
(منودھرم شاشتر باب ۷ ، شلوک ۱۹۷)
(۳۹) مناسب طور پر قوت لگانی چاہئے اور اس طرح لڑنا چاہئے کہ دشمن پر مکمل فتح حاصل کرے۔ (منودھرم شاشتر)
(۴۰) لڑائی میں فتح کے بعد دیوتائوں کی پوجا کرے سچے برہمنوں کو اعزازات دے۔ (منودھرم شاشتر باب ۷ ، شلوک۲۰۱)
(۴۱) جب جنگ کے لئے طلب کرے تو کشتریوں کے دھرم کو یاد کرکے میدان جنگ میں جانے سے نہ ہچکچائے بلکہ بڑی ہوشیاری کے ساتھ ان سے جنگ کرے جس سے اپنی کامیابی ہو۔
(ستیارتھ پرکاش سملاس چھٹا)
(۴۲) کبھی کبھی دشمنوں کو مغلوب کرنے کے لئے ان کے سامنے چھپ جانا واجب ہے کیوں کہ جس طرح بھی دشمن پر غالب آسکیں وہی کام کرنا چاہئے۔ (ستیارتھ پرکاش سملاس چھٹا)
(۴۳) ڈر کر بھاگا ہوا ملازم جو دشمنوں کے ہاتھ سے مارا جاتا ہے اس کو گناہ لگ جاتے ہیں۔ وہ قابل سزا ہوا ہے۔ نیز اس کی وہ عزت جس سے اس کو لوک پرلوک میں سکھ ملنے والی تھی اس کا آقا لے لیتا ہے۔ (سیتارتھ پرکاش سملاس چھٹا)
(۴۴) جو جنگ سے بھاگ جائے اس کو کچھ بھی سکھ نہیں ہوتا بلکہ اس کے نیک اعمال کا پھل ضائع ہو جاتا ہے۔
(ستیارتھ پرکاش سملاس چھٹا)
(۴۵) وہ شہرت کو پاتا ہے جس نے دھرم کو سامنے رکھ کر بخوبی جنگ کی ہو۔ (ستیارتھ پرکاش سملاس چھٹا)
(۴۶) لڑائی میں جو گاڑی، گھوڑا، دولت، رسد، جانور، عورتیں، گھی، تیل وغیرہ فتح کئے ہو وہی اس کو لے گا۔
(ستیارتھ پرکاش سملاس چھٹا)
(۴۷) فوج کے آدمی فتح کی ہوئی چیزوں میں سے سولہواں حصہ راجا کو دے دے اور راجا بھی اس دولت میں سے جو سب نے مل کر فتح کی ہو سولہواں حصہ فوج کے سپاہیوں کو دے دے۔
(ستیارتھ پرکاش سملاس چھٹا)
(۴۸) اگر کوئی لڑائی میں مرگیا ہو تو اس کا حصہ اس کی عورت اور اولاد کو دے دے۔ (ستیارتھ پرکاش سملاس چھٹا)
(۴۹) فتح پاکر ان سے اقرار نامہ لکھا لے کہ تم کو ہمارے حکم کے مطابق یعنی دھرم سے پیوستہ سیاست ملکی کے موافق عمل کرکے انصاف سے رعایا پروری کرنی ہوگی۔ (ستیارتھ پرکاش سملاس چھٹا)
(۵۰) بلا صف بندی کے لڑائی نہ کرے۔
(ستیارتھ پرکاش، سملاس چھٹا)