ہر فن کا امام

ہر فن کا امام
اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہر فن کا امام نظر آتے ہیں ۔ آپ نے فن شاعری پر بھی طبع آزمائی کی اور آپ فن شاعری کے بھی امام نظر آتے ہیں ۔آپ کا کلام تصنع اور ہزل سے پاک ہے ، آپ کی شاعری قرآن و حدیث کا ترجمان ہے۔ آپ کے ہر شعر سے عشق رسول کی خوشبو پھیلتی ہے ۔ آپ کے اشعارمیں قرآن و حدیث کے الفاظ بدرجہ اتم موجود ہیں ، آپ کے کلام میں فصاحت وبلاغت، سلاست و روانی تسلسل بیانی موجود ہے ۔ آپ کا ایک ایک شعر بھٹکے ہوئے کے لئے مشعل راہ ہے ، آپ کے بعض اشعار دیوبندیوں اور وہابیوں کے لئے شمشیر برہنہ ہے ، آپ کے کلام میں جو خوبیاں نظر آتی ہیں وہ اچھے اچھے شاعروں کے کلام میں نظر نہیں آتی ، آپ کی قلم سے نکلا ہوا ایک ادنی شعر اچھے شاعروں کے اچھے اشعار پر بھاری ہے ، اگر آپ جائزہ لینا چاہتے ہیں تو غالب کے کلام کا بغور جائزہ لیجئے ، ڈاکٹر علامہ اقبال کے اشعار کا مطالعہ کیجئے ، مومن کے کلام کو پڑھئے ، میر تقی میر کے کلام کا جائزہ لیجئے، داغ دہلوی کے اشعار کا تجزیہ کیجئے ، چکبست کے اشعار دیکھئے ،فراق گورکھپوری کے کلام کاجائزہ لیجئے ، محمد حسین آزاد کے کلام دیکھئے ، سرسید احمد کے اشعار کو پڑھتے شکیل بدایونی کے کلام دیکھئے ، الطاف حسین حالی کے کلام کا جائزہ لیجئے ، قرۃالعین کے کلام پڑھئے ، مہدی حسن کے کلام کو پڑھئے ، حفیظ جالندھیری کے کلام کا جائزہ لیجئے ، اکبر الہ آبادی کے کلام پڑھئے ، عبدالحلیم شرر کے کلام کا جائزہ لیجئے ، آپ تمام نامور شعراء کے کلام کا بغور جائزہ لیجئے،اس کے بعد دیوان اعلی حضرت حدائق بخشش کا جائزہ لیجئے ۔ حدائق بخشش کا ایک ادنی شعر بیچ میں رکھئے اور تمام شاعروں کے کلام کو چاروں طرف رکھئے تو ایسا معلوم ہوگا کہ سورج کے چاروں طرف چراغ رکھ دیا گیا ہے اور بے ساختہ یہ شعر زبان پر جاری ہوجائے گا ۔
ملک  سخن کی  شاہی تم  کو رضا ؔمسلم
جس سمت آگئے ہو سِکّے بٹھا دئیے ہیں