ہارمون کیا ہے؟
آئیے ملعون وسیم رضوی کے جھوٹ کو ثابت کرنے کے لئے ہارمون (Hormone) کے بارے میں جانتے ہیں۔
ویکی پیڈیا رپورٹ کے مطابق ہارمون کو سب سے پہلے 1902 میں برطانوی ماہرین فعلیات ڈبلیو بائیلس (W Bayliss) اور ای اسٹرلنگ (E. Starling) نے شناخت کیا تھا اور سب سے پہلے 1905 میں اس اصطلاح کو استعمال کرنے والا بھی ای اسٹرلنگ ہی تھا، ان کے الفاظ یہ ہیں۔ یہ کیمیائی پیامبر یا ہارمونز جیسا کہ ہم انہیں پکار سکتے ہیں، خون کے بہائو کے ذریعے ان اعضا سے جہاں یہ تیار کئے گئے ہوں، ان اعضا تک لئے جاتے ہیں جہاں انہیں اثرپیدا کرنا ہو۔
These chemical messengers, however, or hormones, as we might call them, have to be carried from the organ where they are produced to the organ which they affect by means of the blood stream.
محترم قارئین! ملعون وسیم رضوی کے سفید جھوٹ کا اندازہ لگائیں کہ معاذ اللہ اس نے حضور اقدس ﷺ پر الزام لگایا کہ آپ کے دماغ میں ہارمون بڑھ گیا تھا۔ اس جاہل کو معلوم ہونا چاہئے کہ ہارمون کی دریافت 1902 میں ہوئی تو چودہ سو سال پہلے کیسے معلوم ہوگیا کہ ہارمون کی مقدار بڑھ گئی تھی اور کس ٹیسٹ کے ذریعہ پتہ لگایا گیا تھا۔ ایک ذی شعور اچھی طرح سے جان سکتا ہے کہ یہ تمام باتیں جھوٹ اور توہین پر مبنی ہیں۔ ملعون وسیم رضوی سو سال پہلے کی دریافت کو چودہ سو سال پہلے کی بتا رہا ہے اگر جھوٹ بولنے میں اور ترقی کی تو یہ کہہ دے گا کہ رام کے زمانے میں لوگ موبائیل پر بہت بات کرتے تھے۔
جھوٹا ملعون کہتا ہے کہ ہارمون کی مقدار بڑھنے کی وجہ سے جنسی طاقت بڑھ گئی تھی۔
جب پتہ لگانے کا کوئی ذریعہ ہی نہیں تھا تو یہ کہنا کیسے درست ہوگا کہ اس کی وجہ سے جنسی طاقت بڑھ گئی تھی۔ یہ جھوٹ پر جھوٹ ہے۔
کون سی طاقت کس کو کتنی ہوتی ہے، یہ نظام قدرت پر منحصر ہے۔ جنسی طاقت، جسمانی طاقت، مدافعت کی طاقت ہر ایک کی الگ الگ ہوتی ہے ہر ایک کو یکساں تصور نہیں کیا جاسکتا۔ کیا ہم مشاہدہ نہیں کرتے کہ ایک شہری ناشتے میں ایک روٹی یا ایک پائو پر اکتفا کرتا ہے جب کہ دیہات میں کھیت میں کام کرنے والا آسانی کے ساتھ دس دس روٹیاں کھا لیتا ہے کیوں کہ ان کی قوت ہاضمہ قوی ہوتی ہے۔ اسی طرح سے جنسی طاقت اور جسمانی طاقت بھی الگ الگ ہوتی ہیں جیسا کہ آپ نے سابقہ صفحات میں پڑھا کہ ایک روسی باشندہ ۶۹؍ بچوں کا باپ بنا، کیا یہ نظام قدرت نہیں؟ امریکہ کی ناڈیہ سلیمن نے ایک ساتھ ۸؍ بچوں کو جنم دیا، کیا یہ نظام قدرت نہیں؟ حضور اقدس ﷺ کو قوت باہ و دیعت کی گئی تھی۔
طبقات ابن سعد، جلد ۸، صفحہ ۲۷۳
’’حضور اقدس ﷺ نے فرمایا میرے پاس حضرت جبرئیل علیہ السلام ایک ہانڈی لے کر آئے، میں نے اس میں کھایا اور مجھے چالیس آدمیوں کے برابر قوت باہ عطا کر دی گئی۔‘‘
اب اگر کوئی کہے کہ ہارمون بڑھ جانے کی وجہ سے جنسی طاقت زیادہ تھی تو وہ کتنا بڑا جاہل ہوگا۔ ایسی باتیں تو دوسرے مذاہب کی مذہبی شخصیات سے متعلق بھی ان کی کتابوں میں ملتی ہیں جیسے شری کرشن، ہنومان جی، راجا دشرتھ، شوبھری رشی، جن کے پاس کثیر تعداد میں بیویاں تھیں۔ تو کیا ان کے بارے میں بھی معلون وسیم رضوی ایسی گفتگو اور ایسے پھوہڑ تبصرے کرنے کی ہمت کرسکتا ہے؟