گھسیڑنے کی عادت
محترم قارئین! آپ نے ملعون وسیم رضوی کی دی گئی حدیث کو بھی پڑھا، میں نے بھی ابودائود کی وہی حدیث آپ کے سامنے پیش کی، اس کے بعد ایک حدیث اس سے متعلق صحیح مسلم کی بھی پیش کی۔
آپ خود اندازہ لگائیں کہ ملعون وسیم رضوی نے کتنی جھوٹی باتیں اپنی طرف سے اس حدیث میں ملا دی ہیں۔ اب میں اس کی جھوٹی باتوں کو شمار کراتا ہوں۔
جھوٹ نمبر۱:
’’رسول نے حنین کے قبیلہ اوطاس پر حملہ کیا۔‘‘
تبصرہ: حضور اقدس ﷺ نے حملہ نہیں کیا بلکہ صحابہ کرام کو حملہ کے لئے روانہ کیا آپ اس میں شامل نہ تھے۔
جھوٹ نمبر۲:
’’رسول نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ پکڑی گئیں عورتوں سے عصمت دری کرو۔‘‘
تبصرہ: محترم قارئین! آپ نے اوپر دی ہوئی حدیث کو پڑھا، اللہ کے رسول نے ایسا حکم دیا ہی نہیں یا ایسی کوئی بات کہی ہی نہیں ہے۔
ملعون وسیم رضوی نے اپنی طرف سے یہ بات گڑھ دی۔
جھوٹ نمبر ۳:
’’عورتوں کے شوہر کے سامنے ایسا کرنے سے ہچکچا رہے تھے۔‘‘
تبصرہ: جھوٹے پر اللہ کی لعنت ہو وہ اس طرح سے بیان کر رہا ہے کہ ان کے شوہر وہاں کھڑے تھے اور یہ ملعون بھی وہاں موجود تھا اور سب کچھ اپنی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ استغفراللہ۔ حدیث میں یہ ہے کہ وہ شادی شدہ تھیں۔ یہ کم عقل شادی شدہ سے یہ سمجھ رہا ہے کہ ان کے شوہر وہاں موجود تھے اس لئے نہایت گندہ عنوان ’’شوہر کے سامنے عصمت دری‘‘ ڈالا ہے۔
جب اتنا بڑا جھوٹ بولنا ہی تھا اور اپنے آپ کو معلم الکاذبین یعنی جھوٹوں کا گرو کہلانا ہی تھا تو عنوان ڈال دیتا ’’میرے سامنے عصمت دری۔‘‘ اتنے جھوٹوں میں ایک جھوٹ کا اور اضافہ ہو جاتا، اتنی جھوٹی باتوں سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ اس کی سرشت میں جھوٹ اور صرف جھوٹ ہے سچ نام کی کوئی چیز نہیں۔
قارئین! آپ نے ملاحظہ فرمایا اب تک سیکڑوں جھوٹ ثابت ہوچکے ہیں۔
جھوٹ نمبر ۴:
’’گرفتار شدہ عورتوں میں سے اپنی عمر کی عورتوں کے ساتھ مباشرت کرسکتے ہو۔‘‘
تبصرہ: محترم قارئین! آپ نے ابودائود اور صحیح مسلم کی دونوں حدیثوں کو ملاحظہ فرمایا، دونوں حدیثوں میں کہیں بھی لکھا نہیں ہے کہ اپنی عمر کی عورتوں کے ساتھ مباشرت کرسکتے ہو۔ (معاذ اللہ سو بار معاذ اللہ! )
جب کوئی مسلسل جھوٹ بولتا ہے پھر وہ جھوٹ بولنے کا عادی ہو جاتا ہے تو اس کی زبان و قلم سے جھوٹ کے علاوہ سچ نکلتا ہی نہیں۔
ملعون وسیم رضوی کا یہی حال ہے۔ ملعون وسیم رضوی اپنی کتاب کے صفحہ ۷۸ پر ’’بہو کے ساتھ صحبت‘‘ کے عنوان کے تحت لکھتا ہے کہ
’’زید کی شادی ہوگئی، اس کی بیوی کا نام زینب بنت جحش تھا، وہ کافی خوبصورت اور گوری تھی، اس لئے محمد صاحب کی نظر خراب ہوگئی، انہوں نے اعلان کر دیا آج سے میرے لے پالک بیٹے کو میرے نام سے نہیں اس کے اصلی باپ کے نام سے پکارا جائے۔ اس کی تصدیق کے لئے قرآن کی سورہ 33/5کا بھی حوالہ دیا۔ زینب کو حاصل کرنے کے لئے محمد صاحب نے قرآن کا غلط استعمال کیا۔‘‘