کون سچا کون جھوٹا

کون سچا کون جھوٹا
ملعون وسیم رضوی اپنی کتاب صفحہ ۸۲؍ پر لکھتا ہے۔
’’عائشہ محمد کو جھوٹا مانتی تھی۔‘‘
احیاء العلوم کا ایک حوالہ نقل کرتا ہے تاکہ معاذ اللہ حضور ﷺ کو جھوٹا ثابت کیا جاسکے ۔ ملعون وسیم رضوی لکھتا ہے۔
’’ایک مرتبہ کسی بات پر رسول اور عائشہ میں بحث ہوگئی اور فیصلہ کرنے کے لئے عائشہ نے اپنے والد ابوبکر کو منصف بنایا۔ تب عائشہ نے رسول سے کہا ’’کہو تم جھوٹ نہیں بولو گے؟ صرف سچ ہی بولو گے؟ اس پر ابوبکر نے عائشہ کو اتنا زور سے تھپڑ مارا کہ ان کے منہ سے خون نکل گیا۔‘‘
قارئین! ملعون وسیم رضوی نے جو حضور اقدس ﷺ کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے مذموم اور ناکام کوشش کی ہے اس کی حیثیت ایک پانی کے بلبلے سے زیادہ نہیں ہے۔ اس حقیقت کو جاننے کے لئے اصل حدیث عربی متن کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں۔
جس کو امام غزالی نے بیان کیا۔ خطیب بغدادی نے اپنی تاریخ، تاریخ بغداد (جلد نمبر ۱۱، صفحہ ۲۳۹، دارالکتب العلمیہ، بیروت لبنان) میں بھی بیان کیا ہے۔
اصل حدیث عربی متن کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں۔
’’عن عائشۃ قالت کان بینی وبین رسول اللہ کلام اترضین بابی بکر قلت نعم فبعث الیہ فجاء فقال رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم اقض بینی وبین ھذہ قال انا یا رسول اللہ؟ قال نعم فتکلم رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم فقلت لہ اقصد یا رسول اللہ قالت فرفع ابوبکر یدہ فلطم وجھی لطمۃ بدرمنھا انفی و منخرای دما وقال لا ام لک فمن یقصد؟ واذا لم یقصد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم۔‘‘
ترجمہ: ’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ میرے اور نبی کریم ﷺ کے درمیان کوئی بات ہوگئی تو نبی کریم ﷺ نے کہا: تم اس بات پر راضی ہو کہ فیصلہ کرنے کے لئے حضرت ابوبکر کو بلائوں تو میں نے کہا ہاں! رسول خدا ﷺ نے حضرت ابوبکر کو بلوا بھیجا، حضرت ابوبکر تشریف لائے تو آپ نے کہا کہ اقض بینی و بین ھذہ میرے اور عائشہ کے درمیان فیصلہ کرو، حضرت ابوبکر نے تعجب سے کہا انا یا رسول اللہ؟ یا رسول اللہ میں انصاف کروں؟ تو آپ نے فرمایا: ہاں۔ پھر حضور ﷺ نے گفتگو شروع کی۔ حضرت عائشہ نے کہا اقصد یا رسو ل اللہ میانہ روی اختیار کیجئے گا، اس پر حضرت ابوبکر نے حضرت عائشہ کے چہرے پر طمانچہ مارا تو ان سے خون جاری ہوا اور کہا فمن یقصد؟ اذا لم یقصد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم
ترجمہ: ’’رسول خدا ﷺ میانہ روی اختیار نہ کریں گے تو کون کرے گا؟‘‘
قارئین! حدیث کے عربی متن سے واضح ہوگیا کہ ملعون وسیم رضوی جو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی جانب سے حضور ﷺ کو جھوٹا ہونے کا الزام لگا رہا ہے سراسر بکواس اور من گھڑت ہے۔ ملعون وسیم رضوی کی عبارت کو ایک بار اور پڑھئے،
’’کہو تم جھوٹ نہیں بولو گے،صرف سچ ہی بولو گے۔‘‘
میں پہلے الفاط کی وضاحت کردوں، بعد میں ملعون وسیم رضوی کی خبر لیتا ہوں۔
حضرت عائشہ نے فرمایا ’’اقصد یا رسول اللہ‘‘ اس کا مطلب ہوتا ہے یا رسول اللہ! میانہ روی اختیار کیجئے یا اعتدال برتیے ’’اقصد یا رسول اللہ‘‘ کا ترجمہ ’’کہو تم جھوٹ نہیں بولو گے، صرف سچ ہی بولو گے۔‘‘ کرنا کتنی بڑی خیانت اور مکاری ہے۔ ملعون وسیم رضوی اس میں کافی مہارت رکھتا ہے۔
سچ اور جھوٹ کے لئے عربی میں صدق اور کذب کا لفظ آتا ہے پوری عبارت میں کہیں بھی صدق اور کذب کا لفظ نہیں آیا ہے۔ تو پھر ’’سچ اور جھوٹ‘‘ کا ترجمہ کرنا ملعون وسیم رضوی کی مکاری نہیں تو اور کیا ہے؟
اب میں ملعون وسیم رضوی سے پوچھنا چاہتا ہوں جب عدالت میں جج یا وکیل کسی سے پوچھتے ہیں کہ جو تم کہنا سچ کہنا، سچ کے علاوہ کچھ نہیں کہنا، کیا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جج نے یا وکیل نے اس شخص کو جھوٹا سمجھ لیا، کوئی نہیں کہے گا کہ جج نے یا وکیل نے اس کو جھوٹا سمجھ لیا لیکن ملعون وسیم رضوی کی درج بالا خیانت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ اِس جیسا جاہل اُس شخص کو جھوٹا سمجھے گا۔
ایک اور حدیث ملاحظہ کیجئے
طبقات ابن سعد، جلد نمبر ۸، صفحہ ۹۵
’’حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کی قسم! حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا حضور ﷺ پر کبھی جھوٹ نہیں باندھ سکتیں۔‘‘
اس گفتگوسے یہ ثابت ہوگیا کہ معاذ اللہ سو بار معاذ اللہ حضرت عائشہ کی گفتگو سے حضور ﷺ کا جھوٹا ہونا ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔ ہر عام و خاص کو یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی ہوگی۔