الجواب :
اگر بٹن نہ لگانے کی وجہ سے سینہ کھلا رہا تو مکروہ تحریمی ورنہ تنزیہی۔
شامی میں ہے:
لو أدخل يديه في كميه ولم يشد وسطه أو لم يزر أزراره فهو مسيء لأنه يشبه السدل. (۳۴۹/۲)
کرتے یا جبے کی آستین میں ہاتھ ڈالا مگر بٹن نہ لگایا تو برا کیا کہ یہ بھی سدل ثوب کے ہی مشابہ ہے۔
در مختار میں ہے:
كره تحريما سدل ثوبه أي إرساله بلا لبس معتاد ۔ (در مختار : ۳۴۹/۲)
مشکاۃ شریف میں ہے:
عن سلمة بن الأكوع قال قلتُ: يا رسولَ اللهِ، إنِّي رجلٌ أصيدُ، أفأصلِّي في القميصِ الواحِدِ؟ قال: نعَمْ، وازرُرْه ولو بشوكةٍ ۔ ( الکامل فی الضعفاء : ۳۳۱۹/۶ )
سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا یارسول اللہ میں شکاری آدمی ہوں تو کیا میں ایک ہی قمیص میں نماز پڑھ لیا کروں ؟ فرمایا : ہاں، گریبان بند کرلیا کرو چاہے کانٹے سے ہی ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم
Post Views: 2