چار شادی کی اجازت
فَانْکِحُواْ مَا طَابَ لَکُمْ مِنَ النِّسَائِ مَثْنٰی وَ ثُلٰثَ وَ رُبَعْ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُواْ فَوَحِدَۃ (پارہ۴، رکوع۱۲)
ترجمہ: تو نکاح میں لے جاؤ جو عورتیں تمہیں خوش نظر آئیںدو دو اور تین تین اور چار چار پھر اگر ڈرو کہ دو بیویوں کو برابر نہ رکھ سکو گے تو ایک ہی کرو۔
برادران اسلام اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ استطاعت اور اپنی حیثیت دیکھ لو اور چار سے زیادہ نکاح نہ کرو اور اگر بیویوں کو برابر نہ رکھ پاؤگے تو ایک ہی شادی کرو جس طرح سے انسانی زندگی کے لیے کھانا ضروری ہے اس طرح نسل بقا کے لیے نکاح ضروری ہے اللہ عز وجل شانہ نے اسے مباح کیا ہے لیکن شہوت کے لیے نہیں بلکہ شہوت کو نکاح کے لیے پیدا کیا ہے تاکہ لوگ نکاح کریں اور دین کی راہ پر چلنے والے پیدا ہوں اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی عبادت کریں۔
اس آیت کریمہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک مرد کو چار بیویاں رکھنے کی اجازت ہے تمام امت کا اس پر اجماع ہے بیک وقت چار بیویوں سے زیادہ رکھنا جائز نہیں سوائے حضور فخر موجودات ﷺ کے یہ آپ کے خصائص میں سے ہیں حدیث شریف میں ہے کہ ایک شخص اسلام لایا اس کی دس بیویاں تھیں حضور سرور کائنات ﷺ نے فرمایا ان میں سے چارکو رکھنا۔
اگر کسی کی دو سے زائد بیویاں ہیں تو اس پر لازم ہے کہ ان کے درمیان انصاف کریں ہر ایک کا حقوق برابر ادا کریں اس میں نئی اور پرانی کا کوئی فرق نہ کیا جائے گا بلکہ ہر ایک کو برابر دیکھا جائے گا آج کل ماڈرن عورتیں اپنے شوہر کو دوسری شادی کی اجازت نہیں دیتیں اگر شوہر نے دوسری کر لی تو طلاق کا مطالبہ کرتی ہیں اور ناراض ہو کر میکے جا بیٹھتی ہیں یہ شرعاً درست نہیں یہ تو اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اجازت ہے البتہ اپنے حقوق کا مطالبہ کر سکتی ہیں۔
حضور سیدِ عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو نکاح کی استطاعت رکھتا ہو وہ نکاح کرے کیونکہ یہ نگاہ کو نیچی رکھتا ہے اور شرم گاہ کی حفاظت کرتا ہے اور جو استطاعت مالی نہ رکھتا ہو وہ روزہ رکھا کرے کیونکہ وہ شہوت کو توڑتا ہے۔
پیارے دینی بھائیو! نکاح کی وجہ سے انسان زنا کاری سے محفوظ رہتا ہے اس کا دامن گناہوں سے محفوظ رہتا ہے لہذا بالغ ہونے پر نکاح کرنے میں تاخیر نہ کریں۔