پیڈوفیلیا کیا ہے
پیڈوفیلیا یہ ہے کہ غیر مشتہات بچوں سے جنسی تعلق قائم کیا جائے۔ یہ سب جانکاری ملعون وسیم رضوی کو نہیں ہے۔ لڑکیوں کی بلوغت کے متعلق بی بی سی کی ایک رپورٹ جو ۱۶؍ مئی ۲۰۰۵ کو شائع ہوئی ملاحظہ فرمائیں۔
ترقی یافتہ ممالک میں بچوں کی سن بلوغت کی عمر کم سے کم ہوئی ہے اور بعض لڑکیاں سات سال کی عمر میں بھی بالغ ہو رہی ہیں۔ ۱۹۹۰ ء میں لڑکیوں میں بلوغت کی ابتدائی علامات آٹھ سال کی عمر میں پیدا ہونا شروع ہوتی تھی۔ اب ماہرین کے مطابق کچھ لڑکیاں سات سال کی عمر میں بالغ ہو جاتی ہیں۔ سویڈن کے ماہرین صورت حال کا مختلف پہلوئوں سے جائزہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اب یورپ میں بارہ ٹیمیں اس عمل کو سمجھنے کے لئے ایک تین سالہ منصوبے پر کام کر رہی ہیں۔
اب اس میں کوئی شک نہیں رہ جاتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رخصتی کے وقت بالغہ تھیں، اس شادی پر اعتراض کرنا اپنی حماقت کو ظاہر کرنا ہے۔
اُس دور میں زوجین کے درمیان عمر کے تفاوت کو کوئی معیوب نہیں سمجھا جاتا تھا ورنہ، کفار قریش اس شادی پر مضحکہ خیز باتیں کرتے۔ تمام تواریخ کی کتابوں میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔
حضرت فاطمہ زہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی لڑکی سے خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شادی ہوئی۔
اگر زوجین راضی ہوں تو عمر کوئی معنی نہیں رکھتی۔ گنیز ورلڈ ریکارڈ کے مطابق امریکہ کی باشندہ گرب جانیوے Grubb Janeway جن کی عمر ۱۸؍ سال تھی اس نے جان جانیوے John Janeway سے شادی کی جن کی عمر اکیاسی 81 سال تھی۔ دونوں کی عمر میں ۶۳؍ سال کا فرق تھا۔ کسی نے اس شادی پر انگشت نمائی نہیں کی۔
ملعون وسیم رضوی اپنی کتاب کے صفحہ نمبر ۷۳؍ پر لکھتا ہے کہ
’’انسانی علم الحیات پچھلے دو لاکھ سالوں سے بدل نہیں گئی ہے چاہے کوئی بھی نسل یا آب و ہوا ہو سبھی لڑکیاں ۱۳؍ سال کی عمر میں بلوغت کو پہنچ جاتی ہیں۔ پچھلے دو لاکھ سالوں میں اس میں تبدیلی نہیں ہوئی ایک نو سال کی بچی افریقہ، الاسکا، یا عرب میں بچی ہی ہے۔‘‘
مذکورہ بالا حوالوں سے ملعون وسیم رضوی کی باتوں کی دھجیاں اُڑتی ہوئی نظر آتی ہیں۔
یہ غلط ہے کہ لڑکیاں صرف ۱۳؍ سال کی عمر میں بالغ ہوتی ہیں بلکہ اس سے قبل بھی بالغ ہو جاتی ہیں۔ اس کا دعویٰ غلط ہے، وہ جاہل ہے، زمانے کے حالات پر اس کی نظر نہیں ہے۔ من لایعرف اھل زمانہ فھو جاہل جو زمانے پر نظر نہیں رکھتا وہ جاہل ہے۔
پوری کائنات نظام قدرت پر منحصر ہے۔ نظام قدرت کے سامنے طبی اور سائنسی نظریات بے بس نظر آتے ہیں۔ چند مثالیں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں اس سے ملعون وسیم رضوی کی عقل ٹھکانے آجائے گی اور سمجھ میں آجائے گا کہ علم الحیات انسانی میں تبدیلی ہوسکتی ہے یا نہیں؟ ۱۳؍ سال سے کم عمر کی بچیاں بالغ ہوسکتی ہیں یا نہیں؟ الگ الگ ممالک میں مختلف اثرات مرتب ہوسکتے ہیں یا نہیں؟