پڑوسی کے حقوق
وَعْبُدُواْ اللّلہَ وَلَا تُشْرِکُواْ بِہِ شَیْئًا وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَاناً وَّ بِذِالْقُرْبیٰ وَ الْیَتٰمٰی وَ الْمَسَکِیْنَ وَ الْجَارِ ذِیْ الْقُرْبیٰ وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصّاَحِبِ بِالْجُنْبِ وَابْنِ السَّبِیْلِ وَمَامَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ (پارہ۵، رکوع۳)
ترجمہ: اور اللہ کی بندگی کرو اس کا شریک کسی کو نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ سے بھلائی کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور پاس کے ہمسایہ اور دور کے ہمسایہ اور کروٹ کے ساتھی اور راہ گیر اور اپنی باندی غلام سے۔
برادران اسلام اس آیت کریمہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں اپنی بندگی و والدین کے حقوق کی ادائیگی قرابت داروں اور یتیموں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم فرمایا ہے وہیں پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کا بھی حکم فرمایا ہے پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا نص قرآنی سے ثابت ہے۔
حدیث شریف میں ہے کہ سرور کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جبرئیل علیہ السلام ہمسایوں کے ساتھ احسان کرنے کی اس قدر تاکید کرتے رہے کہ مجھے گمان ہوتا تھا کہ عنقریب ان کو وارث قرار دے دیا جائے گا سیدنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آقائے دو جہاں ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص خداوند قدوس اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کا اکرام کرے سیدنا حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سیدِ عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب کوئی شخص ہانڈی میں کچھ پکائے تو شوربا زیادہ کرے اور پڑوسی کو بھی اس میں سے کچھ دے۔
سیدنا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ امام المرسلین ﷺ کو میں نے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ وہ مومن نہیں جو خود پیٹ بھر کر کھائے اور اس کا پڑوسی اس کے پہلو میں بھوکا رہے۔
ہمارے دینی بھائیو ہمیں پڑوسیوں کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آنا چاہیے پڑوسی کے جو حقوق ہیں اسے بھی ادا کریں اور اس طرح کے ہم سے پڑوسیوں کو کسی طرح کی کوئی تکلیف نہ ہو اور دل شکنی نہ ہو۔