پانی اور سمندر
اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْکَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللّٰہِ لِیُرِیَکُمْ مِنْ اٰیِٰہِ اِنَّ فِی ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوْرٍ (پارہ۲۱، رکوع۱۳)
ترجمہ: کیا تو نے نہ دیکھا کہ کشتی دریا میں چلتی ہے اللہ کے فضل سے تاکہ تمہیں وہ اپنی کچھ نشانیاں دکھائے بیشک اس میں نشانیاں ہیں ہر بڑے صبر کرنے والے شکر گزار کو۔
برادران اسلام خالق کائنات نے قرآن مقدس میں متعدد جگہ پانی اور سمندر کا ذکر فرمایا ہے اور اس کے فوائد سے آگاہ کیا ہے اور اس میں غور و فکر کرنے کی دعوت دی ہے۔ سورہ ابراہیم میں ہے ’’کشتی کو تمہارے لیے مسخر کیا کہ سمندر میں اس کے حکم سے چلے‘‘ سورے نحل میں ارشاد ربانی ہے ’’اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے سمندر کو مسخر کر رکھا ہے تاکہ تم اس سے تروتازہ گوشت لیکر کھاؤ اور اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو تم دیکھتے ہو کہ کشتی سمندر کا سینہ چیر کر چلتی ہے یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو اور اس کے شکر گزار بنو‘‘ سورہ ق میں پروردگار عالم نے یوں ارشاد فرمایا ہے ’’اور آسمان سے ہم نے برکت والا پانی نازل کیا پھر اس سے باغ اور فصل کے غلے اور بلند و بالا کھجور کے درخت پید کر دیے جن پر پھلوں سے لدے ہوئے خوشے تہ بہ تہ لگتے ہیں یہ انتظام ہے بندوں کو رزق دینے کا اس پانی سے ہم ایک مردہ زمین کو زندگی بحش دیتے ہیں ایسے ہی تمہارا قبر سے نکلنا‘‘ سورہ رعد میں فرمان الٰہی ہے اللہ نے آسمان سے پانی برسایا اور ہر ندی نالہ اپنے ظرف کے مطابق اسے لے کر چل نکلا پھر جب سیلاب اٹھا تو سطح پر جھاگ بھی آگئے‘‘ سورہ ملک میں اللہ عز و جل شانہ نے اپنے پیارے محبوب علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مخاطب کرکے فرمایا ہے ’’ان سے کہو کبھی تم نے یہ بھی سوچا ہے کہ اگر تمہارے کنویں کا پانی زمین میں اتر جائے تو کون ہے جو اس پانی کی بہتی سوتیں تمہیں نکال کر لادے گا۔‘‘
سورہ زمر میں ہے ’’کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس کو سوتوں چشموں، اور دریاؤں کی شکل میں زمین کے اندر جاری کیا پھر اس پانے کے ذریعہ وہ طرح طرح کی کھیتیاں نکالتا ہے جن کے رنگ مختلف ہیں‘‘ سورہ حجر میں ہے بارآور ہواؤں کو ہم ہی بھیجتے ہیں پھر آسمان سے پانی برساتے ہیں اور اس پانی سے تمہیں سیراب کرتے ہیں اس دولت کے خزانہ دار تم نہیں ہو۔
پیارے دینی بھائیو! مذکورہ بالا آیات سے واضح ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے متعدد جگہ سمندر اور پانی کا ذکر فرمایا ہے۔