پانچ کی بجائے پچاس
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں کہ میری امت پر پچاس نمازیں فرض ہوئی تھیں جب میں لوٹ کر موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ میری اُمت پر رب تعالیٰ نے پچاس وقت کی نماز فرض کی ہے موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے واپس جائیے اور اپنے رب سے کم کرا لیجئے کیونکہ آپ کی امت اتنی طاقت نہیں رکھتی ۔ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم واپس جاتے ہیں اور اپنی گنہگار کمزور امت کا خیال کرتے ہوئے نمازیں کم کراتے ہیں ۔ اس طرح پینتالیس (۴۵) وقت کی نمازیں معاف کرالیتے ہیں صرف پانچ وقت کی نماز رہ جاتی ہے ۔ لیکن اللہ کے کلام میں کوئی تبدیلی نہیں جو بندہ خضوع و خشوع کے ساتھ عشقِ مصطفی سینے میں بسا کر پانچ وقت کی نماز پڑھے گا اسے پچاس وقت کی نماز کا ثواب دیا جائے گا۔
Post Views: 21