ولایت سے قیا دت تک

#makhdoom
#مخدوم

’’ولایت وشہا دت سے قیا دت تک ‘‘

ازقلم:مفتی محمد ابراہیم آسی
جن اولیا ئے کرام اور صالحین امت کے وجود مسعود اور نو رانی جلو ؤں سے ہندو ستان کا گو شہ گو شہ معمور اور فردوس نظر بنا ہو اہے انھیں میں سے آفتاب شریعت ما ہتاب طریقت قدو ۃ الواصلین سید السالکین حضرت سید سلطا ن مخدو م اشرف جہا نگیر سمانی رضی اللہ تعا لیٰ عنہ کی ذات مبا رک بھی ہے ۔آٹھویں صدی ھجری میں آپ سا دات نو ر بخشیہ سمنان میں حضرت سید سلطا ن ابراہیم کے گھر پیدا ہو ئے سات سال کی عمر شریف میں پور اقرآن ساتوں قراۃ کے ساتھ حفظ کیا اور چو دہ سال کی عمر میں تما علوم عقلیہ او رنقلیہ میں دسترس حاصل کی اور ان میں خوب کمال پیدا کرلیا آپ کے والد گرامی حضرت سید سلطان ابراہیم چو نکہ ملک سمنان کے با دشا ہ تھے ۔چنا نچہ ان کے انتقال کے بعد حکومت کی با گ ڈور آپ کے سپرد ہو ئی حکمرانی اور جہا ں با نی کا کام آپ نے نہا یت ہی خوش اسلو بی سے انجام دیا تا ہم امو ر سلطنت کی انجام دہی کے دوران بھی یا د خدا سے کبھی غافل نہیں ہو ئے بلکہ اس عالم میں بھی فرائض واجبات سنن ونوافل کی ادا ئگی کے ساتھ ساتھ اسم جلا لت کاو رد ریا ضت ومجا ہدہ اور شغل باطن کو بھی لازم طو ر پر اختیا ر کر رکھا تھا پھر جب حضرت خضر علیہ السلام کے اشارے پر را ج پاٹ اور تخت وتا ج اپنے برادر خور د کے سپرد کر کے ماں چو نکہ حیات تھیں۔ ان کی خدمت میں حا ضر ہو کر اپنے عزائم کا اظہا ر کیا اور دین کی راہ میں مکمل طو ر سے نکل جانے کی اجا زت چاہی آپ کیمان بھی چو نکہ عابدہ زا ہدہ اور را بعہ وقت تھیں۔ خوجہ احمد یسوی جو  کہ مشہو ر بزرگو ں میں گزر ے ہیں ان کی اولا د میںسے تھیں انھو ن نے آپ کی ولا دت کے پیشتر جو حضرت خضر علیہ السلام نے بشارت دی تھی اس کا تذکرہ کیا اور نہا یت ہی خندہ پیشانی کے ساتھ اپنے سے جدا ہو نے کی اجا زت مرحمت فرما دی آپ شاہا نہ ٹھا ٹ باٹ کو ترک کرکے کا مل درویشی او ر فقیری اختیا ر کرکے فنا فی اللہ بقا بی اللہ ہو کر درویشوں کی ایک جما عت کے ساتھ وارد ہندوستان ہو ئے۔حضرت مخدو م پا ک اپنے زمانے کے اکا بر اولیا ئے کرام سے ملا قات کر کے اکتساب فیض حا صل کیا اور بے شمار مزارات پر مراقب رہے یوں ہی مختلف بلا د و امصار کا سفر بھی کیا ہندو ستا ن میں بنگا ل کی سززمین پر ایک خدا رسیدہ بزرگ حضرت سیدشاہ علا ؤ الحق پنڈ وہ کو حضرت خضرنے ہندو ستا ن میں آپ کے آمد کی سترہ مرتبہ خبر کی تھی۔ آپ مخدو م اشرف کے لئے سرا پا انتظار تھے جب حضرت مخدوم اشرف آپ کی قیام گاہ سے دو کو س کے فا صلے پر پہو نچے تو حضرت شا ہ علا ؤ الحق اپنے کثیر مریدوں کے ساتھ آپ کے استقبال کے لئے با ہر نکل پڑے  ایک پیر اپنے مرید کے استقبال کے لئے نکلے یہ بہت بڑے عزاز کی بات ہے ۔حضرت مخدو م پا ک کی جب شاہ علا ؤالحق سے ملا قات  کی تو اس کا منظر بڑ اعجیب تھا آپ نے حضرت مخدو پا ک کی اضافت وتو ضع فرمائی چا ر پا نچ سال تک اپنے تر بیت مین رکھااس دو ر ان انھیں سلوک ومعرفت کی ساری منزلیں طے کرا دیں اور اس قدر ریاضت و مجاہد سے گزاراکہ آپ کی ذات تجلیات ربانی اور انوار الہی کی سر چشمہ بن گئی ایسا لگتا تھا کی آپ کی انکھوں سے حجاب اٹھا دئے گئے ہوں باطنی قوت اس کما ل کو پہو نچ گئی کہ سارا عالم اور اس کے ذرے ذرے آپ پر رو شن ہو گئے۔آپ کوجلا ل و کما ل کر دینے کے بعد پیر مرشد نے آپ کو بندگان خدا کی ہدایت و رہنما نی کے لئے خطہ جو ن پو ر کی طرف جا نے کو کہا چنا نچہ پیر مرشد کے حکم کے مطا بق آپ جو ن پو ر ہو تے ہو ئے روح آبا د شریف کچھوچھہ میں پہو نچے اورپھر اسی جگہ کومستقل رشدو ہدایت اور تبلیغ دین کا مرکز مسکن بنا یا اور اپنی آخری ارام گاہ بھی اسی کو متعین فرمادی جہاں سے آپ نے دین اسلامکی ایسی تبلیغ فرما ئی اور دعوت الی اللہ و رسول کا ایسافریضا انجام دیا کہ لو گ جو ق درجوق آپ کی خدمت میں  حاضر ہو تئے او رشرک وکفر سے تو بہ کرکے اسلام کے دامن سے وابسطہ ہو جا تے آپ کے دست حق پرست پر لا کھوں لو گوں نے تو بہ اور اسلام قبول کیا گم کردہ راہ اور بھٹکے لو گوں کے لئے اللہ نے آپ کی ذات کو مینا رہ ہدایت او رقندیل رہبانی بنا دیا تھا آپ نے ایمان کی ایسی شمع جلا ئی کہ جس سے کفر کی تا ریکی نا پید ہو نے لگی ۔آج شما ل مشرقی اتر پردیش مین ان کا دربا ر پا یا جاتا ہے ۔ مخدوم پا ک ہی کے رہین منت ہیں اور جو اسلام کی شع فروزاں دیکھا ئی دے رہی ہے انھیںکی دین ہے آج جب کی آپ دنیا سے رخصت ہو گئے مگر خدا ئے تعالی نے آپ کی تربت اور آستا نہ کو سب کے لئیقبلہ حاجات بنیا دیا ہے چنا نچہ آج بھی رو زانہ ہزاروں کی تعدا د میں بلا تفریق آپ کی با رگاہ میں با ریا ب اورآستا نہ کرم پر حاضر ہو کر فیضیاب ومستفیض ہو تے ہیں آپ کے ہمراہ سفر مین آپ کے چہیتے بھا نجے حضرت شاہ عبد الرزاق نو رلعین ہر جگہ ساتھ ساتھ رہے اور آپ کے جا نشین وخلیفہ اور فرزند رو حانی ومعانوی ہین ا ن کے ذریعے آۃپ کے سلسلہ کو بڑافروغ ہو ا اا ن کی نسل پا ک میں عظیم صو فیا اور صلحا ء پید اہو ئے جنھوں نے اسلا م کی خوب خدمت انجام دی اور ابھی ماضی قریب میںایک نہا یت ہی برگزیدہ اور رسیدہ شخصیت گزری ہے جس نے مخدوم پا ک کے فیضان کو عام کر نے میں کو ئی کثر با قی نہیں رکھی تھی میری مرادپیر طریقت شہیدراہ مدینہ حضرت سید انوار اشرف حضور مثنی میاں سے ہے آپ اعلی درجہ کے تعلیم یا فتہ تھے اور اعلی سرکا ری عہدے پر فا ئز تھے اللہ تعالی نے آپ کو جلا ل وجمال اور بے شما ر حسن و کمال سے نوازا تھا آپ بااتفاق قو م ملت کے قائد اور عظیم دینی پیشو ا تھے ہر موڑ اور ہر محاز پر آ پ نے قوم کی قیاد ت ا ور رہنما ئی کا حق ادا کیا آپ کو ملت کا بے پناہ درد تھا  ملت پر جب کو ئی افتا د پڑی تو آپ تڑپ اٹھے  اور اس کے ازالہ کی ہر ممکن کو شس کی دینی تعلیم کی راہ میں آپ نے بری جدو جہد فرمائی قوم کے غریب ونا دار طلبہ علم دین سے محرو م نہ رہ جائیں اس کے لئے آپ پو رے ملک میں درجن بھر مدارس قائم کئے  جہا ں سے بحمد اللہ سیکڑو ں ہزاروںطالبان نبو یہ سیراب ہو رہے ہیں سہی معنوں مین آپ سچے اور پکے عاشق رسول تھے آپ کا سینہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی الفت کا مدنیہ بنا ہو ا تھا ۔اٹھتے بیٹھتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی الفت ومحبت کا دم بھر تے اس جا نثا ر رسول کو اس کا صلہ با رگا ہ رسول سے یہ ملاکہ ان کو جوار رحمت میں مدینۃ الرسول کے اندر خاص حضرت عثمان غنی کے قرب میں جنت البقیع شریف کے اندر اخری ارام گاہ نصیب ہو ئی۔جہا ں ہزراوں اجلہ صحابہ اور تا بعین اہل بیت اطہا ر رضوان اللہ تعا لی اجمعین پہلے سے آرام فرما ہیں حضور شہید را ہ مدنیہ کے وصال کے بعد قوم اپنے قائد اور رہنما ں سے محروم ہو گئی تو قدر مایوسی کا احساس ہو نے لگا مگر پھر اللہ تعا لی نے اپنے کرم سے مخدو می فیضان کو عام کر نے اور ملت کی رہبر کے لئے حضور شہیدراہ مدینہ کے صاحبزادہ والا تبار حضرت مو لانا سید معین الدین اشرف اشرفی جیلا نی کو حو صلہ او رجزبہ عطا فرما یا کہ آپ بحیثیت قائد منشہ شہو د پر جلو ہ گر ہو گئے آپ درگا ہ سید سلطان مخدو اشرف کے سجادہ نشین ہیں نجیب الطرفین زبر دست عالم دین اور فا ضل رو ز گا ر ہیں خا نوا دہ اشرفیہ کے جملہ روایا ت کے امین پا سبان بھی مردم شناسی معاملہ فہمی شعور آگہی تدبر وتفکر آپ کے خصو ص جو ہر ہین مسلم قوم آپ پر بھر پو ر اعتما  درکھتی ہے قو م جس طر ح آپ کے والد محتر م شہیدراہ مدینہ کے ساتھ تھی اور ان کو احترا م کی نگا ہ سے دیکھتی تھی قوم کا وہی رویہ اورسلوک آپ کے ساتھ بھی ہے وہی پزیرائی اور ہر دل عزیزی جو اپ کے پدربزرگو ار کے پا س تھی وہی آپ کو بھی حاصل ہے۔ آپ کی ذات ایک سنجیدہ تحریک کا نام ہے آپ کو وجو د امن کا علمبردا ر ہیں بلا شبہ آپ اخلا ق کے پیکر اور ملت کے محسن و مسیحا ہیں یہی وجہ ہے کہ آپ کو قائد رہنماں تسلیم کر نے میں قوم کو پس و پیش نہیں  چنا نچہ آپ قیا دت سیاد ت کے فرائض بھی با حسن و جو ہ انجام دے رہے ہیں ۔قوم کی وقیادت آپ اپنا قد اونچا کر نے کے نہیں فرما تے بلکہ قوم کی سربلندی  اور اس کی عظمت رفتہ کی بحا لی کے لئے کر تے ہیں  لہذا خدا ئے تعا لی آپ کے عزم و حو صلہ کو بلند رکھے  با زوں میں قوت حیدری عطا فرما ئے اور دین و ملت کی اس عظیم سر ما یا کو حوادث زما نہ سے محفو ظ رکھے ۔