وقف کے مسائل Waqf Ke Masayeel

وقف کے مسائل
وقف کے ثبوت میں قرآنی آیت ۔
لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰي تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَيْئٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيْمٌ
وقف کی شرعی تعریف:
وقف کا مطلب ہے کسی چیز کو اللہ کے لیے مخصوص کردینا، جیسے زمین، مال یا جائیداد، تاکہ اس کا فائدہ ہمیشہ جاری رہے اور اس سے نیکی کا کام کیا جائےجیسے مسجد، مدرسہ، قبرستان ۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو آپ نے مسجد کی تعمیر کا حکم دیا اور فرمایا۔اے بنو النجار، اپنی یہ دیوار مجھے قیمت کے طور پر دے دو۔ انہوں نے کہانہیں، اللہ کی قسم ہم اس کی قیمت اللہ کے سوا کسی سے نہیں مانگتے یعنی اللہ کے لیے وقف کرتے ہیں۔(صحیح مسلم)
وقف کی مدت:
وقف کی مدت دائمی ہے۔جو کوئی زمین یا مکان اللہ کے لیے وقف کرتا ہے، وہ اب اس کی جائیداد نہیں ہے، اور اسے فروخت نہیں کیا جاسکتا، بطور تحفہ، یاوراثت میں نہیں دیا جاسکتا اور دوبارہ دعویٰ بھی نہیں کیا جاسکتا، کیوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے خیبر کی زمین وقف کرتے وقت یہ کہا کہ اس شرط کے ساتھ صدقہ (وقف)کریں کہ اصل زمین نہ بیچی جائے، نہ ہبہ کی جائے اور نہ وراثت میں کسی کو دے سکتے ہیں۔(صحیح البخاری
فتاوی شامی میں ہے :
( ولا يخرج منه ) بعد إهالة التراب.”
وعن عائشة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال۔كسر عظم الميت ككسره حيا
(ابو داود وابن ماجه)
ترجمہ: اور حضرت عائشہ راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،مردہ کی ہڈیوں کو توڑنا باعتبار گناہ کے زندہ شخص کی ہڈیوں کے توڑنے کی مانند ہے۔
اگر کوئی زمین قبرستان کے لیے وقف کردی گئی، اور متولی یا ذمہ داران کے حوالہ کردی گئی، تو یہ زمین واقف کی ملکیت سے نکل کر اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں چلی گئی، وقف مکمل ہونے کے بعد اس میں کسی قسم کی تبدیلی جائز نہیں، خود وقف کرنے والے کو بھی اس میں ردوبدل کرنا جائز نہیں۔
إذا صحّ الوقف خرج عن ملك الواقف، وصار حبیسًا علی حکم ملك الله تعالی، ولم یدخل في ملك الموقوف علیه، بدلیل انتقاله عنه بشرط الواقف (المالك الأول) كسائر أملاكه، وإذا صحّ الوقف لم یجز بیعه ولاتملیکه ولاقسمته.”
جب وقف کردیا گیا اس کو فروخت کرکے دوسری زمین قبرستان کیلئے خریدنا جائز نہیں ہوگا، اگر ضرورت محسوس ہو تو چہار دیواری کردی جائے، اور اس میں تبادلہ درست نہ ہوگا۔
عن ابن عمر ، أن عمر تصدق بمال لہ علیٰ عہد رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، وکان یقال لہ ثمغ ، وکان نخلا ، فقال عمر یا رسول اﷲ : إنی استفدت مالا وہو عندي نفیس ، فأردت أن أتصدق بہ ، فقال النبی صلی اﷲ علیہ وسلم: تصدق بأصلہ ، لایباع، ولایوہب ، ولا یورث۔ (صحیح البخاری )
ترجمہ ۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ مبارک میں اپنی ایک جائیداد وقف (صدقہ) کی تھی، جسے “ثمغ” کہا جاتا تھا، اور وہ کھجوروں کا ایک باغ تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا،یا رسول اللہ! مجھے ایک ایسا مال حاصل ہوا ہے جو میرے نزدیک نہایت قیمتی اور محبوب ہے، لہٰذا میری خواہش ہے کہ اسے اللہ کی راہ میں صدقہ کر دوں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااس کی اصل (زمین یا باغ) کو وقف کر دو، تاکہ نہ وہ فروخت کیا جائے، نہ ہبہ کیا جائے، اور نہ وراثت میں تقسیم کیا جائے
سراج وہاج پھر فتاوٰی ہندیہ میں ہے :
لایجوز تغیر الوقف عن ھیأتہ فلا یجعل بستانًا ولا الخان حمامًا ولا الر باط دکانً
وقف کواس کی ہیئت سے تبدیل کرنا جائز نہیں۔ لہذا گھر کا باغ بنانا اور سرائے کا حمام بنانا او ر ر باط کا دکان بنانا جائز نہیں۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:
إذا وقف أرضًا للمقبرة، صار وقفًا لازمًا، فلا يجوز بيعها ولا هبتها ولا تحويلها إلى غير ما وقفت له۔
ترجمہ: جب کسی زمین کو قبرستان کے لیے وقف کر دیا جائے تو وہ لازم وقف بن جاتی ہے، لہٰذا اسے فروخت کرنا، ہبہ کرنا یا اس مقصد کے علاوہ کسی اور مصرف میں لانا جائز نہیں۔
الفتاوی الہندیہ۔
إذا جعل أرضه مقبرة للمسلمين ووقفها عليهم، خرجت عن ملكه، ولا يجوز الرجوع فيها۔
ترجمہ: جب کسی شخص نے اپنی زمین مسلمانوں کے قبرستان کے لیے وقف کر دی تو وہ اس کی ملکیت سے نکل گئی، اور اس میں رجوع کرنا جائز نہیں۔
البحر الرائق۔الوقف لا يباع ولا يوهب ولا يورث ۔
ترجمہ: وقف نہ فروخت کیا جا سکتا ہے، نہ ہبہ کیا جا سکتا ہے اور نہ وراثت میں منتقل ہوتا ہے۔
بدائع الصنائع میں، امام کاسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وقف کے بعد عینِ موقوفہ کو اس غرض سے ہٹانا جائز نہیں جس کے لیے وہ وقف کی گئی تھی۔