وعدہ خلافی
وَاَوْفُواْ بِالْعَہْدِ اِنَّ الْعَہْدَ کَانَ مَسْئُوْلَا (۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)
ترجمہ:
برادران اسلام وعدہ خلافی کرنا درست نہیں ہے جب کسی سے کوئی وعدہ کیا جائے تو اسے پورا کیا جائے کہ ارشاد ربانی ہے جو لوگ خدا کے ساتھ مضبوط عہد کرنے کے بعد اس کے خلاف کرتے ہیں اور جن تعلقات کو خدا نے جوڑنے کا حکم دیا ہے ان کو توڑتے ہیں اور ملک میں فساد کرتے ہیں ایسے لوگوں پر لعنت ہے اور ان کا انجام بہت برا ہے۔
اس دور میں وعدہ خلافی کو معمولی بات سمجھا جاتا ہے جبکہ حقیقت میں یہ دھوکہ ہے اور جائز نہیں بسا اوقات یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ کوئی تاجر کسی کو اپنا مال دینے کا وعدہ کر لیتا ہے اگر اس کی قیمت دوسری جگہ سے زیادہ ملتی ہے تو وعدہ خلافی کرتے ہیں اور ان کو مال نہیں دیتے۔ قرآن مقدس میں ارشاد ربانی ہے بعض ان میں سے ایسے بھی ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا کہ اگر اللہ ہم کو مال دے گا تو ہم ضرور خیرات کریںگے اور نکو کاروں سے ہوںگے پھر جب خد نے اپنے فضل سے ان کو مال دیا تو وہ بخل کر بیٹھے اور منھ موڑ کر ہٹ گئے تو خدا نے ان کی موت کے دن تک ان کے دلوں میں نفاق کی بنیا دلگا دی کیونکہ اللہ سے انہوں نے وعدہ خلافی کی ہے اور جھوٹ بولتے رہے ہیں حضور سید عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن ہر دھوکہ باز کا ایک جھنڈا ہوگا کہا جائے گا اس نے فلاں بن فلاں کے ساتھ دھوکہ کیا تھا حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے تین آدمیوں کا قیامت کے دن مد مقابل رہوںگا ایک وہ آدمی جس نے مجھے دیا پھر عذر کیا اور ایک وہ شخص جس نے کسی آزاد کو بیچ ڈالا اور اس کی قیمت کھالی اور ایک وہ آدمی جس نے کس مزدور سے پوری پوری مزدوری لے لی لیکن اس کی اجرت نہیں دی۔
برادران اسلام! قرآن مقدس میں متعدد جگہ وعدہ خلافی کی وعیدیں آئی ہیں وعدہ خلافی کرنے سے روکا گیا ہے وعدہ خلافی کرنے والا یقینا دھوکہ باز ہوتا ہے ارشاد ربانی ہے اور اللہ کے نام سے جب تم عہد و پیمان کرو تو پورے کرو اور قسموں کو بعد تاکید مزید کرکے نہ توڑا کرو حالانکہ تم اللہ کو ضامن ٹھہراتے ہو اللہ تعالیٰ اس کو جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو اور ارشاد ربانی ہے اور اللہ سے بڑھ کر وعدہ پورا کرنے والا کون ہے۔
پیارے دینی بھائیو! بیشک اللہ تبارک و تعالیٰ وعدہ پورا کرنے والا ہے اور وعدہ پورا کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔