نکاح نسل انسانی کی بقا

نکاح نسل انسانی کی بقا

ربِّ متعال خالقِ ارض و سما نے جب حضرتِ انسان کے جدِّ اوّل حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کو مسجودِ ملائکہ بنایا، تو ان کی تنہائی کو رفع فرمانے اور نوعِ بشر کے تسلسل کو قائم رکھنے کے لیے حضرت حوّا علیہا السلام کو ان کا قرینِ حیات بنا کر یہ آسمانی منشور صادر فرما دیا کہ انسانی معاشرے کی بقا، تہذیبی ارتقا اور تمدنی استحکام کا حقیقی محور “نکاح” جیسا پاکیزہ، بابرکت اور ربانی نظام ہے۔

نکاح درحقیقت فقط حیوانی جبلّت کی تسکین یا نفسانی خواہشات کی تکمیل نہیں بلکہ یہ ایک الٰہی معاہدہ، نورانی میثاق، اور ربانی حکمتوں سے معمور ایسا مقدّس بندھن ہے، جو انسان کو عفّت، طہارت، قلبی سکون اور سماجی وقار عطا کرتا ہے۔ اسی عہدِ مقدّس سے نسلِ انسانی کا ارتقائی سفر شروع ہوا، خاندانی نظام کی بنیاد پڑی، اور حیاتِ انسانی کو روحانی رفعت، اخلاقی تحفظ اور تمدنی توازن میسر آیا۔

ہمارے کتب خانہ کے گروپ میں یہاں کلک کر کے شامل ہوں

نکاح فطرت کی آواز:

انسان ایک سماجی مخلوق ہے۔ اسے اطمینانِ قلب، محبت، انسیت، قربت اور سہارا درکار ہوتا ہے۔ یہ تمام جذبات صرف نکاح کے مقدس رشتے میں ہی مکمل طور پر پروان چڑھ سکتے ہیں۔ اگر انسانی فطرت کو نکاح سے محروم رکھا جائے، تو یہی جذبات بے راہ روی، جنسی انارکی اور اخلاقی انحطاط کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ اللہ ربّ العزت نے نکاح کو نہ صرف حلال و پاکیزہ ذریعۂ تسکین بنایا بلکہ اسے ذریعۂ عبادت بھی قرار دیا۔

نکاح ایمان کی تکمیل:

نکاح دینِ اسلام میں نہایت اہم مقام رکھتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “النِّکَاحُ مِنْ سُنَّتِي فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي”یعنی نکاح میری سنت ہے، اور جو میری سنت سے منہ موڑے، وہ مجھ سے نہیں۔
ایک اور موقع پر ارشاد فرمایا:
“مَنْ تَزَوَّجَ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ نِصْفَ الإِيمَانِ” یعنی جس نے نکاح کیا، اس نے اپنا آدھا ایمان مکمل کر لیا۔
اور فرمایا:
“مَنْ تَرَكَ التَّزْوِيجَ مَخَافَةَ الْعَيْلَةِ، فَلَيْسَ مِنَّا” یعنی جو کوئی تنگ‌ دستی کے خوف سے نکاح کو ترک کرے، وہ ہم میں سے نہیں۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
“لا يَتِمُّ نُسُكُ النَّاسِكِ حتّى يَتَزَوَّجَ” یعنی عابد کی عبادت اُس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک وہ نکاح نہ کرے۔