نویں ہجری کےحالات وواقعات
راہ خدا میں خرچ کا جذبہ
اسی سال، غزوہ تبوک کا واقعہ پیش آیا ۔تبوک شام اور مدینہ کے درمیان ایک مقام کا نام ہے ۔مدینہ منورہ سے تقریباً چھ سو کلو میٹر کی دوری پر ہے۔
اس غزوہ کے لئے آپ ماہ رجب ۹ھ میں روانہ ہوئے۔ اس سال قحط پڑا ہوا تھا۔ لوگ مفلوک الحال تھے ،غزوہ کے لئے مالی امداد کی ضرورت تھی۔ آپ نے مالی امداد کا اعلان فرمایا حضرت ابوبکر نے پورا مال اور اپنا بدن کا کپڑا بھی دے دیا ۔حضرت عمر نے آدھا مال دے دیا ۔حضرت عثمان غنی ایک ہزار اونٹ ستر گھوڑے ایک ہزار اشرفی بارگاہ نبوت میں پیش کئے۔ اسی طرح تمام انصار و مہاجرین نے حسب حیثیت اس چندہ میں حصہ لیا۔ حضرت ابوعقیل انصاری جو مزدور تھے ،ایک کیلو کھجور لے کر حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے دن بھر مزدوری کرکے دو کیلو کھجور حاصل کی ،ایک کیلو گھر والوں کو دیا، ایک کیلو آپ کی بارگاہ میں حاضر ہے۔ آپ کو مفلس جا نثار کا یہ نذرانہ بہت پسند آیا، اور کھجور کو تمام مال کے اوپر رکھ دیا۔
تیاری مکمل ہونے کے بعد ۳۰؍ ہزار کا لشکر لے کر تبوک روانہ ہوئے اور حضرت علی کو اپنا نائب بنا کر مدینہ منورہ کا انتظام دیکھنے کیلئے رکے رہنے کا حکم دیا۔
آپ جب تبوک کے قریب پہونچے تو آپ نے حکم دیا یہاں ایک چشمہ ہے جس کی دھار بہت باریک ہے۔ اس کو کوئی استعمال نہ کرے، آپ نے تھوڑا سا پانی منگوایا ،آپ نے کلی فرمائی اور کہا اس کو چشمہ میں انڈیل دو۔ لوگوں نے جب پانی ڈالا چشمہ تیزی سے بہنے لگا تیس ہزار کا لشکر اور جانور سیراب ہوگئے۔
آپ نے تبوک میں پڑائو کا حکم دیا ،رومی لشکر کا کوئی پتہ نہیں تھا تیس ہزار لشکر کی خبر سن کر جنگ سے ہمت ہار گئے گھروں سے باہر نہ نکلے ۔آپ نے ۲۰؍ دن تبوک میں قیام فرمایا اور بغیر جنگ کئے، مدینہ منورہ تشریف لائے۔