نمازی بُڑھیا

نمازی بُڑھیا
جب قوم نوح علیہ السلام پر طوفان آیا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کو حکم دیا کہ جو  اللہ کے برگزیدہ بندے ہیں ان کو اپنے ساتھ لے لو اور کشتی میں سوار ہو جاؤ آپ نے ایسا ہی کیا اور ایک بُڑھیا سے وعدہ کرلیا کہ جب طو فان آئے گا تو تم کو بھی ساتھ لے لوں گا ۔ جب طوفان آیا سبھوں کو کشتی پر سوار کر لئے بُڑھیا کا بالکل دھیان نہ رہا۔ طوفان آیا اور تباہی مچاتا رہا اور بُڑھیا اپنی جھونپڑی کے اندر نماز میں مشغول رہی ۔ آپ بیحد افسوس کرنے لگے ۔ جب بُڑھیا کی جھونپڑی کے پاس سے گذرنے لگے تو دیکھا بُڑھیا عبادت الہی میں مشغول ہے ۔ آپ اس کو سلام کیا ۔ بُڑھیا بولی کیا طوفان آگیا؟ تو آپ نے فرمایا طوفان آکر گذر گیا کیا آپ کو خبر نہیں بُڑھیا بولی مجھے کوئی خبر نہیں میں تو یہاںنماز میں مصروف تھی۔
دیکھا آپ نے بُڑھیا نماز کے صدقے اور طفیل طوفانِ نوح سے نجات پاگئی اگر عشقِ رسول میں نماز پڑھیں تو ہم بھی طوفانِ عذاب سے نجات پاسکتے ہیں ۔