نصیحت آمیزحکایت
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ خلافت میں ایک گانے والا فاسق لوگوں کو گانا سنایا کرتا لوگ اس کے گانے کو سنکر نذرانے دیتے اس کا چرچا سارے شہر میں ہو گیا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس فاسق سے بہت ناراض تھے ۔ کچھ دنوں کے بعد وہ فاسق بیمار ہوگیا اس بیماری کے سبب وہ بہت کمزور ہو گیا اس کی سریلی آواز ختم ہو گئی ، نذرانے بھی بند ہو گئے بھوکا مرنے لگا کوئی پوچھنے والا نہ رہا ، آخر کار فاقے سے نڈھال ہو گیا ۔ مدینے کے قبرستان جاکر ایک پرانی قبرمیں بیٹھ کر رو رو کر توبہ کرنے لگا یا اللہ یہ تیرا گناگار بندہ تجھے بھول کر لوگوں کو گا نا سنا کر خوش کرتا تھا آج کوئی پرسان حال نہیں ، میری گریہ وزاری سننے والا کوئی نہیں ۔ اے میرے مولیٰ میرے گناہوں کو بخش دے ، میری توبہ قبول کر میرے پاس کوئی نیکی نہیں ہے ۔ میرے پاس صرف تیرے حبیب کا وسیلہ ہے اپنے حبیب کے صدقے مجھے بخش دے ، میری توبہ قبول کر لے ۔ دریائے رحمت کو جوش آیا اسکی دعا قبول ہوگئی اور اسی وقت حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو الہام ہوا کہ اے عمر مدینہ کے قبرستان میں ہمارا ایک ولی تین دن سے بھوکا بیٹھا ہے جلدی اس کی مدد کرو ۔ یہ سنتے ہی حضرت عمررضی اللہ تعالی عنہ ایک ہزار اشرفی کی تھیلی لے کرمدینہ کے قبرستان کی طرف دوڑے وہاں کوئی نہ تھا البتہ وہ شخص ایک پرانی قبر میں منہ چھپائے بیٹھا تھا ۔ حضرت عمررضی اللہ تعالی عنہ سوچنے لگے یہ فاسق ولی کیسے ہو سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ یہاں کوئی تھا ہی نہیں ۔ یہ سوچتے ہی آپ کو چھینک آگئی آواز سن کر اس شخص نے سر اٹھایا تو حضرت عمررضی اللہ تعالی عنہ کو کھڑے دیکھا ۔ حضرت عمررضی اللہ تعالی عنہ نے اس سے پوچھا تم نے کون سی نیکی کی ہے کہ اللہ نے تم کو اپنا ولی بنایا اور تمہاری مدد کے لئے مجھے تمہارے پاس بھیجا یہ اشرفیوں کی تھیلی لے اور اپنی حاجت پوری کر ۔ یہ سنتے ہی اس کے دل کی حالت بدل گئی اور اللہ تعالیٰ کایہ احسان عظیم یاد کرکے ایک چیخ ماری اور کلمہ طیبہ پڑھا ۔ اس کی روح پرواز کر گئی ۔ یہ دیکھ کر حضرت عمررضی اللہ تعالی عنہ رونے لگے اور اعلان کیا کہ تمام مدینے کے لوگ اللہ کے ولی کے جنازے میں حاضر ہو جائیں اور نماز جنازہ پڑھیں ۔ سب لوگ جمع ہو کر نماز جنازہ ادا کرکے بڑے احترام کے ساتھ دفن کئے ۔
برادران اسلام ! دیکھا آپ نے ایک فاجر وفاسق جب صدق دل سے توبہ کرلیا تو رب تبارک وتعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اپنے مقرب بندوں میں داخل کرلیا ۔ لیکن آج ہم ہزاروں گناہ کرنے کے باوجود نادم نہیں ہوتے ، شرمسار نہیں ہوتے ہیں ۔ ہم اپنے دل میں گناہ کا احساس کرتے ہی نہیں ۔ اگر ہم گناہ کرنے کے بعد نادم ہو جائیں اللہ تعالیٰ سے توبہ استغفار کریں اور اس توبہ پر قائم رہیں تو یقینا اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے ہمارے گناہوں کو نیکیوں میں بدل دے گا ۔
Post Views: 28