نا کام کوشش
قرآن کاچیلنجخانہ کعبہ میں لٹکا دیا گیا ۔ تاریخ گواہ ہے تین روز تک چیلنج لٹکا رہا عرب کے بڑے بڑے مدبّر آئے اعلان پڑھ کر سر جھکا کے روانہ ہو گئے ، عرب کے مایہ ناز شعراء آئے اعلان دیکھ کر انگشت بدنداں رہ گئے ، عرب کے بڑے بڑے فصحاء بلغاء آئے اعلان پڑھنے کے بعد ان کی فصاحت و بلاغت گھٹنے ٹیک دئیے ۔ عرب کے وہ باشندے جن کو اپنی زبان پر ناز تھا اپنے آپ کو عربی اور ساری دنیا کو عجمی یعنی گونگے کہتے تھے جب یہ اعلان سنے تو اپنی زبان دانی کا غرور خاک میں مل گیا ۔ سارے عرب کے لوگ ایک سورت تو دور ایک آیت بنا کر پیش نہ کرسکے ۔ عرب کا ایک مشہور بلیغ اللسان اور فصیح البیان زبان داں نے ایک سورت بنانے کی کوشش کی ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سورہ قارعہ میں قیامت کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے { القارعۃ ماالقارعۃ وما ادرک ماالقارعۃ} القارعۃ ۔ دل دہلانے والی ۔ ماالقارعۃ ۔ کیا وہ دل دہلانے والی ۔ وما ادرک ما القارعۃ ۔ تو نے کیا جانا کیا ہے دل دہلانے والی ۔ آج تک دنیا کا کوئی انسان بتا نہیں سکتا کہ قیامت میں کتناہولناک آواز ہوگی جس سے دل دہل جائیں گے وہ عرب کا انسان ہو چاہے وہ ہندوستان کا انسان ہو ، چاہے وہ پاکستان کا انسان ہو چاہے وہ افریقہ کا انسان ہو چاہے وہ امریکہ کا انسان ہو اس لئے کہ جب تک قیامت آتی نہیں کوئی کیسے بتا سکتا ہے ۔
عرب کاوہ زبان داں انسان اسی سورہ کے لہجے میں بنانے کی کوشش کی ، سرزمین عرب میں ہاتھی نہیں ہوتا ہے ۔ عربی زبان میں ہاتھی کو فیل کہتے ہیں وہ شخص یوں لکھتا ہے {الفیل ۔وماالفیل ۔ وما ادراک مالفیل }ہاتھی۔ کیا ہاتھی۔ تم نے کیا جانا ہاتھی کیا ہے ۔ اہل عرب اس کا مذاق اُڑانے لگے کہ تم نہیں جانتے ہاتھی کیا ہے ۔ لیکن پاکستان والا جانتا ہے ہاتھی کیا ہے ، امریکہ والا جانتا ہے ہاتھی کیا ہے ، لندن والا جانتا ہے ہاتھی کیا ہے ، چین والا جانتا ہے ہاتھی کیا ہے ، جاپان والا جانتا ہے ہاتھی کیا ہے ، ہندوستان کا بچہ بچہ جانتا ہے ہاتھی کیا ہے ۔ ہندوستا ن میںبعض قوم تو ایسی ہے کہ ہاتھی کو جانتی ہی نہیں بلکہ پوجتی بھی ہے اس طرح سے اس بلیغ اللسان انسان کی کوشش پانی کے بلبلے کی طرح فنا ہوتے ہوئے نظر آتی ہے اور ایک آیت بھی بنانے سے عاجز اور قاصر نظر آتا ہے۔
Post Views: 25