میڈیکل سائنس کیا کہتا ہے

میڈیکل سائنس کیا کہتا ہے
اب آئیے! میڈیکل سائنس کے اعتبار سے بلوغ کی عمر کا پتہ لگاتے ہیں کہ اس کے بارے میں ڈاکٹروں کا کیا کہنا ہے۔
گائنکولوجسٹ ڈاکٹر سید محمد عباس رضوی اپنی کتاب ’’نسائیات‘‘ کے صفحہ ۳۱؍ پر لکھتے ہیں کہ شباب (Puberty) یہ عورت کی زندگی کا وہ زمانہ ہے جب کہ وہ بچپن سے بلوغت میں داخل ہوتی ہے، یہ زندگی کا انتہائی اہم زمانہ ہے جب کہ بہت سی جسمانی اور ذہنی تبدیلیاں وجود میں آتی ہیں۔
پہلا طمث جسے (Menarche) یعنی حیض کہا جاتا ہے اسی دور میں ہوتاہے۔ جب ۸؍سال سے کم عمر کی بچی میں ثانوی علامتیں ظاہر ہونے لگتی ہیں اور طمث یعنی حیض (Menstruation) شروع ہو جاتا ہے۔ اسے (Precocious Puberty) کہا جاتا ہے۔ بعض بچیوں میں اس سے کم عمر میں طمث یعنی حیض (Menstruation) دیکھا گیا ہے۔ طمث یعنی حیض شروع ہونے سے جنسی بلوغت کا پتہ چلتا ہے۔ ان بچیوں میں ثانوی جنسی تبدیلیاں بھی موجود ہوتی ہیں۔
میڈیکل سائنس کے اعتبار سے یہ صاف ظاہر ہوگیا کہ بچیاں ۸؍سال کی عمر میں بالغ ہو جاتی ہیں۔
فتاویٰ قاضی خان کی عبارت اور میڈیکل کی تحقیقات میں نمایاں مطابقت نظر آتی ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ بالاتفاق ۸؍سال کی بچیاں بالغہ ہو جاتی ہیں۔ اگر بچی کی شادی ۹؍ سال کی عمر میں ہوتی ہے تو بالاتفاق یہ کہا جائے گا کہ وہ مشتہات اور بالغہ ہے۔ یہ روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ۹؍ سال کی بالغہ اور مشتہات سے شادی کرنے والے پر پیڈوفیلیا کا الزام لگانا شرعاً اور میڈیکل کے اعتبار سے غلط ہے۔