میلاکچیلا جانور
ایک دفعہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دریا کے کنارے جارہے تھے آپ کی نظر ایک سفید نورانی جانور پر پڑی دیکھتے کیا ہیں کہ وہ جانور دریا کے کیچڑ میں لوٹ پوٹ ہورہا ہے جس کی وجہ سے اس کا بدن میلا ہو گیا ۔ پھر وہ جانور وہاں سے نکل کر دریا میں نہاتا ہے جس سے وہ پھر سفید ہو جاتا ہے وہ جانور اس طرح سے پانچ مر تبہ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام جانور کی اس حرکت کو دیکھ کر متعجب ہوئے ۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آپ کو متعجب دیکھ کر فرمایا کہ یہ جانور جو آپ نے دیکھا یہ اُمّت محمدیہ کے نمازیوں کی مثال ہے اور یہ کچڑ ان کے گناہوں کی مثال ہے اور دریا ان نمازوں کی مثال ہے ۔ اس کیچڑ میں لو ٹنا گناہوں کی مثال ہے ۔ جس طرح یہ جانور کیچڑ میں لوٹا نہا دھو کر پاک صاف ہو گیا اسی طرح امت محمدیہ کے گناہگار لوگ ان پانچ نمازوں کے سبب اپنے گناہوں سے پاک وصاف ہو جائیں گے ۔
برادران ملّت اسلامیہ کس قدر خوش نصیب ہیں ہم لوگ کہ امت محمدیہ میں پیدا ہوئے ہیں کہ تمام امتوں سے افضل ہیں ۔ ہماری عبادت تمام امتوں کی عبادت سے افضل ہے ۔ اگر ہم سے بشریت کی بناء گناہ سرزرد ہو جاتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ نمازوں کے طفیل ہمارے گناہ کو معاف فرمادیتا ہے ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ہم پر بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے ہم پر پانچ وقت کی نماز فرض کی جس سے ہمارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں لیکن آج ہم نماز سے بالکل غافل ہو گئے ہیں ۔ روزانہ بیشمار گناہ ہم سے سرزدہو جاتے ہیں ،رات دن ہم گناہوں میں ملوث ہیں ، ایک ایک لمحہ ہمارا گناہوں میں گزرتا ہے لیکن ہم کو اتنی مہلت نہیں کہ اللہ کے سامنے سر جھکا کر نمازیں ادا کریں اور اپنے گناہوں کو معاف کرائیں ۔ برادران ملت یہ دنیا چند دن کی ہے کسی کو معلوم نہیں کے موت کب آجائے اگر ہم اسی طرح نماز سے غافل رہے تو سوائے افسوس کے کچھ نہیں ہو سکتا ہے۔ اگر آپ دونوں جہاں میں سرخروئی چاہتے ہیں اگر آپ اپنے گناہوں کی مغفرت چاہتے ہیں اگر آپ اللہ و رسول کو خوش کرانا چاہتے ہیں تو آج ہی سے نماز شروع کر دیجئے۔
Post Views: 41