مومن اور کافر کی زندگی یکساں نہیں
اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوْا السَیِّاتِ اَنْ نَجْعَہُمْ کَالَّذِیْنَ اٰمَنُواْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سََوَائً مَحْیَاہُمْ وَ مَمَاتُہُمْ سَائَ مَا یَحْکُمُْونَ (پارہ۲۵، رکوع۱۸)
ترجمہ: کیا جنہوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا ہے یہ سمجھتے ہیں کہ ہم انہیں ان جیسا کر دیں گے جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے کہ ان کی زندگی اور موت برابر ہو جائے کیا ہی برا حکم لگاتے ہیں۔
برادران اسلام مومن کی زندگی اور کافر کی زندگی برابر نہیں ہو سکتی کیونکہ ایمان نور ہے اور کفر تاریکی ہے نور اور تاریکی برابر کیوں ہو سکتی ہے کافر کے لیے یہ دنیا ہی سب کچھ ہے جبکہ مومن کے لیے یہ دنیا قید خانہ ہے آیت مذکورہ کا شان نزول یہ ہے کہ مشرکین مکہ کی ایک جماعت نے مسلمانوں سے کہا تھا کہ اگر تمہاری بات حق ہو اور مرنے کے بعد اٹھنا ہو تو بھی ہم ہی افضل رہیںگے جیسا کہ دنیا میں ہم تم سے بہتر ہیں ان کی رو میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی کسی کادوست اور دشمن برابر کیسے ہو سکتا ہے مومن اللہ عز وجل شانہ کا دوست ہوتا ہے اور کافر دشمن، مرنے کے بعد مومن کے کے لیے ہی آرام ہے جنت میں عالیشان مکان ہوںگے ان میں حور و غلمان خدمت میں معمور کیے جائیںگے طرح طرح کے پھل اور میوہ عطا کیا جائے گا جبکہ کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے اور اس عذاب میں وہ ہمیشہ رہیںگے۔
موت مومن کے لیے بہت بڑی نعمت ہے کیونکہ موت کے بعد ہی حضور ﷺ کا دیدار ہونا ہے اور اپنے خالق حقیقی سے ملنا ہے مومن اور کافر کی زندگی میں کافی فرق ہے جب مومن موت کو سامنے دیکھتا ہے تو روح خوش ہو جاتی ہے چہرے پر مسکراہٹ بکھر جاتی ہے مومن کو موت کا کوئی خوف نہیں ہوتا ہنستے ہوئے موت کو لبیک کہتا ہے اور کافر موت سے گھبرا تا ہے اپنے آپ کو بچانا چاہت ہے فرار ہونا چاہتا ہے لیکن موت سے فرار کا کوئی راستہ نہیں ہے کافر کے دل میں دنیا کی محبت بس جاتی ہے دنیا کے چھوڑنے کا اسے بڑا غم ہوتا ہے کافر سمجھ جاتا ہے مرنے کے بعد میرے لیے عذاب ہی عذاب ہے دنیا کا عیش و آرام چھوٹ جائے گا شیخ سعدی علیہ الرحمہ مرد مومن کے بارے میں فرماتے ہیں:
نشان مرد مومن باتو گوئم
چوں مرگ آید تبسم بر لب اوست