مولانا محمد ابراہیم آسی صاحب کےتعارف کا اجمالی خاکہ/Mufti ibrahim Aasi ka introductio

مولانا محمد ابراہیم آسی صاحب کےتعارف کا اجمالی خاکہ
مولانا محمد ابرہیم آسی صاحب کی پیدائش علی گنج اتر دیناج پور ویسٹ بنگال میں ہوئی آپ کے والد گرامی کا نام محمد مشرف علی ہے ،آپ نے دینی اور عصری تعلیم حاصل کی ،درس نظامیہ سے عالم ، فاضل ، الہ آباد بورڈ سے منشی ،کامل ، مولوی،عالم، جامعہ اردو علی گڑھ سے ادیب، ادیب ماہر، ادیب کامل اور معلم ،مولانا آزاد نیشنل اردو یونیور سٹی سے ایم اے ،آرہ کنور سنگھ یونیور سٹی سے پرےپی ایچ کا امتحان اعلی نمبر سے پاس کیا ، کرناٹک، مہاراشٹرا ،اور ممبئی کے کئی دینی اداروں میں درس تدریس کی خدمات انجام دی ،فی الحال ممبئی کا مشہور دینی ادارہ جامعہ قادریہ اشرفیہ میں درس تدریس کے علاوہ ،دارالافتا کی ذمہ داری بھی سنبھالے ہوئے ہیں ، آسی صاحب کو طالب علمی کے زمانہ سے ہی لکھنے کا شوق تھا ۔آپ کے مضامین مختلف اخبار رسائل میں شائع ہوتے رہے تقریبا ڈھائی سو ،مضامین اب تک شائع ہو چکے ہیں ، اس کے علاوہ کثیر تعداد میں آپ نے مختلف شخصیات پر مقالے بھی لکھے ہیں ، دو درجن کے قریب آپ کی تصانیف ہیں ۔ فیضان شریعت،دور حاضر کی تقریریں ، عظیم محمد ، خطبات آسی ، بنگال سے بہار تک، جام تصوف، آخری فیصلہ، عظمت رفاعی، شریعت و طریقت میں تطبیق، امیر ملت کا عشق رسول، حرمین کا سفر، حضور کی دست بوسی، سوانح سید، نور ولایت، قرآن کی روشنی، مصباح الفرائض، شہید راہ مدینہ کی حیات و خدمات، سمنانی قاعدہ ، انوار دینیات ، تاجدار عرب وعجم۔آسی صاحب کی تصانیف عوم خواص میں کافی مقبول ہیں ،مشہور زمانہ کتاب ،فیضان شریعت ہند اور بیرون ہندمیں کافی پسند کی گئی ، تقریبا اب تک ۲۸؍ واں ایڈیشن ہوچکا ہے ۔ انٹر نیٹ کے مختلف ۱۹؍ ویب سائٹ پر یہ کتاب دستیاب ہے ، فیضان شریعت کے متعدد ایڈیشن ،اور مقبول عام ہونےپر اداروں اور اکیڈمیوں نے نے آسی صاحب کو مختلف ایوارڈ سے نوازا ۔ دہلی فرید بکڈپوکی جانب سے ،بیسٹ رائٹر ایوارڈ ، خانقاہ رفاعیہ بڑودہ کی جانب سے ،رفاعی ایوارڈ ، انجمن نوریہ حبیبیہ کی جانب سے ،مثنی میاں ایوارڈ ، خانقاہ عالیہ کی طرف سے ، اشرفی ایوارڈ ، لا ریب انٹر پرائزیز کی طرف سے ، نوری ایوارڈ،ممبئی دو ٹانکی سپاری والا ہال میں مقتدر شخصیات اور مشائخ عظام کے ہاتھوں سے نوازا گیا ۔ آسی صاحب کی کتاب ، دورحاضر کی تقریریں ، عوام خواص کے ساتھ ساتھ مدارس اسامیہ کے طالب علم میں کافی مقبول ہے ۔ اس کی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب تک کتاب کا ۳۵؍ واں ایڈیشن ہو چکا ہے اور انٹر نیٹ پلے اسٹور سے تقریبا ڈیڑھ لاکھ افراد نے ڈاؤن لوڈ کرلیاہے ، کچھ عرصہ پہلے بدنام زمانہ ، مرتد وسیم رضوی عرف جتیندر سنگھ تیاگی نے ایک کتاب لکھی جس کا نام اس نے ،محمد ، رکھا جس میں اس مردود نے ۸۷؍ اعتراضات ،حضور صلی اللہ علیہ وسلم،حضرت عائشہ، صحابہ کرام ، قرآن مقدس، پر کیا ۔سارے اعتراض کا جواب آسی صاحب نے دیا اور کتاب کا نام ، عظیم محمد رکھا، ناموس رسالت پر لکی گئی یہ کتاب کافی مقبول ہوئی کتاب کا رسم اجر ا،خواجہ غریب نواز رضی اللہ عنہ کی بار گاہ میں ہوئی ،ہندوستان کے مختلف شہروں میں آسی صاحب کا شانداراستقبال کیا گیا ، اور ایوارڈ سے نوزے گئے ، خانقاہ برکاتیہ مارہرہ شریف سے امین ملت ڈاکٹرسید امین میاں کے ہاتھوں ،احسن العلما ایوارڈ ، آل انڈیا سنی جمعیۃ العلما کی جانب سے حضرت معین المشائخ ،سیدمعین میاں، صدر آل انڈیا سنی جمعیۃ العلما ،صاحب سجادہ خانقاہ عالیہ کچھوچھہ مقدسہ ،بریلی شریف کے سجادہ نشین منانی میاں ، محقق مسائل جدیدہ مفتی نظام الدین رضوی ،رئیس القلم علامہ یسین اختر مصباحی ،بانی رضااکیڈمی الحاج محمد سعید نوری اور مولانا عبدالمبین نعمانی کی موجود گی میں آسی صاحب کو ان کی گرانقدر خدمات کو سراہتے ہوئے، ایک لاکھ بارہ ہزار کا چیک پیش کیا گیا ، خانقاہ سمرقندیہ کی جانب سے نور باغ ہال ڈونگری ممبئی میں پیر طریقت حضرت علامہ مولاناسید شمس اللہ جان مصباحی المعروف بابو حضور کے ہاتھوں ،نقشبندی ایوارڈ ، خانقاہ اہل سنت،میمن کالونی بروڈہ گجرات میں پیر طریقت حضرت علامہ مولانا سیدمعین الدین جیلانی، صاحب سجادہ کے ہاتھوں ، عظیم ملت ایوارڈ، انجمن نوریہ نقشبندیہ کی جانب سے المعین ہال مستان تالاب ممبئی میں ،،عظیم محمد ایوارڈ ، وارثی ایجوکیشن ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے ،کلک رضا ایوارڈ، ادارہ تعلیم القرآن بھائیکلہ ممبئی کی جانب سے ، نصیر ملت ایوارڈ ، نوجونان ناسک کمیٹی کی جانب سے ، تحفظ ناموس رسالت ایوارڈ بزم چشتی، قادری، اشرفی ممبئی کی جانب سے ، حسام ملت ایوارڈ ،جامعہ طیبۃ الرضا چنتل میٹ حیدر آباد کی جانب سے ، مولانا نور الدین ایوارڈ ،سے نوازے گئے ، چھ ماہ کی قلیل مدت میں اتنے ایوارڈ سے نوازے جانا کتاب کی مقبولیت کا اندازہ ہو تا ہے ۔ آسی صاحب نے کئی مقالہ خوانی میں بھی اول نمبر حاصل کیا ہے ۔