موت سے چھٹکارا نہیں

موت سے چھٹکارا نہیں

کُلُّ شَیٍّ ہَالِکٌ اِلَّا وَجْہَہٗ لَہٗ الْحُکْمُ وَ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ (پارہ۲۰، رکوع۱۲)
ترجمہ: ہر چیز فانی ہے سوا اس کی ذات کے اسی کا حکم ہے اور اسی کی طرف پھر جاؤگے۔
برادران اسلام اگر کوئی ذات باقی رہنے والی ہے تو وہ خالق کائنات کی ذات ہے ورنہ ہر ایک لیے موت لازم ہے قرآن مقدس میں اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے زمین پر جتنے ہیں سب کو فنا ہے اور باقی ہے تمہارے رب کی ذات جو عظمت و بزرگی والا ہے ہر ذی روح کو موت کا مزہ چکھنا ہے قرآن مقدس میں ارشاد ربانی ہے ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے اس دنیا کو دیکھیں تو ہر معاملے میں اختلاف نظر آرہا ہے لیکن موت میں کسی کا اختلاف نہیں موت کے متعلق ہندو سے دریافت کریں یا یہودی سے عیسائی سے پوچھیں یا مجوسی سے ہر ایک کا جواب یہی ہوگا کہ ایک دن سب کو مرنا ہے یعنی کسی کو بھی موت سے چھٹکارا نہیں۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں ایک شخص گھبرایا ہوا آیا اور کہنے لگا حضور ہوا کو حکم دیجیے کہ مجھے سرزمین ہند پہنچا دے حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا یہاں سے کیوں جانا چاہتا ہے وہ کہنے لگا ابھی ابھی میں نے ملک الموت کو دیکھا ہے جو مجھے گھور گھور کر دیکھ رہا تھا حضور میری خیر نہیں مجھے ابھی ہند پہنچا دیجیے حضرت سلیمان علیہ السلام نے ہوا کو حکم دیا ہوا اس کو فوراً ہند چھوڑ آئی تھوڑی دیر کے بعد ملک الموت حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس آئے اور عرض کرنے لگے خدا کا مجھے حکم تھا کہ اس شخص کی جان سرزمین ہند میں قبض کروں میں حیران تھا کہ اس شخص کی جان ہند میں قبض کرنے کو فرمایا گیا ہے اور یہ یہاں آپ کے پاس کھڑا ہے میں اسی حیرانی میں تھا کہ خود ہی اس نے ہند جانے کی تمنا ظاہر کر دی چنانچہ وہ جس وقت سرزمین ہند میں اترا اس کا وقت آچکا تھا اسی وقت میں نے وہاں اس کی جان قبض کر لی۔
برادران اسلام موت سے کسی کو رستگاری نہیں چاہے ہم جتنی حفاظت کریں موت آنے پر ہم بچ نہیں سکیںگے موت اپنے وقت پر آئے گی لہذا ہمیں ہر وقت موت کو یاد رکھنا چاہیے تاکہ گناہوں سے دور رہیں موت کی یاد دل کو گناہوں سے دور رکھتی ہے۔