
ممبرا میں جلوسِ غوثیہ، کے تعلق سے علما ، ائمہ ،دانشوروں کی اہم میٹنگ۔
شہری حالات کے پیش نظر امن و امان کے لئے ۲۷؍ستمبر بروز اتوار آل انڈیا سنی جمعیۃ العلما نے جلوس نکالنے کا اعلان کیا ۔(مولانا سید معین میاں )
(اسٹاف رپورٹر)ممبرا ۔ دارالعلوم غریب نواز ممبرا میں بروز سنیچر بعد نماز مغرب ممبرا میں جلوسِ غوثیہ، کے تعلق سے علما ، ائمہ ،دانشوروں کی اہم میٹنگ منعقد کی گئی جس کی سر پرستی و صدارت پیرِ طریقت قائد اہل سنت حضرت علامہ مولانا سید شاہ معین الدین اشرف اشرفی جیلانی سجادہ نشین آستانۂ عالیہ درگاہِ کچھوچھہ مقدسہ و صدر آل انڈیا سنی جمعیۃ ا لعلماء نے فرمائی ۔میٹنگ کا آغاز حضرت مولانا حافظ و قاری سجاد عالم مصباحی خطیب و امام غریب نواز مسجد، ممبرا کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔معین المشائخ نے صدارتی خطبہ میں کہا کہ سماج اور معاشرہ سےبرائیوں کے خاتمہ کے لئے غوث پاک کی تعلیمات کو عام کرنے کی ضرورت ہے ۔ آپ نے علماء کرام کو مخاطب کرتے ہوئے اصلاحِ معاشرہ اور سماجی خرابیوں کے خاتمے کے لیے عملی کوششوں پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دینی و اصلاحی سرگرمیوں کے ساتھ فلاحی اور امدادی کاموں کو بھی ترجیح دی جائے۔ آج معاشرے میں ایسے بہت سے افراد موجود ہیں جو غربت اور بے بسی کے باعث علاج معالجہ تک کے لیے پریشان ہیں، لہٰذا علماء اور دینی تنظیموں کو خدمتِ خلق اور ضرورت مندوں کی امداد کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنا چاہیے۔جلوسِ غوثیہ محبتِ غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے، اور اس محبت کا تقاضا یہ ہے کہ جلوس ادب، شریعت، اخلاق، امن، صفائی اور نظم و ضبط کے ساتھ نکالا جائے۔ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ جلوس میں کسی کو تکلیف نہیں دیں گے، راستہ بلا ضرورت نہیں روکیں گے، قانون کی پابندی کریں گے، بزرگوں اور بچوں کا خیال رکھیں گے، صفائی کا اہتمام کریں گے اور محبت و اخوت کا پیغام عام کریں گے۔قرآن و حدیث انسان کے دل میں اثر پیدا کرتے ہیں اور انسان کی زندگی میں حقیقی اصلاح کا ذریعہ بنتے ہیں۔آپ نے علماء کرام سے کہا کہ اپنی گفتگو کے ذریعے عوام کو قرآن و سنت کی تعلیمات سے جوڑنے کے ساتھ ساتھ معاشرے کی عملی اصلاح کے لیے بھی کوشش کریں ۔ اس مٹنگ میں علامہ مفتی توکیل احمد شمسی، صدر شعبۂ دارالافتاء، دارالعلوم اشرفیہ غریب نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے میٹنگ کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی اور جلوسِ غوثیہ کے انتظامات و تیاریوں کے حوالے سے علماء اور ذمہ داران کی توجہ مبذول کرائی۔علامہ ابراہیم آسی صاحب نے اپنے خطاب میں کہا کہ جلوسِ غوثیہ کے اہتمام کا بنیادی مقصد حضور غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ کی شخصیت کا تعارف، آپ سے اظہارِ محبت اور آپ کی تعلیمات کو عام کرنا ہے۔ انہوں نے علماء کرام سے اپیل کی کہ مساجد اور اپنے خطابات میں حضرت غوثِ پاک کی سیرت و تعلیمات کو نمایاں طور پر بیان کریں، تاکہ عوام کو اس عظیم اجتماع کے حقیقی مقصد سے واقف کرایا جا سکے۔علامہ قاری عطاء اللہ قادری، خطیب و امام سنی جامع مسجد نے موجودہ حالات کے پیشِ نظر ۲۷؍ستمبر کو جلوسِ غوثیہ کے انعقاد کے فیصلے کو سراہتے ہوئے اس کی حمایت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ حضور معین ملت نے بروقت درست فیصلہ کیا ۔ انہوں نے اس فیصلے پر حضرت معین میاں صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات کے پیشِ نظر ذمہ دارانہ فیصلہ کیا گیا ہے۔مٹنگ میںممبرا کے سینئر انسپکٹر گنیش جاود واڈ نے بھی شرکت کی اور کہا کہ جلوس غوثیہ کےانتظامی امور میں کو مقامی پولیس، ٹریفک پولیس ہر طرح کا تعاون کر نے کے لئے تیار ہے ۔ علماء کرام اور ذمہ داران نے جلوس کو منظم، باوقار اور اصلاحی پیغام کا مؤثر ذریعہ بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔اس اہم مشاورتی میٹنگ میں مولانا الطاف حسین۔ مولانا عبدالرحیم ، مولانا نسیم۔ مولانا محفوظ الرحمن ۔ ڈاکٹر اسلم۔ عبدالغفار سپاری والا۔ نے شرکت کی