ملعون وسیم رضوی کی من گھڑت حدیث کا پوسٹ مارٹم

ہوس پرستی کا الزام
ملعون وسیم رضوی اپنی کتاب کے صفحہ نمبر ۷۵ میں لکھتا ہے کہ :
’’محمد صاحب کی ہوس کا نشانہ بننے والی پہلی خاتون کا نام خولہ بنت حکیم السلیمیہ تھا آگے لکھتا ہے ’’خولہ محمد کی ماں کی بہن تھی یعنی اسکی حقیقی خالہ (Maternal Aunt) تھی۔ اس کے ثبوت کے لئے ملعون وسیم رضوی ایک من گھڑت حدیث مسند احمد کے حوالے سے لکھتا ہے کہ ’’یہ بات مسند احمد میں اس طرح بیان کی گئی ہے خولہ بنت حکیم نے رسول سے پوچھا جس عورت کو خواب میں انزال کی بیماری ہو تو وہ عورت کیا کرے؟ رسول نے کہا اسے میرے پاس لیٹنا چاہئے۔ تب خولہ محمد صاحب کے پاس سوگئیں اور محمد صاحب نے اس کے ساتھ ہمبستری کی۔‘‘ (معاذ اللہ سو بار معاذ اللہ)
ملعون وسیم رضوی کی من گھڑت حدیث کا پوسٹ مارٹم
قارئین! اب آپ کے سامنے ملعون وسیم رضوی کے من گھڑت حوالے، من گھڑت حدیث کا پوسٹ مارٹم کرتا ہوں تاکہ ملعون وسیم رضوی کے جھوٹ کا ناسور آپ کے سامنےواضح ہو جائے۔
سب سے پہلا جھوٹ تو یہ ہے کہ خولہ بنت حکیم السُلیمیہ حضور اقدس ﷺ کی حقیقی خالہ نہیں ہیں جسے ملعون وسیم رضوی نے (Maternal aunt) لکھا ہے۔ حضرت خولہ کا نسب خولہ بنت حکیم بن امیہ بن حارثہ ہے اور حضور اقدس ﷺ کی والدہ کا نسب آمنہ بنت وہب بن عبد مناف ہے جن کا تعلق قبیلہ بنو زہرہ سے تھا اور خولہ کا تعلق قبیلہ سلیم سے تھا۔ پھر خولہ حضور ﷺ کی سگی خالہ کیسے ہوسکتی ہیں؟ ملعون وسیم رضوی کی من گھڑت کہانی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کی آنکھ میں جھوٹ کی پٹی باندھ دی گئی ہے۔
ملعون وسیم رضوی کتنی بے باکی سے کہتا ہے ’’محمد کی ہوس کا نشانہ بننے والی پہلی خاتون کا نام خولہ بنت حکیم السلیمیہ ہے۔
آیئے سب سے پہلے اس کے حوالہ کی طرف رجوع کرتے ہیں جو اس نے مسند امام احمد جلد ۱۱،میں مسند النساء، صفحہ نمبر ۱۹۵ ، حدیث نمبر ۲۷۸۶۹ کا دیا ہے۔
حَدَّثْنَا عَبْدُاللہ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ سُلَيْمٍ قَالَتْ كَانَتْ مُجَاوِرَةَ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَتْ تَدْخُلُ عَلَيْهَا فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِذَا رَأَتِ الْمَرْأَةُ أَنَّ زَوْجَهَا يُجَامِعُهَا فِي الْمَنَامِ أَتَغْتَسِلُ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ تَرِبَتْ يَدَاكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ فَضَحْتِ النِّسَاءَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحِي مِنْ الْحَقِّ وَإِنَّا إِنْ نَسْأَلْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّا أَشْكَلَ عَلَيْنَا خَيْرٌ مِنْ أَنْ نَكُونَ مِنْهُ عَلَى عَمْيَاءَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُمِّ سَلَمَةَ بَلْ أَنْتِ تَرِبَتْ يَدَاكِ نَعَمْ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ عَلَيْهَا الْغُسْلُ إِذَا وَجَدَتِ الْمَاءَ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهَلْ لِلْمَرْأَةِ مَاءٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنَّى يُشْبِهُهَا وَلَدُهَا هُنَّ شَقَائِقُ الرِّجَالِ
ترجمہ: ’’حضرت ام سلیم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے حضور ﷺ سے پوچھا کہ اگر عورت بھی اسی طرح خواب دیکھے جیسے مرد دیکھتا ہے تو کیا حکم ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو عورت ایسا خواب دیکھے اور اسے انزال ہو جائے تو اسے غسل کرنا چاہئے۔ ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا ام سلیم! تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں۔ تم نے تو نبی کے سامنے ساری عورتوں کو رسوا کیا۔ ام سلیم کہنے لگیں اللہ تعالیٰ حق بات سے نہیں شرماتا، کوئی بات مشتبہ ہو تو نبی سے پوچھ لینا ہمارے نزدیک اس کے متعلق نا واقف رہنے سے بہتر ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اے ام سلمہ! تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں۔ ہاں ام سلیم! اگر عورت ایسا خواب دیکھے تو اس پر غسل واجب ہو جاتا ہے۔ حضرت ام سلمہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا عورت کا بھی پانی ہوتا ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: بچہ عورت کے مشابہ کیوں ہوتا ہے؟ عورتیں مردوں کا جوڑا ہیں۔‘‘
محترم قارئین! اب میں ملعون وسیم رضوی کی خبر لیتا ہوں، جس حدیث کو اس نے خولہ بنت حکیم سلیمیہ کی طرف منسوب کیا ہے وہ حدیث ان سے مروی نہیں۔ مسند احمد کے مسند النسا کے تحت یہ حدیث ام سلیم سے مروی ہے۔ جب یہ حدیث ختم ہوتی ہے تو خولہ بنت حکیم کی حدیث شروع ہوتی ہے اور خولہ بنت حکیم سے کون سی حدیث مروی ہے وہ بھی آپ ملاحظہ فرمائیں۔
مسند امام احمد جلد ۱۱،میں مسند النساء کے تحت حدیث نمبر ۲۷۸۸۱
’’عَنْ خَوْلَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ نَزَلَ مَنْزِلًا فَقَالَ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ حَتَّى يَظْعَنَ مِنْهُ ‘‘
ترجمہ: ’’حضرت خولہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص کسی مقام پر پڑائو ڈالے اور یہ کلمات کہے أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ تو اسے کوئی چیز نقصان نہ پہنچا سکے گی یہاں تک کہ وہ اس جگہ سے کوچ کر جائے۔‘‘
ملعون وسیم رضوی کا جھوٹ ملاحظہ کیجئے۔
جھوٹ نمبر ۱:
خولہ بنت حکیم پر ہوس پرستی کا جھوٹا الزام لگانے میں پہلی خاتون قرار دیا۔
جھوٹ نمبر ۲:
جھوٹا الزام لگاتے ہوئے حضور ﷺ پر معاذ اللہ ان سے ہمبستری کا الزام لگایا۔
جھوٹ نمبر ۳:
ام سلیم کی حدیث کو خولہ بنت حکیم کی طرف من گھڑت کہانی کے ساتھ بیان کر دیا۔
ملعون وسیم رضوی کو تو حضور پر جھوٹا الزام لگانا تھا اس لئے اس نے من گھڑت کہانی بیان کر دی۔
محترم قارئین! اب حدیث کے عربی متن کو بار بار پڑھئے اور اس کو سمجھئے کہ کیا کہیں بھی لکھا ہے کہ حضور ﷺ کے ساتھ خولہ سوئیں؟ یا ام سلیم سوئیں؟ ؟ان سے منسلک من گھڑت کہانی میں ملعون وسیم رضوی کا جھوٹ ملاحظہ کیجئے۔
جھوٹ نمبر ۱:
حضرت خولہ حضور ﷺ کی سگی خالہ نہیں تھیں۔
جھوٹ نمبر۲:
جس عورت کو انزال کی بیماری ہو۔
جھوٹ نمبر ۳:
رسول نے کہا اس کو میرے پاس لیٹنا چاہئے۔
جھوٹ نمبر۴:
خولہ حضور ﷺ کے ساتھ سوگئیں۔
جھوٹ نمبر۵:
حضور ﷺ نے خولہ کے ساتھ ہمبستری کی ۔ (معاذ اللہ سو بار معاذ اللہ!)
سب سے بڑا جھوٹ تو یہ ہے کہ یہ حدیث خولہ بنت حکیم کی ہے ہی نہیں۔ بلکہ ام سلیم کی ہے اور پوری حدیث کا مطالعہ کیجئے تو ملعون وسیم رضوی کی یہ من گھڑت باتیں آپ کو نظر آئیں گی۔
جب حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا، ایسی عورت کو کیا کرنا چاہئے؟ حضور ﷺ نے فرمایا ’’علیھا الغسل‘‘ یعنی اس کو غسل کرنا چاہئے۔ جھوٹا ملعون وسیم رضوی لکھتا ہے کہ رسول نے کہا میرے ساتھ لیٹنا چاہئے۔ (معاذ اللہ)
یہ حدیث مسند احمد کے علاوہ صحیح بخاری میں بھی ہے۔ اس حدیث کو بھی آپ ملاحظہ فرمائیں۔
صحیح بخاری، جلد اول، صفحہ ۱۹۳، کتاب الغسل، حدیث نمبر ۲۷۵
’’حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّهَا قَالَتْ جَائَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ امْرَأَةُ أَبِي طَلْحَةَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنْ الْحَقِّ هَلْ عَلَی الْمَرْأَةِ مِنْ غُسْلٍ إِذَا هِيَ احْتَلَمَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ إِذَا رَأَتِ الْمَائَ‘‘
ترجمہ: ’’ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ابو طلحہ کی زوجہ ام سلیم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں، عرض کیا، اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ حق بات بیان کرنے سے نہیں شرماتا، جب عورت کو احتلام ہو تو اس کے لئے بھی غسل ضروری ہے؟ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا ہاں! اگر پانی دیکھے۔‘‘
یہی حدیث امام مسلم نے بھی روایت کی ہے ۔
صحیح مسلم، جلد اول، صفحہ ۲۷۱ ،کتاب الحیض، حدیث نمبر ۴۰۴
’’حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ قَالَ إِسْحَقُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ جَائَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ وَهِيَ جَدَّةُ إِسْحَقَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ لَهُ وَعَائِشَةُ عِنْدَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْمَرْأَةُ تَرَی مَا يَرَی الرَّجُلُ فِي الْمَنَامِ فَتَرَی مِنْ نَفْسِهَا مَا يَرَی الرَّجُلُ مِنْ نَفْسِهِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ فَضَحْتِ النِّسَائَ تَرِبَتْ يَمِينُکِ فَقَالَ لِعَائِشَةَ بَلْ أَنْتِ فَتَرِبَتْ يَمِينُکِ نَعَمْ فَلْتَغْتَسِلْ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ إِذَا رَأَتْ ذَاکِ‘‘
ترجمہ: ’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اسحاق کی دادی ام سلیم رسول خدا ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اس وقت حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی حضور کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں، انہوںنے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا یا رسول اللہ! اگر کوئی عورت اس طرح خواب دیکھے جیسے مرد خواب دیکھتا ہے تو وہ کیا کرے؟ حضرت عائشہ صدیقہ بولیں، اے ام سلیم! تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں، تم نے تو عورتوں کو شرمندہ کردیا۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہ سے فرمایا: بلکہ تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں۔ پھر ام سلیم سے مخاطب ہو کر فرمایا: اے ام سلیم! جب عورت ایسا خواب دیکھے تو اسے چاہئے کہ غسل کرے۔‘‘
محترم قارئین اب روز روشن کی طرح عیاں ہو گیا کہ حضرت خولہ پر سراسر الزام ہے اور حضور ﷺ پر معاذ اللہ جھوٹا الزام لگایا گیا ہے۔ حدیث سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ نہ مسند احمد کی حدیث میں، نہ صحیح بخاری کی حدیث میں، نہ صحیح مسلم کی حدیث میں۔ یہ سب ملعون وسیم رضوی کی من گھڑت باتیں ہیں۔