ملعون وسیم رضوی کی بے شرمی
ملعون وسیم رضوی بڑی بے شرمی سے اپنی کتاب کے صفحہ ۸۶؍ پر لکھتا ہے کہ
ماں کے ساتھ زنا جائز ہے اور آگے لکھتا ہے ان باتوں کے لئے اسلامی قانون میں کسی بھی سزا کے لئے دفعہ نہیں ہے اور فتاویٰ قاضی خان کا حوالہ دیتا ہے۔ آئیے سب سے پہلے فتاویٰ قاضی خان کی عبارت ملاحظہ فرمائیے، اس کے بعد ملعون وسیم رضوی کی جہالت کا اندازہ لگائیے۔
فتاویٰ قاضی خان، جلد اول، کتاب النکاح، باب فی المحرمات، صفحہ ۱۷۰، مطبوعہ حافظ کتب خانہ مسجد روڈ، کوئٹہ۔
’’لورجل وطئی امراۃ ابیہ حرمت علی ابیہ فان قال الابن علمت انھا علی حرام کان علیہ الحد وان لم یعلم الابن بذالک ووطئھا عن شبھۃ لاحدعلیہ‘‘
ترجمہ: ’’اگر کسی شخص نے اپنے باپ کی بیوی سے ہمبستری کی تو وہ عورت اس کے باپ پر حرام ہوگئی اور اگر بیٹے نے کہا کہ میں جانتا تھا کہ مجھ پر حرام ہے تو اس پر حد یعنی دفعہ ہے۔ اگر بیٹا جانتا ہی نہیں ہے کہ وہ عورت اس کے باپ کی بیوی ہے غلطی سے نکاح اور صحبت کر لی تو اس پر حد نہیں۔‘‘
محترم قارئین! آپ نے ترجمہ ملاحظہ فرمایا، اب میں اس کی وضاحت آپ کے سامنے کرتا ہوں، اگر کسی شخص نے جان بوجھ کر اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کیا اور صحبت کی تو اس پر حد یعنی دفعہ ہے اور وہ دفعہ یہ ہے کہ اگر وہ پہلے سے شادی شدہ نہیں ہے تو اسے سو کوڑے مارے جائیں گے اور اگر شادی شدہ تھا تو اسے پتھر مار کر ہلاک کر دیا جائے گا۔ اور اگر وہ جانتا ہی نہیںتھا کہ وہ عورت اس کے باپ کی بیوی ہے، انجانے میں نکاح کیا اور صحبت کی تو اس پر حد نہیں یعنی اس پر دفعہ نہیں۔ اس کو مثال سے سمجھئے کہ کسی شخص کا باپ کسی دوسرے شہر میں گیا اور کسی عورت سے نکاح کیا پھر اپنے شہر میں واپس آگیا۔ کچھ عرصہ بعد اسی شہر میں اس شخص کا بیٹا گیا اور اس عورت نے کہا کہ میں غیر شادی شدہ ہوں اور اپنی شادی کو چھپایا تو اس کے بیٹے نے اس سے نکاح کر لیا، اسے پتہ ہی نہیں ہے کہ وہ عورت اس کے باپ کی بیوی ہے تو ایسی صورت میں اس پر حد نہیں یعنی دفعہ نہیں۔