ملعون وسیم رضوی کی بینائی ختم
اس واقعہ میں ملعون وسیم رضوی کے جھوٹ کو شمار کراتا ہوں۔
جھوٹ نمبر ۱:
’’محمد صاحب کی نظر خراب ہوگئی۔‘‘
تبصرہ: ملعون وسیم رضوی کو معلوم ہونا چاہئے کہ جس وقت حضور ﷺ نے حضرت زینب سے نکاح فرمایا اس وقت حضرت زینب کی عمر ۳۸؍ سال تھی، حضور ﷺ حضرت زینب کو بچپن سے جانتے تھے کیونکہ آپ کی پھوپھی زاد بہن تھیں۔ ملعون وسیم رضوی کی سوچ پر جتنا ماتم کریں کم ہے کہ جب حضرت زینب جوان تھیں اس وقت نبی کریم ﷺ کی نیت خراب نہیں ہوئی، جب جوانی ڈھل گئی عمر ۳۸؍ سال ہوگئی اس وقت آپ ﷺ کی نیت خراب ہوئی۔ (معاذ اللہ) کیا کوئی عقلمند اس بات کو تسلیم کرے گا۔ اگر ملعون وسیم رضوی کے پاس بینائی ہوتی تو اس طرح کی باتیں نہیں کرتا۔
جھوٹ نمبر ۲:
’’محمد صاحب نے زینب کو حاصل کرنے کے لئے قرآن کا غلط استعمال کیا۔‘‘
تبصرہ : محترم قارئین! اب واضح ہوگیا کہ ملعون وسیم رضوی کتنا بڑا جھوٹا ہے قرآن کی آیت جو آپ نے پڑھی اس میں ہے کہ ’’اپنی بیوی کو نکاح میں لئے رہو۔‘‘ یعنی قرآن کی آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضور زید کو طلاق دینے سے منع فرما رہے تھے اور ملعون وسیم رضوی کہتا ہے کہ قرآن کا غلط استعمال کیا۔ ملعون وسیم رضوی نے سورہ احزاب کی آیت نمبر ۵ بیان کی ہے اس کی وضاحت میں آپ کے سامنے پیش کروں۔
تفسیر خازن میں ہے کہ ’’لے پالک بچے کو پالنے والوں کا بیٹا قرار دینے سے منع کیا گیا‘‘ اور اس آیت میں یہ فرمایا جا رہا ہے کہ تم بچوں کو ان کے حقیقی باپ ہی کی طرف منسوب کرکے پکارو، یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ انصاف کی بات ہے پھر اگر تمہیں ان کے باپ کا علم نہ ہو اور اس وجہ سےتم انہیں ان کے باپوں کی طرف منسوب نہ کرسکو تو وہ تمہارے دینی بھائی اور دوست ہیں، جس کے لے پالک ہیں اس کا بیٹا نہ کہو اور ممانعت کا حکم آنے سے پہلے تم نے جو لاعلمی میں لے پالکوں کو ان کے پالنے والوں کا بیٹا کہا اس پر تمہاری گرفت نہ ہوگی۔
اسلامی قانون میں بچہ گود لینا جائز ہے لیکن یہ یاد رہے کہ گود لینے والا عام بول چال میں یا کاغذات Documentsوغیرہ میں اس کے حقیقی باپ کے طور پر اپنا نام استعمال نہیں کرسکتا بلکہ سب جگہ اصلی والد کا ہی نام استعمال کرے گا۔