ملعون وسیم رضوی کو جنسی تعلیم سے دلچسپی
ملعون وسیم رضوی اپنی کتاب کے صفحہ ۸۷ پر ’’عائشہ صحابیوں کو جنسی تعلیم دیتی تھی‘‘ عنوان کے تحت لکھتا ہے کہ ’’رسول کی بیوی عائشہ نے کہا کہ ایک آدمی رسول کے پاس گیا اور اس نے پوچھا کہ میں جب اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرتا ہوں تو انزال نہیں ہوتا ہے، کیا ایسی صحبت کے بعد غسل کرنا ضروری ہے؟ اس وقت عائشہ وہاں موجود تھی، رسول نے کہا: جب میں اور ایمان والوں کی ماں (عائشہ) صحبت کرتے ہیں تو غسل کرتے ہیں۔
ملعون وسیم رضوی اس کے علاوہ ایک حدیث اور بھی بیان کرتا ہے۔ اب میں دونوں حدیث اصل متن کے ساتھ پیش کرتا ہوں پھر ملعون وسیم رضوی کی مکاری بیان کرتا ہوں۔
صحیح مسلم، جلد اول، صفحہ ۲۹۲، کتاب الحیض، حدیث نمبر ۷۸۴
’’حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أُمِّ کُلْثُومٍ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الرَّجُلِ يُجَامِعُ أَهْلَهُ ثُمَّ يُکْسِلُ هَلْ عَلَيْهِمَا الْغُسْلُ وَعَائِشَةُ جَالِسَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَفْعَلُ ذَلِکَ أَنَا وَهَذِهِ ثُمَّ نَغْتَسِلُ‘‘
ترجمہ: ’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرے پھر انزال سے پہلے الگ ہو جائے تو کیا اس پر غسل واجب ہوتا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا میں اور یہ ایسا کرتے ہیں اور پھر غسل کرتے ہیں۔‘‘
دوسری حدیث بھی آپ ملاحظہ فرمائیں
صحیح مسلم جلد اول، صفحہ ۲۹۲، کتاب الحیض، حدیث نمبر ۷۸۳
’’حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی وَهَذَا حَدِيثُهُ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ اخْتَلَفَ فِي ذَلِکَ رَهْطٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّونَ لَا يَجِبُ الْغُسْلُ إِلَّا مِنْ الدَّفْقِ أَوْ مِنْ الْمَائِ وَقَالَ الْمُهَاجِرُونَ بَلْ إِذَا خَالَطَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ قَالَ قَالَ أَبُو مُوسَی فَأَنَا أَشْفِيکُمْ مِنْ ذَلِکَ فَقُمْتُ فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَی عَائِشَةَ فَأُذِنَ لِي فَقُلْتُ لَهَا يَا أُمَّاهْ أَوْ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَکِ عَنْ شَيْئٍ وَإِنِّي أَسْتَحْيِيکِ فَقَالَتْ لَا تَسْتَحْيِي أَنْ تَسْأَلَنِي عَمَّا کُنْتَ سَائِلًا عَنْهُ أُمَّکَ الَّتِي وَلَدَتْکَ فَإِنَّمَا أَنَا أُمُّکَ قُلْتُ فَمَا يُوجِبُ الْغُسْلَ قَالَتْ عَلَی الْخَبِيرِ سَقَطْتَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ وَمَسَّ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ‘‘
ترجمہ: ’’حضرت ابوموسیٰ اشعری بیان فرماتے ہیں کہ مہاجرین اور انصار کا اس بات میں اختلاف ہوا کہ بغیر انزال کے غسل واجب ہوتا ہے کہ نہیں۔ انصاری صحابہ یہ کہتے تھے کہ غسل صرف انزال سے واجب ہوتا ہے اور مہاجرین کہتے تھے کہ صرف صحبت کرنے سے غسل واجب ہوتا ہے۔ حضرت ابوموسیٰ نے فرمایا کہ میں نے کہا میں اس معاملہ میں تمہاری ابھی تسلی کراتا ہوں۔ میں وہاں سے اُٹھ کر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوا اور باریابی کی اجازت چاہی۔ اجازت ملنے پر میں نے عرض کیا، اے میری ماں اور تمام مسلمانوں کی ماں! میں آپ سے ایک مسئلہ حل کرانا چاہتا ہوں لیکن مجھے شرم آتی ہے۔ حضرت عائشہ نے فرمایا: میں تمہاری حقیقی والدہ کی طرح ہوں، مجھ سے کوئی بات پوچھنے میں شرم نہ کرو، میں نے عرض کیا غسل کس چیز سے واجب ہوتا ہے؟ آپ نے فرمایا: تم نے اس سے یہ بات پوچھی ہے جس کو اس مسئلہ کا علم ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب آدمی چار شانوں کے درمیان بیٹھے اور دو شرم گاہیں مل جائیں تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔‘‘
محترم قارئین! آپ نے دونوں حدیثوں کو پڑھا۔ کیا اس میں جنسی تعلیم کی ترغیب ہے؟ کیا اس سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ نے صحابہ کو جنسی تعلیم دی؟ کوئی بھی انصاف پسند اس بات کو قبول نہیں کرے گا کہ اس میں جنسی تعلیم ہے۔ لیکن ملعون وسیم رضوی کے ذہن و فکر میں سیکس ایسا مسلط ہے کہ ہر چیز میں اس کو سیکس ہی نظر آتا ہے۔ اس کتاب کے مطالعہ سے آپ کو خود اندازہ ہوگیا ہوگا کہ اس کم ظرف کو ہر واقعہ میں سیکس ہی نظر آتا ہے۔ اس کم ظرف کو ہر واقعہ میں سیکس کا مرچ مسالہ لگانے کا کتنا شوق ہے؟
اوپر کی دونوں حدیثیں صفائی اور پاکیزگی کو بتاتی ہیں۔ یہ ایک اسلامی اور شرعی مسئلہ ہے کہ آدمی بیوی سے کتنا قریب ہو کہ اس کو غسل کرنا ضروری ہے، یہ معاملہ ہر زوجین کو پیش آسکتا ہے تو اس کا اسلامی قانون جاننا بھی ضروری ہے۔ حضور اقدس ﷺ کے ظاہری وصال کے بعد صحابہ کرام اہم اہم مسائل میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف رجوع ہوتے تھے اس لئے کہ آپ مجتہدہ تھیں۔ اس مسئلہ میں اختلاف ہونے کی صورت میں مسئلہ کے حل کے لئے ان کے پاس گئے۔ آپ نے صحیح اسلامی قانون بتا دیا۔ یہ تو دنیا کا دستور اور نظام ہے کہ ہر مسئلہ کو اپنے سے زیادہ جاننے والے کے پاس جاکر ہی حل کیا جاتا ہے۔
ملعون وسیم رضوی کو دوسرے مذہب کی کتابوں کا بھی مطالعہ کرنا چاہئے جیسا کہ جنسی تعلق سے دیانند سرسوتی اپنی کتاب ستیارتھ پرکاش سملاس چوتھا باب ’’گربھادان سنسکار‘‘ عنوان کے تحت لکھتا ہے کہ
’’بیاہ کے طریقہ کو پورا کرکے خلوت میں چلے جائیں، مرد منی ڈالنے اور عورت منی کھیچنے کی جوترکیب ہے اسی مطابق دونوں ہمبستری کرے، جہاں تک ہو سکے وہاں تک برہمچریہ کی منی کو فضول ضائع نہ کرے۔ جب منی بچہ دانی میں گرنے کا وقت ہو اس وقت عورت مرد دونوں بے حرکت ناک کے سامنے ناک، آنکھ کے سامنے آنکھ یعنی سیدھا جسم ہو، ہلیں نہیں، مرد اپنے جسم کو ڈھیلا چھوڑ دے، عورت منی حاصل کرتے وقت سانس اوپر کھینچے، اپنی شرمگاہ کو اوپر سکڑ لیں، منی اوپر کھینچ کے بچہ دانی میں ٹھہرا دیں پھر دونوں صاف پانی سے غسل کریں۔‘‘
منو دھرم شاستر، باب تیسرا، شلوک ۱۹،
’’شودر عورت کے لبوں کا بوسہ لینے، اپنے گالوں کو اس کی سانسوں سے گرم کرنے اور اس میں بیٹا پیدا کرنے کے گناہوں کا کفارہ کسی شاشتر میں لکھا نہیں ہے۔‘‘
دیانند سرسوتی کی کتاب ’’ستیارتھ پرکاش، سملاس چھٹا میں ان سے ایک سوال کیا جاتا ہے کہ اگر عورت حاملہ ہو اور مرد کی جوانی کا عالم ہو، اسے بغیر عورت کے رہا نہ جائے تو کیا کرے؟
دیانند سرسوتی جی جواب دیتے ہیں، اگر حاملہ عورت سے ایک سال بغیر ہمبستری رہا نہ جا سکے تو کسی سے نیوگ کرکے اس کے لئے اولاد پیدا کر دے۔