ملعون وسیم رضوی کا مرچ مسالہ

ملعون وسیم رضوی کا مرچ مسالہ
ملعون وسیم رضوی اپنی کتاب کے صفحہ ۱۰۵ پر لکھتا ہے
’’ایک دلچسپ کہانی ہے کہ محمد کے ذریعے گود لینے کی روایت کو منسوخ کرنے کے بعد ابوحذیفہ اور اس کی بیوی سہلہ محمد کے پاس آئے، ان دونوں کے پاس بھی سالم نام کا ایک لے پالک بیٹا تھا۔ سالم ابو حذیفہ کا آزاد کردہ غلام تھا جسے اس نے لے پالک بنا لیا تھا۔ سہلہ نے محمد سے کہا اے رسول! سالم ہمارے ساتھ ہمارے گھر میں رہتا ہے، وہ جوان ہوگیا ہے، جنسی تعلق کے مسائل کو سمجھنے لگا ہے، محمد نے ایک ہوشیاری بھرا جواب دیتے ہوئے کہا، اسے اپنے پستان سے دودھ پلائو۔ یہ جواب سن کر سہلہ حیران ہوگئی اور پوچھا اسے کیسے دودھ پلا سکتی ہوں وہ بڑا ہوگیا ہے۔ محمد مسکرائے اور بولے، ہاں میں جانتا ہوں، وہ ایک جوان ہے۔ در حقیقت سالم بڑا تھا اس نے جنگ بدر میں حصہ لیا تھا۔ ایک حدیث کہتی ہے کہ محمد سہلہ کی بات سن کر زور سے ہنسا۔ محمد نے یہ بات اس لئے کہی کہ سہلہ اگر سالم کو اپنے پستان سے دودھ پلاتی تو لے پالک بیٹا کا رشتہ ختم ہو جاتا کہ سالم ایک جوان مرد تھا۔‘‘
محترم قارئین! ملعون وسیم رضوی کی بکواس بھری کہانی آپ نے ملاحظہ فرمائی، اس نے کوئی حوالہ بھی نہیں دیا۔ حقیقت کیا ہے؟ واقعہ کیا ہے؟ اصل حدیث عربی متن کے ساتھ آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں تاکہ ملعون وسیم رضوی کا جھوٹ بالکل ظاہر ہو جائے اور آپ جان جائیں کہ ملعون وسیم رضوی کتنا بڑا جھوٹا ہے۔
ملعون وسیم رضوی نے واقعہ تو بیان کر دیا لیکن کوئی حوالہ نہیں دیا اب میں آپ کے سامنے حوالہ پیش کرتا ہوں۔
ابودائود، جلد دوم، صفحہ ۱۱۵، کتاب النکاح، حدیث نمبر ۲۹۳
‏‏‏‏‏‏’’فَجَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيِّ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ الْعَامِرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَهِيَ امْرَأَةُ أَبِي حُذَيْفَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّا كُنَّا نَرَى سَالِمًا وَلَدًا، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ يَأْوِي مَعِي وَمَعَ أَبِي حُذَيْفَةَ فِي بَيْتٍ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَيَرَانِي فُضْلًا، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِمْ مَا قَدْ عَلِمْتَ، ‏‏‏‏‏‏فَكَيْفَ تَرَى فِيهِ ؟ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‏‏‏‏ أَرْضِعِيهِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَرْضَعَتْهُ خَمْسَ رَضَعَاتٍ، ‘‘
ترجمہ: ’’تو سہلہ بنت سہیل ابن عمر و قرشی عابری نے جو حضرت ابوحذیفہ کی بیوی تھیں، حضور اقدس ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم سالم کو اپنا بیٹا سمجھتے تھے۔ وہ میرے اور حضرت ابو خدیفہ کے ساتھ ایک مکان میں رہتا ہے، وہ مجھے گھریلو حالت میں دیکھتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے حکم نازل فرما دیا جو حضور ﷺ کو بخوبی معلوم ہے۔ لہٰذا اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اسے دودھ پلا دو تو انہوں نے پانچ گھونٹ دودھ پلایا۔‘‘
ایک اور حوالہ ملاحظہ فرمائیں تاکہ میں ملعون وسیم رضوی کے دلچسپ جھوٹ کا پردہ چاک کر سکوں۔
طبقات ابن سعد جلد ۸، صفحہ ۳۴۹
’’یزید بن ہارون ان کو خبر دی عبدالعزیز بن عبداللہ بن ابی سلم الزھری نے کہا حضرت سہلہ نے حضور اقدس ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم سالم کو اپنا بیٹا سمجھتے ہیں، وہ ہمارے گھر آتے جاتے ہیں، میں کام کاج کے کپڑوں میں ہوتی ہوں اور وہ مجھے اسی حال میں دیکھتے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا تم اسے پانچ گھونٹ دودھ پلا دو، اب وہ بے کھٹک تمہارے گھر آجاسکتا ہے۔‘‘
طبقات ابن سعد، جلد ۸، صفحہ ۳۴۹ /۳۵۰ میں ہے کہ
’’خبر دی محمد بن عمر نے ان سے حدیث بیان کی محمد بن عبداللہ نے وہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت سہلہ ایک برتن میں اپنا ایک گھونٹ دودھ نکال دیا کرتی تھیں اور سالم اسے پی لیا کرتے تھے، اسی طرح پانچ دن پیتے رہے پھر سالم ان کے پاس آتے جاتے تھے حالانکہ ان کے سر پر دوپٹہ نہیں ہوتا تھا۔ یہ رسول ﷺ کی طرف سے حضرت سہلہ کو رخصت دی گئی تھی۔‘‘
محترم قارئین! ابودائود اور طبقات ابن سعد کے حوالہ سے پورا واقعہ آپ کے ذہن میں آگیا کہ حقیقت کیا ہے اور آپ ملعون وسیم رضوی کی جھوٹی بکواس کو بھی سمجھ گئے ہیں۔
ملعون وسیم رضوی کی جھوٹی باتوں کو اب میں شمار کراتا ہوں۔
جھوٹ نمبر۱:
جنسی تعلق کو سمجھنے لگا ہے۔
جھوٹ نمبر ۲:
محمد نے ہوشیاری بھرا جواب دیا۔
جھوٹ نمبر ۳:
اپنے پستان سے دودھ پلائو۔
جھوٹ نمبر ۴:
سہلہ یہ سن کر حیران ہوگئی۔
جھوٹ نمبر ۵:
محمد سہلہ کی بات سن کر زور سے ہنسا۔
جھوٹ نمبر ۶:
پستان سے دودھ پلائی تو لے پالک کا رشتہ ختم ہو جاتاہے۔
قارئین پر واضح ہوگیا کہ ابودائود اور طبقات ابن سعد میں کہیں بھی یہ سب باتیں نہیں ہے۔
جھوٹا ملعون وسیم لکھتا ہے۔
’’ اپنے پستان سے دودھ پلائو۔‘‘
حدیث کے عربی متن ملاحظہ فرمائیں فارضعتہ خمس رضعات۔ عربی میں رضع مطلق دودھ پلانے کو کہتے ہیں۔ اگر دودھ نکال کر کسی برتن کے ذریعہ پلایا جائے تو اس کو بھی رضع کہتے ہیں خمس رضعات سے واضح ہوگیا کہ پانچ گھونٹ دودھ پلایا جیسا کہ ابن سعد نے بیان کیا ہے۔ اس کے باوجود یہ کہنا کہ اپنے پستان سے پلایا، بہت بڑا اور جھوٹا الزام ہے یہ صرف اور صرف من گھڑت کہانی ہے۔ یہ بھی جھوٹ ہے کہ دودھ پلانا، لے پالک بیٹے کے رشتے کو ختم کرنے کے لئے تھا۔ بلکہ پردہ کا حکم نازل ہوا اس لئے دودھ پلانے کو کہا اور وہ خاص کر حضرت سہلہ کے لئے تھا کہ سالم کی رضاعی ماں ہو جائے اور پردہ کا جو مسئلہ ہے وہ حل ہو جائے۔
جب کسی کو کہا جائے کہ دودھ پلائو تویہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ پستان سے پلایا جائے۔ اس کو نکال کر برتن اور بوتل کے ذریعہ بھی پلایا جاتا ہے۔ ابھی دودھ بینک کا بھی نظام قائم ہوگیا ہے۔ عورتیں وہاں دودھ اکٹھا کرتی ہیں اور اس میں سے ضرورت مند بچوں کو دیا جاتا ہے۔ اگر کہا جائے کہ ان بچوں کو مختلف عورتوں کا دودھ پلایا گیا ہے کیا اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ان بچوں نے اپنا منہ ان عورتوں کی پستان سے لگا کر دودھ پیا ہے؟ نہیں اور ہرگز نہیں! دور حاضر میں گھر بار اور بچوں کی دیکھ بھال کے لئے ملازمہ رکھی جاتی ہے۔ وقت پر ملازمہ بچوں کو نہلاتی ہے، کھانا کھلاتی ہے، ناشتہ کراتی ہے، دودھ پلاتی ہے۔ کیا دودھ پلانے سے کوئی آدمی یہ سمجھے گا کہ ملازمہ نے ان بچوں کو اپنے پستان سے دودھ پلایا ہے؟ نہیں ہرگز نہیں!
لیکن ملعون وسیم رضوی جیسا بے عقل کم ظرف اور جھوٹا ضرور سمجھے گا کہ ملازمہ نے اپنے پستان سے دودھ پلایا ہے۔