ملعون وسیم رضوی کا دماغ ٹھکانے لگا
ملعون وسیم رضوی کتاب کے صفحہ ۱۲۴ پر لکھتا ہے کہ
’’ایمان و عقیدہ، اچھائی و برائی، ا نسانی دماغ کا عطیہ ہے اس بات پر منحصر ہے کہ انسان کو بچپن میں کیسی تعلیم و تربیت ملی یا اس کی پرورش کس طرح ہوئی؟ اس طرح ایمان دماغ میں ہوتا ہے نہ کہ سینے میں لیکن کیا خدائے بزرگ و برتر کے پاس اتنا بھی علم نہیں تھا جسے وہ اپنے فرشتہ کو سکھاتے کہ بیٹا ایمان سینے میں نہیں دماغ میں ہوتا ہے۔
یعنی ملعون وسیم رضوی یہ کہنا چاہتا ہے کہ
’’ اللہ تبارک و تعالیٰ کو چاہئے کہ جبرئیل کو یہ حکم دیتے کہ سینے میں ایمان نہ ڈالو دماغ میں ڈالو کیوں کہ ایمان سینہ میں نہیں بلکہ دماغ میں ہوتا ہے۔‘‘
محترم قارئین! ملعون وسیم رضوی کا مطالعہ اور تعلیم کی وسعت ہاتھ کی ہتھیلی سے زیادہ نہیں ہے۔ تین چیز ہے دل، سینہ اور عقل، دل کا مقام سینہ ہے اور عقل بھی دل کے اندر ہی ہوتی ہے۔
آئیے! لوگوں کی آپسی بات چیت اور گفتگو کا جائزہ لیتے ہیں۔ جب کوئی کسی سے محبت کرتا ہے اور محبت کا یقین دلانا چاہتا ہے تو کہتا ہے میں تم سے دل سے محبت کرتا ہوں۔ یہ نہیں کہتا کہ عقل سے محبت کرتا ہوں۔ اگر کوئی کسی سے ادب و احترام کا ذکر کرتا ہے تو کہتا ہے آپ ہمارے بڑے ہیں، میں دل کی گہرائی سے آپ کا ادب کرتا ہوں، کوئی نہیں کہتا کہ میں عقل کی گہرائی سے آپ کا ادب کرتا ہوں۔
لگائو اور محنت کا تعلق بھی دل سے ہے۔ جب کوئی ملازم اپنے مالک کو اپنی محنت کا یقین دلانا چاہتا ہے تو کہتا ہے میں آپ کے یہاں دل لگاکر کام کرتا ہوں، یہ نہیں کہتا میں عقل لگا کر کام کرتا ہوں۔ اسی طرح اچھائی یا برائی، ایمان و عقیدہ کا تعلق دل سے ہوتا ہے عقل سے نہیں۔ جب کوئی انسان سماج اور سوسائٹی میں نفرت پھیلاتا ہے تو اس کے بارے کہا جاتا ہے اس کے دل میں نفرت بھری ہوئی ہے یہ نہیں کہا جاتا کہ اس کی عقل میں نفرت بھری ہوئی ہے۔ جب دو آدمی گلے ملتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ گلے کے ساتھ ساتھ دل بھی ملنا چاہئے، کوئی یہ نہیں کہتا کہ گلے کے ساتھ ساتھ عقل بھی ملنا چاہئے۔ ایسی ہزاروں مثالیں ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ اچھائی یا برائی کا تعلق عقل سے نہیں دل سے ہوتا ہے لیکن ملعون وسیم رضوی اس کو سمجھ نہیں سکتا کیونکہ نہ اس کے پاس سماج میں محبت پھیلانے والا دل ہے نہ ہی عقل۔