ملعون وسیم رضوی کا دل دماغ غائب

ملعون وسیم رضوی کا دل دماغ غائب
محترم قارئین! دل اور دماغ کے بارے میں مختصر گفتگو پیش کرتا ہوں تا کہ ملعون وسیم رضوی کا دل اور دماغ ٹھکانے لگ جائے۔ قلب جس کو دل کہتے ہیں اس کو ہارٹ بھی کہا جاتا ہے اس کی جگہ سینہ ہے۔
قرآن فرماتا ہے سورہ نمبر ۲۲، آیت نمبر ۴۶،
فانھا لا تعمی الابصار و لکن تعمی القلوب التی فی الصدور۔
ترجمہ: ’’آنکھیں اندھی نہیں ہو جاتی ہیں بلکہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔‘‘
قرآن نے بتا دیا کہ دل کی جگہ سینہ ہے، مسند احمد کی روایت میں ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا تقویٰ یہاں ہوتا ہے اور اشارہ اپنے سینے کی طرف فرما رہے تھے۔ قرآن مقدس میں فتکون لھم قلوب یعقلون بھا۔ سورہ ۲۲، آیت ۴۶،
ترجمہ: ’’تو ان کے پاس دل ہوتے جن سے یہ سوچتے ۔‘‘
قرآن فرماتا ہے:
لھم قلوب لا یفقھون بھا، سورہ اعراف، آیت ۱۷۹
ترجمہ: ’’ان کے پاس دل ہیں مگر اس سے سمجھتے نہیں۔‘‘
قرآن نےیہ واضح کر دیا کہ ایمان کی جگہ انسان کا دماغ نہیں بلکہ دل ہے۔
قرآن کہتا ہے :
وقولو ااسلمنا ولما یدخل الایمان فی قلوبکم
آیت نمبر ۱۴، سورہ الحجرات۔
ترجمہ: ’’اور تم یہ بات کہہ لو کہ ہم نے اسلام قبول کیا ہے ایمان ابھی تک تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔‘‘
شیطان کا وسوسہ انسان کے سینے میں پڑتا ہے۔
قرآن فرماتا ہے:
الذی یوسوس فی صدورالناس۔ سورہ الناس نمبر ۱۱۴، آیت نمبر ۵،
ترجمہ: ’’جو انسانوں کے سینے میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ ‘‘
انسانی و نفسانی خواہشات کی جگہ بھی دل ہی ہے۔ روح کا مرکز انسان کا دل ہے، دماغ نہیں، انسان کی جسمانی حیات کا دارو مدار اس کے دل کی حرکت پر ہے۔ اگر وہ حرکت میں ہے تو زندہ ہے اگر وہ رک گیا تو وہ مرگیا، یہ ممکن نہیں کہ کسی انسان کا دل نکال لیں اور وہ زندہ رہے۔ انسان کے جذبات کی جگہ دل ہے۔ جس طرح آنکھ دیکھنے اور کان سننے کے کام آتے ہیں اسی طرح دل محبت اور نفرت کے کام آتا ہے، اچھائی اور برائی کے کام آتا ہے، انسان اچھا یا برا دل سے کرتا ہے۔
شعب الایمان میں امام بیہقی روایت کرتے ہیں:
’’فی الانسان مضغۃ اذا صلحت صلح لہ سائر جسدہ واذاسقمت سقم لہ سائر جسدہ وھی القلب‘‘
ترجمہ: ’’نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے، اگر وہ گوشت درست ہو جائے تو تمام جسم کی اصلاح خود بخود ہو جائے گی، اگر وہ خراب ہو جائے تو تمام جسم میں فساد برپا ہو جاتا ہے اور وہ دل ہے۔‘‘
حیوانی سطح پر سوچنے کا کام دماغ کرتا ہے اور انسانی سطح پر سوچنے اور غور و فکر کرنے کا کام صرف دل کرتا ہے اگر سانپ کو سالوں دودھ پلایا جائے تب بھی موقع ملنے پر وہ ڈس ہی لے گا کیونکہ اس کی سوچ حیوانی سطح کی ہے۔ شیر کی جتنی خاطر و مدارت کی جائے موقع ملنے پر انسان پر حملہ کر دے گا لیکن انسان کے پاس دونوں چیزیں ہیں اگر انسان دماغ سے حیوانی سطح پر سوچتا ہے تو حیوان سے بدتر ہو جاتا ہے اگر دل سے انسانی سطح پر سوچتا ہے تو سماج اور قوم کے لئے بڑا کارنامہ انجام دیتا ہے۔
محترم قارئین! اب ملعون وسیم رضوی کے بھیجے میںیہ بات گھس گئی ہوگی کہ ایمان دل میں ہوتا ہے نہ کہ دماغ میں۔ ملعون وسیم رضوی واقعہ معراج کو تفصیل سے لکھنے کے بعد لکھتا ہے کہ جو اسلام لائے تو واقعہ معراج کو سن کر مرتد ہوگئے اور وہ یہی باور کرانا چاہتا ہے کہ اسلام لانے کے باوجود مرتد ہوگئے۔