ملعون وسیم رضوی کا اصلی چہرہ

ملعون وسیم رضوی کا اصلی چہرہ
محترم قارئین! یہ تھی ملعون وسیم رضوی کی بکواس جسے آپ نے دیکھا۔ میں قرآن و حدیث اور تاریخ کے حوالے سے تفصیلی گفتگو آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں تا کہ ملعون وسیم رضوی کا اصل چہرہ آپ کے سامنے آجائے۔ اور اس کے چہرے سے مکھوٹا اتر جائے۔ حضرت زینب بنت جحش کی شادی زید کے ساتھ ہونے سے قبل وہ بیوہ ہوچکی تھیں اور ان کے شوہر کا انتقال ہوچکا تھا۔ پھر حضور ﷺ نے اپنے متبنی زید سے ان کا نکاح کرا دیا۔ زینب بنت جحش اس شادی سے راضی نہیں تھی کیونکہ وہ معزز خاندان قریش سے تھی اور زید ایک آزاد کردہ غلام تھے۔ اس زمانے کے رسم و رواج کے مطابق یہ ایک معیوب بات تھی۔ حضور اقدس ﷺ نے مساوات قائم کرنے کے لئے اور اونچ نیچ کو ختم کرنے کے لئے زید کی شادی زینب بنت جحش سے کرانا چاہا تو آپ کے کہنے پر زینب بنت جحش راضی ہوگئیں، زید کے ساتھ زینب کا نکاح ثانی تھا، دونوں کے درمیان ازدواجی زندگی خوشگوار نہیں تھی، جب زید نے طلاق دینا چاہا تو حضور ﷺ نے اسے سمجھایا کہ طلاق نہ دو جیسا کہ قرآن کی سورہ احزاب آیت نمبر ۳۷ میں ہے۔
’’اور تم جب اس شخص سے جس پر خدا اور تم نے احسان کیا تھا یہ کہتے تھے کہ اپنی بیوی کو نکاح میں لئے رہو اور خدا سے خوف کرو۔‘‘
طبقات ابن سعد میں زینب بنت جحش کی شادی کا واقعہ بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
طبقات ابن سعد جلد ۸، صفحہ ۱۳۵ پر ہے کہ
’’خبر دی محمد بن عمر نے حدیث بیان کی عمر بن عثمان جحشی نے وہ بیان کرتے ہیں عثمان سے کہ نبی کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو حضرت زینب بھی آپ کے ساتھ ہجرت کرکے مدینہ آئیں۔ رسول خدا ﷺ نے زید بن حارثہ کے لئے آپ پر پیام ڈالا، زینب بولیں یا رسول اللہ! میں انہیں اپنے لئے پسند نہیں کرتی اور میں قریش کی بیوہ ہوں، آپ نے فرمایا: میں انہیں تمہارے لئے پسند کرتا ہوں پھر آپ نے زید سے ان کا نکاح کرا دیا۔‘‘
اسلامک اسکالر ڈاکٹر رفیق زکریا اپنی کتاب ’’محمد اور قرآن‘‘ جو ملعون رشدی کی کتاب شیطانی آیات کے رد میں لکھی ہے، اس کتاب کے صفحہ ۱۱۴ پر لکھتے ہیں کہ
’’جب حضور ﷺ نے حضرت زینب سے شادی کی ان کی عمر ۳۸ ؍سال تھی، یہ الزام کہ طلاق کے لئے رسول اکرم ﷺ ذمہ دار تھے ایک نہایت ہی بے بنیاد روایت پر مبنی ہے۔ اس سے زیادہ دروغ گوئی اور افترا کی مثال ملنا مشکل ہے۔ حضرت محمد ﷺ کے لئے زینب کوئی اجنبی خاتون نہیں تھیں، وہ آپ کی پھوپھی کی صاحبزادی تھیں، آپ انہیں بچپن سے ہی جانتے تھے، حضرت زینب کے بیوہ ہوجانے کی وجہ سے آپ ان کی زندگی کی بحالی کے خواہش مند تھے۔ اگر آپ ان کے حسن و جمال سے متاثر ہوتے تو حضرت زید سے شادی کرنے کے بجائے خود اپنے نکاح میں لاسکتے تھے۔ حضرت زینب ہمیشہ اس بات پر افسوس کرتی تھیں کہ ان کی شادی ایک غلام کے ساتھ کردی گئی تھی، وہ اپنے شوہر کو کمتر درجے کا آدمی سمجھتی تھیں اور ان سے اسی طرح کا برتائو رکھتی تھیں۔ حضرت زید نے کئی بار حضور اکرم ﷺ سے ان کے توہین آمیز رویہ کی شکایت بھی کی لیکن حضور ﷺ نے ان کو ہمیشہ صبر کی تلقین فرمائی۔‘‘
محترم قارئین! مذکورہ بالا حوالوں سے واضح ہو گیا ہے کہ ملعون وسیم رضوی کی تمام باتیں جھوٹی ہیں۔ آئیے اس کے جھوٹ کا جائزہ لیتے ہیں۔
جھوٹ نمبر ۱:
’’بہو کے ساتھ صحبت‘‘
تبصرہ: جب زید نے طلاق دے دی تو اب بہو کہاں رہی؟ ہر مذہب کا الگ الگ رسم و رواج اور قانون ہے۔ اسلامی قانون میں متبنٰی بیٹے کی بیوی صلبی بیٹے کی بیوی کی طرح حرام نہیں ہے۔ صلبی بیٹے کی بیوی ہمیشہ کےلئے حرام ہے جیسا کہ سورہ نسا کی آیت نمبر ۲۳ میں ہے وابنائکم الذین من اصلابکم اور تمہارے نسلی بیٹوں کی بیویاں۔
یہ بات واضح ہوگئی کہ اسلامی قانون کے مطابق متبنی بیٹے کی بیوی اور صلبی بیٹے کی بیوی میں فرق ہے۔ اسلامی قانون کے مطابق متبنیٰ بیٹا جائیداد میں حقدار نہیں ہوتا۔ یہ اسلام کا ایک ضابطہ ہے دوسرے مذاہب میں بھی کچھ ضابطے ہیں۔