معمولات زندگی
آپ نے اپنے اوقات کئی حصوں میں تقسیم کر رکھے تھے۔ایک حصہ عبادت الٰہی کے لئے۔ ایک حصہ مخلوق خداوندی کے لئے اور ایک حصہ اپنی ذات اور اہل وعیال کے لئے۔ فجر کی نماز کے بعد مصلے پر بیٹھ جاتے، لوگ اپنی حاجتیں اور ضروریات پیش کرتے۔ آپ ہر ایک کی ضروریات پوری کرتے، لوگوں کو مسائل و احکام بتاتے۔ اسلام کی تلقین کرتے۔ خوابوں کی تعبیر فرماتے۔ کبھی کبھی زمانہ جاہلیت کے حالات پر گفتگو کرتے۔ مال غنیمت تقسیم کرتے۔ جب سورج خوب بلند ہو جاتا، نماز چاشت کبھی چار رکعت کبھی آٹھ رکعت ادا فرماتے۔ پھر ازواج مطہرات کے حجروں میں تشریف لے جاتے اور گھریلو ضروریات میں مصروف ہوتے، گھریلو کاموں میں ازواج کی مدد بھی فرماتے۔
عصر کی نماز کے بعد تمام ازواج سے ملاقات کرتے تھوڑی دیر ٹھہرتے ہر ایک سے گفتگو کرتے، نماز عشاء کے بعد مسجد سے واپس آکر آرام فرماتے، عشاء کے بعد زیادہ بات چیت کرنا آپ کو ناپسند تھا۔ سونے سے قبل قرآن مجید کی کچھ سورتیں تلاوت کرتے ۔سونے کی دعا پڑھ کر داہنی کروٹ لیٹ جاتے۔ آدھی رات کے بعد بستر سے اُٹھ جاتے، مسواک کرکے وضو کرتے، عبادت میں مشغول ہو جاتے، تہجد ادا فرماتے، تہجد کے بعد وتر پڑھتے، پھر صبح صادق کے بعد سنت فجر ادا فرما کر فجر کے لئے مسجد تشریف لے جاتے۔
مسجد میں کبھی پائوں پھیلا کر نہیں بیٹھتے ،جو آپ کے سامنے آتا سلام کرنے میں پہل کرتے، ملاقاتیوں سے مصافحہ فرماتے، کبھی ملاقاتیوں کے لئے اپنی چادر بچھا دیتے، کبھی مسند پیش کرتے۔
آپ نہایت سنجیدگی کے ساتھ گفتگو فرماتے۔ آپ کا کلام صاف اور واضح ہوتا کہ سننے والا آسانی سے سمجھ لیتا۔ آپ بلا ضرورت گفتگو نہیں فرماتے بلکہ اکثر خاموش رہتے تھے۔ آپ کی مجلس تخت و تاج نقیب و دربان سے پاک ہوتی۔ ہر ایک کو اس میں آنے کی اجازت تھی۔
ایک چٹائی بچھا کر اس پر رونق افروز ہوتے تھے۔ اپنے پاس آنے والوں میں سب سے پہلے ضرورت مندوں کی طرف توجہ فرماتے، سب کی درخواستوں کو سنتےقبیلوں کے نمائندوں سے بات کرتے۔ آپ کی بارگاہ میں سبھی ہمہ تن گوش رہتے۔ مجلس نبوی میں آنے والوں کے لئے کوئی روک ٹوک نہیں تھی ۔امیر و فقیر، شہری و دیہاتی اپنے اپنے لب و لہجہ میں سوال کرتے ۔آپ ہر ایک کو شفقت کے ساتھ جواب دیتے۔ مخصوص صحابہ سے صلاح ومشورہ بھی کرتے۔صلح و جنگ، امت کے نظام و انتظام کے بارے میں احکام بھی جاری کرتے۔ مقدمات کا فیصلہ بھی فرماتے۔