معجزۂ شق القمر
اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَ االنْشَقَّ الْقَمَرُ وَ اِنْ یَّرَوْا اٰیٰۃً یُّعْرِضُواْ وَ یَقُولُوا سِحْرٌ مُسَتَمِرٌ وَ کَذَّبُواْ وَ اتَّبَعُواْ اَہْوَائَہُمْ وَ کُلَّ اَمْرٍ مُسْتَقِرٌ (پارہ ۲۷،رکوع۱)
ترجمہ: پاس آئی قیامت اور شق ہو گیا چاند اور اگر کوئی نشانی دیکھتے تو منہ پھیر لیتے اور کہتے ہیں کہ یہ تو جادو ہے جو لگاتار چلا آتا ہے اور انہوں نے جھٹلا دیا اور اپنی خواہشوں کے پیچھے چلے اور ہر کام قرار پا چکا ہے۔
برادران اسلام اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضور سیدِ عالم ﷺ کو بے شمار معجزات عطا فرمائے قرآن مقدس بھی ایک معجزہ ہے جتنے معجزات کا ظہور سیدِ عالم علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ہوا کسی دسرے رسول سے نہیں ہوا کفار مکہ نے حضور ﷺ سے معجزہ طلب کیا تو آپ نے چاند کو دو ٹکڑا کرکے دکھا دیا ایک ٹکڑا جبل ابو قبیس پر نظر آیا اور دوسرا ٹکڑا جبل قعیقعان پر دیکھا گیا اس طرح سیدِ عالم ﷺ نے چاند کو دو ٹکڑا کرکے کفار مکہ کو دکھایا اور فرمایا کہ تم گواہ ہو جاؤ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس موقع پر موجود تھے انہوں نے معجزہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ان کا بیان ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے میں چاند د ٹکڑے ہو گیا ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر اور ایک ٹکڑا پہاڑ کے نیچے نظر آرہا تھا آپ نے کفار مکہ کو یہ منظر دکھا کر ان سے ارشاد فرمایا گواہ ہو جاؤ گواہ ہو جاؤ۔
یہ دیکھ کر کفار مکہ نے کہا کہ محمد (علیہ الصلوٰۃ والسلام) نے جادو کرکے ہماری نظر بندی کر دی ہے اس پر انہیں کی جماعت کے لوگوں نے کہا کہ اگر یہ نظر بندی ہے تو مکہ کے باہر کسی آدمی کو چاند کے ٹکڑے نظر نہ آئے ہوںگے لہذا اب باہرسے آنے والے قافلہ سے پوچھو تو انہوں نے کہا ہاں ہم نے فلاں دن چاند کے دو ٹکڑے دیکھے تھے اب کفار مکہ کو انکار کی کوئی گنجائش نہیں رہی لیکن کفار اپنی عداوت اور دشمنی میں اسے جادو ہی کہتے رہے۔
اللہ تبارک تعالیٰ نے اس واقعہ کو اور معجزۃہ شق القمر کو قرآن مقدس کے سورہ قمر میں علی الاعلان ذکر فرمایا ہے تاکہ کوئی اسے جاد نہ کہہ سکے۔