مصیبت مومن کے لیے نعمت ہے
وَمَا اَصَابکُمْ مِّن مُصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ وَیَعْفُواْ عَنْ کَثِیْر(پارہ۱۵،رکوع۵)
ترجمہ: اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ اس کے سبب سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایا۔
آیت مذکورہ کا مفہوم یہ ہے کہ دنیا کی جو تکلیفیں اور مصیبتیں مومنین کو پہنچتی ہیں اکثر ان کا سبب ان کے گناہ ہوتے ہیں ان تکلیفوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ ان گناہوں کا کفارہ کر دیتا ہے اور کبھی مومنوں کی تکلیف ان کے درجات بلند ہونے کا سبب بن جاتی ہے قیامت کے دن مصیبت زدہ مسلمانوں کو بلا کر اللہ تعالیٰ اس کی مصیبت و تکلیف کے بدلے میں درجات وانعامات عطا فرمائے گا تو ان کے انعامات و اکرام کو دیکھ کر دنیا میں عیش و آرم کی زندگی گزارنے والے افسوس کے ساتھ کہیںگے کاش ہم کو دنیا میں آرا سے کاٹا جاتا تو بھی اچھا ہوتا کہ اس کے بدلے میں یہاں انعام و اکرام ملتا۔
حضور سیدِ عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ رب تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے کہ جس بندے پر میں نے ایک بیماری نازل کی اس نے اس پر صبر کیا اور لوگوں سے اس کی شکایت نہیں کی تو اگر میں اس کو صحت دوں تو اس سے بہتر گوشت پوست اس کو دوںگا اور اگر دنیا سے اٹھاؤںگا تو اپنی رحمت کاملہ کے سایہ میں رکھوںگا۔
حضرت خواجہ جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ جس دن کسی درد یا تکلیف یا کسی مصیبت میں مبتلا ہوتے تو شکرانہ میں اس روز ہزار رکعت نماز ادا کرتے۔
برادرانِ اسلام مومن کے لیے مصیبت اور تکلیف بڑی اچھی چیز ہے جو انسان کو گناہوں سے پاک کرتی ہے حضرت رابعہ بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی یہ عادت تھی کہ بڑی خواہش اور چاہت سے بیماری اور درد کی التجا کرتیں اور جس روز بخار، درد، اور تکلیف میں مبتلا نہ ہوتیں تو بارگاہ الٰہی میں عرض کرتیں اے پروردگار! شاید تو اس بڑھیا کو بھول گیا ہے جو آج تکلیف نازل نہ فرمائی۔
پیارے بھائیو! اگر کوئی مصیبت پہنچے تو لوگوں سے اس کی شکایت نہ کریں اس سے اس کا اجر ختم ہو جاتا ہے بلا شبہ مصیبت پر صبر کرنا اللہ کی رضا پر راضی ہونا ہے۔