مزدور اور خادم کے آداب/Mazdoor Auar Khadim Ke Aadab

مزدور اور خادم کے آداب
از ـقلم: مفتی محمد ابراہیم آسی
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا آدمی اپنے اہل و عیال اور خادم پر جو خرچ کرے وہ صدقہ ہے ۔( ابن ماجہ شریف)
پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، مزدور سے ان کی طاقت سے زیادہ کام نہ لو۔ ( بخاری شریف)
نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، جب کسی مزدور کو اجرت پر رکھو اس کی مزدوری پہلے بتا دو ۔(نسائی شریف)
آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایا، اللہ تعالی فرماتا ہے قیامت کے دن میں اس کو سخت سزا دوں گا جس شخص نے کوئی مزدور اجرت پر لیا اسے پورا کرلیا لیکن اس کی اجرت نہ دی۔ (بخاری شریف)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مزدور کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی مزدوری ادا کرو۔ (ابن ماجہ شریف)
پیارےآقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاحضرت موسی علیہ السلام نے دس سال تک حضرت شعیب علیہ السلام کی مزدوری کی۔ (ابن ماجہ)
سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے،نوکروں اور خادموں کے بارے فرمایاکہ وہ تمہارے بھائی ہیں ، جس کو خدا نے تمہارے ماتحت کر رکھا ہے تو چاہئے اس کو وہی کھلائے جو خود کھائے، اس کو ایسا کام نہ سونپے جو اس کے لئے دشواری ہو۔ (بخاری شریف)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مزدوروں اور نوکروں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا باعث برکت ہے ،
اور بد اخلاقی سے پیش آنا نحوست ہے ۔( ابوداؤد شریف )
ایک شخص نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں کتنی بار اپنے خادموں اور نوکراں کو معاف کروں ۔ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزانہ سترمرتبہ۔ (ترمذی شریف )