مذہبی جنگ یا جہاد

مذہبی جنگ یا جہاد
مذہبی جنگ یا جہاد کے پس منظر پر غور کیا جائے تو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ اس سے ظلم و ستم کا خاتمہ ہوتا ہے، مظلوموں کو انصاف ملتا ہے اور اس میں انسانیت کی بقا ہے۔ مذہبی جنگ یا جہاد کو دہشت گردی سے منسوب کرنا انتہائی نادانی اور کم فہمی ہے۔ دہشت گردی اور مذہبی جنگ یا جہاد میں کوئی مماثلت نہیں۔ دہشت گردی انسانیت کے لئے خطرہ ہے جب کہ مذہبی جنگ یا جہاد انسانیت کا محافظ ہے، اس لئےجہاد کو دہشت گردی سے جوڑا نہیں جا سکتا ہے۔
ملعون وسیم رضوی نے اپنی کتاب کے صفحہ ۳۹ سے لے کر صفحہ ۴۳ تک قرآن مقدس کی ۲۴؍ آیتوں کا ذکر کیا ہے جس میں کچھ آیتوں میں جہاد کا ذکر ہے، کسی میں منافقوں کے بارے میں بتایا گیا ہے، کسی میں جہنم کے عذاب کا ذکر ہے، کسی میں جنت کے عیش و آرام کا ذکر ہے۔ ان میں سے چند آیات کا ترجمہ آپ ملاحظہ فرمائیں۔
(۱) اللہ کافر لوگوں کو راستہ نہیں دکھاتا۔
(۲) اے ایمان والو! انہیں اور کافروں کو اپنا دوست نہ بنائو، اللہ سے ڈرتے رہو اگر ایمان والے ہو۔
(۳) تو جو کچھ غنیمت کا مال تم نے حاصل کیا اسے حلال اور پاک سمجھ کر کھائو۔
(۴) یہ بدلہ ہے اللہ کے دشمنوں کا (جہنم کی آگ) آگ اس میں ان کا ہمیشہ کا گھر ہے اس کے بدلے میں کہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے ہیں۔
(۵) پھر ہم نے ان کے درمیان قیامت کے دن تک کے لئے دشمنی اور بدنیتی کی آگ بھڑکا دی اور اللہ جلد انہیں بتادے گا جو کچھ وہ کرتےرہے ہیں۔
(۶) تو یقیناً ہم کفر کرنے والوں کو اذیت کا مزہ چکھائیں گے اور بلاشبہ ہم انہیں سب سے بڑا بدلہ دیں گے اس کام کا جو وہ کرتے تھے۔
(۷) اللہ نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کیا ہے جو تمہارے ہاتھ آئیں گی۔
(۸) اے نبی! ایمان والوں کو لڑائی کی ترغیب دو اگر تم میں سے بیس ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو وہ دوسو پر غلبہ حاصل کریں گے اور اگر تم میں سے سو ہوں تو ایک ہزار کافروں پر بھاری ہوں گے کیوں کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ بوجھ نہیں رکھتے۔
(۹) اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جسے اس کے رب کی آیتوں کے ذریعہ بتایا جائے پھر وہ منہ پھیر لے بے شک ہمیں ایسے مجرموں سے بدلہ لینا ہے۔
(۱۰) کوئی مشکل نہیں اللہ نے ایمان والوں سے ان کی جانوں اور ا ن کے مالوں کو اس کے بدلے میں خرید لیا ہے کہ ان کے لئے ’’جنت‘‘ ہے، وہ اللہ کے راستے میں لڑتے ہیں تو مارتے بھی ہیں اور مارے بھی جاتے ہیں۔
محترم قارئین ! مذکورہ بالا احکام کی مماثلت دوسرے مذاہب کی مذہبی کتاب، یجروید، منو اسمرتی، منو دھرم شاشتر، اتھروید، ستیہ پرکاش، رگ وید وغیرہ میں بھی ملتی ہیں۔ آپ ملاحظہ کریں، خود فیصلہ کریں کہ مذہبی جنگ اور جہاد کا حکم ان مذہبی کتابوں میں بھی ہے یا نہیں۔