مدارس اسلامیہ

مدارس اسلامیہ
مفتی محمد ابراہیم آسی ۔جامعہ قادریہ اشرفیہ ممبئی
بلا شبہ مدارس اسلامیہ دین واسلام کی ترویج واشاعت کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس کے ذریعے تحریری تقریری تبلیغی خدمات انجام دئیے جاتے ہیں ۔آج اسلامی ممالک اور غیر اسلامی ممالک میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں حفاظ،قراء علماء محدثین و مفتیان کرام میں اپنے اپنے طریقے دینی خدمات پر مامور ہیں ۔یہ سب کے سب مدارس اسلامیہ کے پروردہ ہیں ۔یہ مدارس اسلامیہ کی منت ہے کہ اس کے ذریعے ایسے سپاہی پیدا کئے جاتے ہیں کہ اگر اسلام پر حرف آئے تو یہ تن من دھن سے اس میدان میں ا پنی قربانی پیش کرتے ہیں۔ مدارس کی تاریخ بہت ہی قدیم ہے اگر یوں کہا جائے تو حقیقت پر مبنی ہوگا کہ عہد نبوی میں مسجد نبوی صحابہ کرام کے لئے مدرسہ تھا ۔جہاں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم درس دیا کرتے تھے۔ اگرچہ بعد میں اس کی نوعیت بدل گئی ۔نصاب ترتیب دیا گیا درس وتدریس کے اندازبدل گئے مگر مقصد وہی ہے کہ قرآن واحادیث کی تعلیم عام کی جائے۔ دینی معلومات فراہم کئے جائیں۔اور یہ سلسلہ صحابہ کرام تابعین تبع تابعین کے دور سے لے کر آج جاری وساری ہر دور میں ہزاروں کی تعداد میں طلبہ شوق اور جذبہ کے ساتھ تعلیم حاصل کرتے رہے دینی تعلیم کو فروغ دیتے رہے دور حاضر میں بھی کثیر تعداد میں طلبہ دینی مدارس میں زیر تعلیم ہیں۔لیکن زمانہ کے ساتھ ذہن افکار میں بھی تبدیلی آئی اور معیار تعلیم میں بھی گراوٹ آئی ہے۔ خلوص وجذبہ کا بھی فقدان نظر آتا ہے۔ سابقہ دور کی طرح اساتذہ میں شفقت پدری اور طلبہ میں ادب واحترام نہیں پایا جاتا ۔بارہا کا مشاہدہ رہا ہے کہ کتنے طلبہ اپنی تعلیم مکمل کئے بغیر پڑھائی چھوڑ دیتے ہیں ذریعہ معاش میں لگ جاتے ہیں۔ اس کے بھی چند وجوہات ہیں کچھ تو ایسے ہوتے ہیں جن کے اہل خانہ معاشی حالات سے دوچار ہوتے ہیں۔ معاشی تنگی ان کے ذہن وفکر میں منفی اثرڈالتی ہے۔ پھر وہ تعلیم کو مکمل کئے بغیر کسب معاش میں لگ جاتا ہے۔ کوئی طلبہ اس لئے تعلیم چھوڑ دیتا ہے کہ گھر کے حالا ت توٹھیک ہوتے ہیں لیکن مال وزرکے حصول کی خواہش ترک تعلیم کا سبب بنتا ہے۔ طلبہ کی بے رغبتی کا سبب اس دور حاضرمیں موبائل کا عام ہونا بھی ہے۔ ایک بڑے مشہورادارے کا مدرس اور ناظم ہونے کی وجہ سے مجھے ذاتی تجربہ ہے کہ بالخصوص ملٹی میڈیا موبائل طلبہ کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے ۔کیو ں کہ ملٹی میڈ یا مو با ئل تعلیمی اخلاقی اور تضیع اوقات کا سبب ہے۔ اس میں مخرب اخلاق مواد آسانی سے فراہم ہوجاتا ہے۔ اور اس میں انٹر نیٹ کا کنکشن اوربھی زہر قاتل ہے۔ اس میں فلم بینی، فحش پیغامات کاحصول وار سال سے ذہنی لطف اندوزی ،فلمی گانے سننا وغیرہ ۔ ماضی بعید میں فلم بینی انتہائی دشوار گذار کام تھا۔ لیکن ملٹی میڈیا موبائل نے یہ کام بے حد آسان کردیا ہے۔ اب گھر بیٹھے آسانی کے ساتھ اس کام کو انجان دیا جا رہا ہے۔ ان سب باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ طلبہ کے لئے ملٹی میڈیا موبائل بے حد نقصان دہ ہے ۔ کچھ طلبہ تو موبائل کےایسے عادی ہوجاتے ہیں تعلیم اور مدرسہ دونوں ترک کردینے کو تر جیح دیتے ہیں۔ کئی طلبہ نے اسے عملی جامہ بھی پہنایا اور ارباب مدارس کو اس پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کچھ طلبہ کے حاشیہ ذہن میں یہ بات پر ابھرتی ہے کہ فراغت کے بعد درس وتدریس اور امامت کی جگہ نہ ملی تو کیا کریںگے ۔جس کی وجہ سے ذہنی تناؤ کا شکار ہونا لازم ہے ۔ضرورت اس بات کی ارباب دانش اس جانب بھی اپنی توجہ دیں۔ مدارس میں عصری علوم کا بھی اہتمام ہونا چاہئے ۔اور علم کے ساتھ ساتھ ہنر سکھانے کا بندو بست بھی ہوناچاہئے تاکہ طلبہ کا ذہن کسب معاش کے فکر سے بے فکر ہوجائے۔ دور جدید میں درس نظامیہ کا نصاب پر بھی نظر ثانی کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ فلسفہ اور منطق کی تعلیم نصاب سے ختم تو نہ کیا جائے۔ لیکن کم ضرور کر دیاجائے اس کی جگہ عصری علوم کو شامل کیا جائے تاکہ طلبہ عصری اور دینی دونوں علوم سے آراستہ ہوں۔ طلبہ کو وقتا، فوقتا،تصوف کا بھی درس دیا جائے تاکہ دنیا کی دولت کی لالچ کا خیال ذہن وفکر میں جگہ نہ بنا سکے۔ توکل علی اللہ، کامل ہوجائے ۔اور مخرب اخلاق موادسے ذہن وفکر صاف ہوجائے تاکہ خلوص اور دلجمعی کے ساتھ دینی تعلیم حاصل کرے۔ اور خدمت دین کا جذبہ لیکر مدارس سے باہر قدم رکھے۔ اسلاف کرام کی زندگی سے انہیں روشناس کرایا جائے۔ اورانہیں بتایاجائے کہ اسلام کے تحفظ اور بقاء کے لئے یہی مدارس کے پروردہ اپنی جان کی بازی لگاتے تھے بڑی سے بڑی سلطنت اور حکومت انہیں خرید نے سے قاصر اور عاجز تھی ۔ قوم وملت کے سر کردہ افراد اس جانب اپنی توجہ دیں۔ مدارس اور اس کے طلبہ کے لئے ایک مضبوط اور صحت مند ماحول تیار کریں۔ کہ دور حاضر کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے دینی خدمات انجام دے سکیں،